بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لباس

پگڑی‌کی‌شرعی‌حیثیت‌اور‌اس‌کی‌لمبائی‌اور‌رنگ

سوال:۔

ایک شخص سنت کی وجہ سے پگڑی باندھتا ہے، مگر گھر والے اور دوست سب بُرا منائیں اور تنگ کریں تو وہ کیا کرے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ اس کی موجودہ پیمائش کیا ہے؟

جواب:۔

پگڑی باندھنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے،(۱) اس کو بُرا سمجھنا بہت ہی غلط بات ہے۔ باندھے تو ثواب ہے، نہ باندھے تو گناہ نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دستار مبارک دو طرح کی تھیں، ایک چھوٹی اور ایک بڑی۔ چھوٹی تقریباً تین گز کی اور بڑی تقریباً پانچ گز کی، لیکن کسی روایت میں دستار کی لمبائی منقول نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سفید لباس کو پسند فرماتے تھے،(۲) اس لئے سفید عمامہ بھی پسندیدہ ہے، اور سفر کے دوران سیاہ عمامہ بھی استعمال فرمایا۔(۳)

  1. (۱) کانت لہ عمامۃ تسمّی السحاب، کساھا علیًّا، وکان یلبسھا ویلبس تحتھا القلنسوۃ، وکان یلبس القلنسوۃ بغیر عمامۃ، ویلبس العمامۃ بغیر قلنسوۃ۔ (زاد المعاد فی ھدی خیر العباد ج:۱ ص:۱۳۵، طبع مؤسسۃ الرسالۃ)۔
  2. (۲) عن سمرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ألبسوا من ثیابکم البیاض فإنھا أطھر وأطیب ۔۔۔إلخ۔ (سنن نسائی ج:۲ ص:۲۹۷، باب الأمر بلبس البیض من الثیاب)۔
  3. (۳) عن جابر أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: دخل یوم فتح مکۃ وعلیہ عمامۃ سوداء بغیر إحرام۔ (سنن نسائی ج:۲ ص:۲۹۹، باب لبس العمائم السود)۔