لباس
لباسکےشرعیاَحکام
سوال:۔
مردوں اور عورتوں کے لئے بالوں کی تراش خراش میں کوئی پابندی ہے؟ اسی طرح ان کے لباس کے متعلق کیا کوئی خصوصی ہدایات شریعت نے دی ہیں؟
جواب:۔
سر کے بالوں کے لئے کسی خاص وضع یا تراش کی پابندی شریعت نے نہیں لگائی، البتہ کچھ حدود ایسی ضرور مقرّر کی ہیں کہ ان کے خلاف کرنا ممنوع ہے، ان حدود میں رہتے ہوئے آدمی جو وضع چاہے اختیار کرسکتا ہے، وہ حدود یہ ہیں:
۱- اگر بال منڈوائیں تو پورے سر کے منڈوائیں کچھ حصے کے منڈوانا اور کچھ کے نہ منڈوانا ممنوع ہے۔(۱)
۲- بالوں کی وضع میں کافروں اور فاسقوں کی نقالی اور مشابہت اختیار نہ کی جائے۔(۲)
۳- مرد، عورتوں کی وضع کے اور عورتیں مردوں کی وضع کے بال نہ رکھیں۔(۳)
۴- بال بڑے رکھے ہوں تو ان کو صاف ستھرا رکھیں، تیل لگایا کریں اور حسبِ ضرورت کنگھا بھی کیا کریں۔(۴) بال بکھرے ہوئے نہ ہوں، مگر بالوں کو ایسا مشغلہ بھی نہ بنائیں کہ وہ تکلف اور تصنع میں داخل ہوجائے۔(۵)
۵- ننگے سر نہ پھریں۔(۶)
۶- سفید بالوں پر سیاہ خضاب کرنا ممنوع ہے، کسی اور رنگ کا خضاب کرسکتے ہیں۔(۷) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول بال رکھنے کا تھا، کبھی کانوں کے نصف تک ہوتے تھے، کبھی کانوں کی لَو تک، اور کبھی کاندھوں تک۔(۸)
لباس کے متعلق بھی اُصول تو وہی ہے جو بالوں کے بارے میں بیان ہوا کہ کسی خاص تراش یا وضع کی پابندی شریعت نے نہیں لگائی، البتہ کچھ حدود اس کی بھی مقرّر کی ہیں، ان سے تجاوز نہ ہونا چاہئے، وہ حدود یہ ہیں:
۱- مرد شلوار، تہبند اور پائجامہ وغیرہ اتنا نیچا نہ پہنیں کہ ٹخنے یا ٹخنوں کا کچھ حصہ اس میں چھپ جائے۔(۹)
۲- لباس اتنا چھوٹا، باریک یا چست نہ ہو کہ وہ اعضاء ظاہر ہوجائیں جن کا چھپانا واجب ہے۔(۱۰)
۳- لباس میں کافروں اور فاسقوں کی نقالی اور مشابہت اختیار نہ کریں۔(۱۱)
۴- مرد زنانہ لباس اور عورتیں مردانہ لباس نہ پہنیں۔(۱۲)
۵- اپنی مالی استطاعت سے زیادہ قیمت کے لباس کا اہتمام نہ کریں۔(۱۳)
۶- مال دار شخص اتنا گھٹیا لباس نہ پہنے کہ دیکھنے والے اسے مفلس سمجھیں۔(۱۴)
۷- فخر و نمائش اور تکلف سے اجتناب کریں۔(۱۵)
۸- لباس صاف ستھرا ہونا چاہئے، مردوں کے لئے سفید لباس زیادہ پسند کیا گیا ہے۔(۱۶)
۹- مردوں کو اصلی ریشم کا لباس پہننا حرام ہے۔(۱۷)
۱۰- خالص سرخ لباس پہننا مردوں کے لئے مکروہ ہے، کسی اور رنگ کی آمیزش ہو، یا دھاری دار ہو تو مضائقہ نہیں،(۱۸)واﷲ اعلم!
