جسمانیوضعقطع
سیاہخضاباسنیتسےلگاناکہلوگاسےجوانسمجھیں
سوال:۔
میں نے حجۃ الاسلام اِمام محمد غزالیؒ کی تصنیف ’’کیمیائے سعادت‘‘ کے مطالعے کے دوران پڑھا ہے کہ مرد حضرات کا داڑھی کو خضاب اس نیت سے لگانا کہ لوگ انہیں جوان سمجھیں، بہت سخت گناہ ہے، اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص داڑھی کو خضاب لگاتا ہے کہ جوان نظر آئے، اس کو جنت کی خوشبو تک نصیب نہیں ہوگی۔ اور یہ بھی روایت ہے کہ پہلے پہل داڑھی میں خضاب فرعون نے لگایا تھا۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے سفید بالوں کی بزرگی دی ہے یہ لوگ اسے چھپاتے ہیں۔ آپ مہربانی فرماکر تفصیل سے بیان فرمائیں قرآن و سنت کی روشنی میں، کیونکہ میرے کچھ بزرگ ایسا کرتے ہیں اور میں ان کی بزرگی کے باعث ان کو منع نہیں کرسکتا، مبادا وہ اس کو اپنی شان میں گستاخی سمجھیں۔ ویسے بھی یہ وبا عام ہوگئی ہے، میں نے یہ بھی پڑھا ہے کہ دُشمن کو مرعوب کرنے کی غرض سے داڑھی میں مہندی لگانے کی اجازت ہے، کیونکہ جنگِ اُحد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے کا حکم فرمایا تھا، مگر خضاب لگانا بہت سخت گناہ ہے۔
جواب:۔
اِمام حجۃ الاسلام غزالیؒ نے جو مسئلہ لکھا ہے، وہ صحیح ہے، سیاہ خضاب کرنا اکثر علماء کے نزدیک ناجائز ہے اور احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔
’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَکُوْنُ قَوْمٌ یَّخْضِبُوْنَ فِیْ اٰخِرِ الزَّمَانِ بِہٰذَا السَّوَادِ کَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ لَا یَرِیْحُوْنَ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ۔‘‘ (ابوداوٗد ج:۲ ص:۲۲۶، باب ما جاء فی خضاب السود)
ترجمہ:۔ ’’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانے میں لوگ اس سیاہی سے خضاب لگائیں گے، ان کی مثال کبوتر کے پوٹے کی طرح ہے، وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائیں گے۔‘‘

