بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لباس

عمامہ‌سنتِ‌نبوی‌اور‌اس‌کی‌ترغیب

سوال:۔

دِل چاہتا ہے کہ دِینی مدارس میں ہر طالبِ علم پر یہ پابندی ہو کہ سر پر عمامہ باندھنا ان کے لئے لازمی ہو۔ آقائے دو عالم سرکارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارک ہے اور دِینی مدارس کے طالبِ علم بھی اس کی پابندی کرسکتے ہیں۔ نظروں کے لئے بہت ہی خوشگوار منظر ہوگا کہ ہر جماعت میں، ہر درس میں بیٹھے ہوئے، ہر طالبِ علم کے سر پر تاج مبارک رکھا ہوا ہو، نماز میں بھی سیکڑوں حضرات مولا کے حضور اس تاج کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اُمید ہے کہ جب یہ طالبِ علم اپنے کسی کام سے بازاروں میں سر پر یہ تاج مبارک رکھے ہوئے اِدھر اُدھر جائیں گے تو آقائے دو عالم سروَرِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ کے صدقے ربّ کریم کی ہزاروں رحمتیں شہر کی گلی گلی برسیں گی۔ رَبِّ کریم کو تو اپنے حبیب کی ہر ادا پر پیار آتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بعید نہیں کہ ایک سنت کے صدقے ہماری ہدایت و نجات کا فیصلہ فرمادیں۔

جواب:۔

ماشاء اللہ! بہت مبارک تحریک ہے، مدارسِ عربیہ کے طلبہ کو اس کی پُرزور ترغیب دی جانی چاہئے اور صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت مبارکہ کو زندہ کریں اور عمامہ سنت کی نیت سے سر پر باندھا کریں۔