- (۱) عن نافع عن ابن عمر قال: سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ینھٰی عن القزع، قیل لنافع: ما القزع؟ قال: یحلق بعض رأس الصبی ویترک البعض۔ متفق علیہ۔ والحق بعضھم التفسیر بالحدیث۔ وعن ابن عمر ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم أری صبیًّا قد حُلق بعض رأسہ وترک بعضہ فنھاھم عن ذالک وقال احلقوا کلہ واترکوا کلہ۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۳۸۰، باب الترجل الفصل الأوّل)۔ وفی الذخیرۃ ۔۔۔ ویکرہ القزع وھو أن یحلق البعض ویترک البعض قطعًا۔ (ردالمحتار ج:۶ ص:۴۰۷، کتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی البیع)۔
- (۲) قال صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ لَا تشبھوا بالیھود ولَا بالنصاریٰ۔ (سنن ابن ماجۃ ص:۹۹، ترمذی ج:۲ ص:۹۹)۔ أیضًا: وفی الذخیرۃ ولَا بأس أن یحلق رأسہ وسط رأسہ ویرسل شعرہ من غیر أن یفتلہ وإن فتلہ فذالک مکروہ لأنہ یصیر مشبھًا ببعض الکفرۃ والمجوس فی دیارنا یرسلون الشعر من غیر فتل ولٰـکن لَا یحلقون وسط الرأس بل یجزون الناصیۃ تاترخانیۃ ۔۔۔ ویکرہ القزع وھو أن یحلق البعض ویترک البعض قطعًا مقدار ثلاثۃ أصابع کذا فی الغرائب۔ (ردالمحتار ج:۶ ص:۴۰۷، کتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی البیع)۔
- (۳) وعن ابن عباس قال: لعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم المخنثین ۔۔۔ أی المتشبھین بالنساء من الرجال فی الزی واللباس والخضاب والصوت والصورۃ والتکلم ۔۔۔ والمترجِّلات، بکسر الجیم المشددۃ أی المتشبّھات بالرجال من النساء، زیّا وھیئۃ ومشیۃ ورفع صورت ونحوھا ۔۔۔إلخ۔ (مرقاۃ شرح مشکٰوۃ ج:۴ ص:۴۵۹، ۴۶۰، باب الترجل، طبع بمبئی)۔ أیضًا: عن ابن عباس قال: لعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم المتشبھین من الرجال بالنساء، والمتشبھات من النساء بالرجال۔ (بخاری شریف ج:۲ ص:۸۷۴، باب المتشبّھین بالنساء والمتشبّھات بالرجال)۔
- (۴) عن أبی ھریرۃ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من کان لہ شعر فلیکرمہ۔ (مشکٰوۃ ج:۲ ص:۳۸۲، باب الترجل، الفصل الثانی)۔
- (۵) عن عبداللہ بن بریدۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان ینھانا عن کثیر من الْإرفاہ۔ (مشکٰوۃ ج:۲ ص:۳۸۲، باب الترجل، الفصل الثانی)۔
- (۶) عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من تشبہ بقوم فھو منھم۔ وفی المرقاۃ: (من تشبہ بقوم) أی من شبہ نفسہ بالکفار مثلًا فی اللباس وغیرہ أو بالفساق أو الفجار أو بأھل التصوّف والصلحاء الأبرار (فھو منھم) أی فی الْإثم والخیر۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکٰوۃ ج:۴ ص:۴۳۱، کتاب اللباس، الفصل الثانی، طبع بمبئی، ہند)۔
- (۷) عن أبی ھریرۃ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم إن الیھود والنصاریٰ لَا یصبغون فخالفوھم، وفی روایۃ: واجتنبوا السواد۔ (بخاری ج:۲ ص:۸۷۵، باب الخضاب، مسلم ج:۲ ص:۱۹۹)۔ وفی روایۃ: غیّر الشیّب ولَا تشبّھوا بالیھود۔ وفی روایۃ: غیّر بہ الشیّب الحنّا والکتم۔ (ترمذی ج:۱ ص:۳۰۵، مشکٰوۃ ج:۲ ص:۳۸۲)۔
- (۸) عن مالک أن جمّتہ لتضربُ قریبًا من منکبہ ۔۔۔ قال شعبۃ شعرہ یبلغ شحمۃ أذنیہ، وفی روایۃ: کان شعر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رِجُلا لیس بالسبط ولَا الجعد بین أذنیہ وعاتقیہ۔ (بخاری ج:۲ ص:۸۷۶، باب الجعد)۔
