بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جسمانی‌وضع‌قطع

سر‌کے‌بال‌گوندھنے‌کا‌شرعی‌ثبوت

سوال:۔

۲۵؍جولائی تا ۳۱؍جولائی کے اخبارِ جہاں ’’کتاب و سنت کی روشنی میں‘‘، ’’عورت کے کھلے سر کے بال‘‘ پڑھا، اس دن سے ہم عجیب شش و پنج میں مبتلا ہیں، کیونکہ ہم تو بچپن سے یہ سنتے آرہے ہیں کہ بال باندھ کر رکھنا چاہئیں اور ۸؍تاریخ کے ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ میں بھی آپ نے عالیہ امیر کے سوال کے جواب میں صرف یہ لکھا ہے کہ دو چوٹیوں کا فیشن بُرا ہے، آپ نے یہ نہیں لکھا کہ چوٹی باندھنا ہی بُرا ہے، کیونکہ اس مراسلے سے تو ہم یہ بھی مطلب اخذ کرسکتے ہیں کہ چوٹی باندھنا ہی بُرا ہے، وہ کچھ یوں تھا:

’’جو احادیث شریف ذیل میں تحریر کر رہی ہوں، ان کی رُو سے عورت کو چٹیا، گت، جوڑا یا چونڈا رکھنے کی شرعاً اجازت نہیں۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو جوڑنے والے اور جوڑنے والی پر لعنت کی ہے۔ احادیث شریف یہ ہیں: نمبر۸۷۴، ۸۷۵، ۸۷۶، ۸۷۷ (منقول از جلد سوم صحیح بخاری شریف)۔

آج کل بالوں کا جو فیشن ہے، کیا وہ شرعی حیثیت رکھتا ہے؟ ان احادیث شریف کی رُو سے عورت کے بال کھلے ہوئے، کمر اور شانوں پر پڑے ہونے چاہئیں۔ حافظ صاحب یہ مسئلہ بہت اہم ہے، آپ وضاحت کرکے شکوک رفع کریں۔‘‘ حافظ صاحب کا جواب یہ تھا: ’’آپ نے کافی وضاحت کردی ہے، اب ہماری وضاحت کی ضرورت نہیں۔‘‘

اب ہماری گزارش یہ ہے کہ آپ ذرا وضاحت سے جواب دیں کیونکہ اس جواب سے ہماری تشفی نہیں ہوئی ہے۔ ویسے ہم نے اس پر عمل شروع کردیا ہے، مگر پھر بھی ہمارے گھروں میں زیادہ تر خواتین بال باندھ کر ہی رکھتی ہیں تو یہ بال باندھنے کا فیشن کہاں سے مسلمانوں میں آگیا؟ کیونکہ اس لحاظ سے تو ہم ایک طرح سے گناہ میں مبتلا ہیں، کیونکہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ایسے لوگوں پر۔ آپ ہماری رہنمائی فرمائیں اور مسلمان خواتین کو سیدھا راستہ دِکھائیں۔

جواب:۔

عورتوں کے سر کے بال گوندھنا نہ صرف جائز بلکہ اُمہات المؤمنین اور صحابیات رضی اللہ عنہن کی سنت ہے۔ صحیح مسلم (ج:۱ ص:۱۴۹) میں اُمّ المؤمنین اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے:

’’عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللہِ! اِنِّی امْرَاَۃٌ اَشُدُّ ضَفْرَ رَاْسِیْ اَفَاَنْقُضُہٗ لِغُسْلِ الْجَنَابَۃِ؟ قَالَ: لَا! اِنَّمَا یَکْفِیْکِ اَنْ تَحْثِیْ عَلٰی رَاْسِکِ ثَلَاثَ حَثَیَاتٍ ثُمَّ تُفِیْضِیْنَ عَلَیْکِ الْمَاءَ فَتَطْہُرِیْنَ‘‘(صحیح مسلم ج:۱ ص:۱۴۹، ۱۵۰، باب حکم ضفائر المغتسلۃ)

ترجمہ:۔ ’’حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ: میں سر کے بال گوندھتی ہوں، کیا غسلِ جنابت کے لئے مجھے سر کے بال کھولنے چاہئیں؟ فرمایا: نہیں! بس اتنا ہی کافی ہے کہ سر پر تین چلو پانی ڈال لیا کرو (جن سے بالوں کی جڑیں بھیگ جائیں)، پھر پورے بدن پر پانی بہالیا کرو۔‘‘

صحیح بخاری اور دیگر کتبِ حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم فرمایا تھا: سر کے بال کھول لو اور کنگھی کرلو۔

’’عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ: بَلَغَ عَائِشَۃَ اَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ یَاْمُرُ النِّسَاءَ اِذَا اغْتَسَلْنَ اَنْ یَّنْقُضْنَ رُؤُوْسَہُنَّ، فَقَالَتْ: یَا عَجَبًا لِّابْنِ عُمَرَ! ہٰذَا یَاْمُرُ النِّسَاءَ اِذَا اغْتَسَلْنَ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۱۵۰، باب حکم ضفائر المغتسلۃ)

ترجمہ:۔ ’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ انہیں یہ خبر پہنچی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ غسل کے لئے اپنے گندھے ہوئے بال کھول لیا کریں، اس پر اعتراض کرتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ابنِ عمر پر تعجب ہے! وہ عورتوں کو غسل کے لئے بال کھولنے کا حکم دیتے ہیں، یہی کیوں نہیں کہہ دیتے کہ وہ سر کے بال مونڈلیں۔‘‘

ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اُمہات المؤمنینؓ اور صحابیاتؓ کے سر گندھے ہوئے ہوتے تھے۔ ’’اخبارِ جہاں‘‘ کی مراسلہ نگار نے جن احادیث کا حوالہ دیا ہے، ان کا زیرِ بحث مسئلے سے کوئی تعلق نہیں، وہ ایک دُوسرے مسئلے سے متعلق ہیں، جاہلیت کے زمانے میں دستور تھا کہ جن عورتوں کے سر کے بال کم ہوتے وہ اُوپر سے بال جوڑ لیتی تھیں، تاکہ ان کے بال زیادہ ہوجائیں اور بعض عورتیں بال جوڑنے کے اس فن میں مہارت رکھتی تھیں، ایسی عورتوں پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے جو سر کے بال زیادہ کرنے کے لئے اوپرے بال جڑوائیں یا جوڑیں۔(۱)

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم لعن اللہ الواصلۃ والمستوصلۃ والواشمۃ والمستوشمۃ۔ (بخاری ج:۲ ص:۸۷۸، باب الوصل فی الشعر)۔