- (۹) عن أبی ھریرۃ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا ینظر اللہ یوم القیامۃ إلٰی من جرّ إزارہ بطرًا۔ (بخاری ج:۲ ص:۸۶۱، باب من جرَّ ثوبہ من الخیلاء)۔ وفی روایۃ عن أبی سعید ھل سمعت من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شیئًا فی الْإزار؟ قال: نعم! سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول إزرۃ المؤمن إلٰی أنصاف ساقیہ لَا جناح علیہ ما بینہ وبین الکعبین وما أسفل من الکعبین فی النار یقول ثلاثًا لَا ینظر اللہ إلٰی من جرّ إزارہ بطرًا۔ (مشکوٰۃ ص:۳۷۴، کتاب اللباس، مسلم ج:۲ ص:۱۹۵، ابن ماجۃ ص:۲۵۵)۔
- (۱۰) فکل لباس ینکشف معہ جزء من عورۃ الرجل والمرأۃ لَا تقرہ الشریعۃ الْإسلامیۃ، مہما کان جمیلًا أو موافقًا لدور الأزیاء، وکذالک اللباس الرقیق أو اللاصق بالجسم الذی یحکی للناظر شکل حصۃ من الجسم الذی یجب سترہ، فھو فی حکم ما سبق فی الحرمۃ وعدم الجواز۔ (تکملۃ فتح الملھم ج:۴ ص:۸۸)۔
- (۱۱) أن اللباس الذی یتشبہ بہ الْإنسان بأقوام کفرۃ لَا یجوز لبسہ لمسلم إذا قصد بذالک التشبہ بھم۔ (تکملۃ فتح الملھم ج:۴ ص:۸۸، کتاب اللباس)۔ عن ابن عمرو بن العاص أخبرہ قال رأی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علَیَّ ثوبین معصفرین، فقال: ان ھٰذہ من ثیاب الکفار فلا تلبسھا۔ (مسلم ج:۲ ص:۱۹۲ باب النھی عن لبس الرجل الثوب المعصفر)۔
- (۱۲) عن ابن عباس قال: لعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم المتشبّھین من الرجال بالنسا والمتشبھات من النساء بالرجال۔ (بخاری ج:۲ ص:۸۷۴، باب المتشبّھین بالنساء والمتشبّھات بالرجال، طبع میر محمد کتب خانہ)۔
- (۱۳) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من تلبس بما لم یعط کان کلابس ثوبی زور۔ اعلم أن الکسوۃ منھا فرض ۔۔۔ کما فی النتف بین النفیس والخسیس اذخیر الأمور أوسطھا وللنھی عن الشھرتین وھو ما کان فی نھایۃ النفاسۃ أو الخساسۃ۔ (ردالمحتار ج:۶ ص:۳۵۱ کتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی اللبس، طبع سعید)۔
- (۱۴) (وعن عمر بن شعیب عن أبیہ عن جدہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ یحب ان یری) بصیغۃ المجھول، یبصر ویظھر (أثر نعمۃ) أی إحسانہ وکرمہ تعالٰی (علٰی عبدہ) فمن شکرھا إظھارھا ومن کفرانھا کتمانھا، قال المظھر یعنی إذا أتی اللہ عبدًا من عبادہ نعمۃ من نعم الدنیا فلیظھرھا من نفسہ، بأن یلبس لباسًا یلیق بحالہ لِاظھار نعمۃ اللہ علیہ ۔۔۔إلخ۔ (مرقاۃ شرح مشکٰوۃ ج:۴ ص:۴۳۱، ۴۳۲، کتاب اللباس، الفصل الثانی، طبع بمبئی ھند)۔
- (۱۵) ولَا بأس بلبس الثیاب الجمیلۃ إذا لم یکن للکبر ۔۔۔إلخ۔ (بزازیۃ علی الھندیۃ ج:۶ ص:۳۶۸، أیضًا: ردالمحتار ج:۶ ص:۳۵۱، کتاب الحظر والْإباحۃ)۔
- (۱۶) قال صلی اللہ علیہ وسلم: ألبسوا من ثیابکم البیاض، فإنھا أطھر أوطیب۔ (سنن نسائی ج:۲ ص:۲۹۷)۔
- (۱۷) إنی (أی حذیفۃ) سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: لَا تلبسوا الدیباج والحریر ۔۔۔إلخ۔ (مسلم ج:۲ ص:۱۸۹، باب تحریم إستعمال إناء الذھب)۔ عن أنس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من لبس الحریر فی الدنیا لم یلبسہ فی الآخرۃ۔ (مسلم ج:۲ ص:۱۹۲ باب تحریم إستعمال إناء الذھب ۔۔۔إلخ)۔
- (۱۸) وفی الحاوی الزاھدی یکرہ للرجال لبس المعصفر والمزعفر والمورس والمحمر أی الأحمر حریرًا کان أو غیرہ إذا کان فی صبغہ دم وإلّا فلا۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۳۵۸، فصل فی اللبس، أیضًا: شمائل ترمذی مترجم ص:۴۱۰، ۵۳، طبع میر محمد کراچی)۔

