جسمانیوضعقطع
عورتکومردوںوالارُوپبنانا
سوال:۔
ہمارے خاندان میں ایک عورت ہے، جس نے بچپن سے مردانہ چال ڈھال اختیار کی ہے، مردانہ لباس پہنتی ہے، مردوں جیسے بال رکھتی ہے، الغرض خود کو مرد کہتی ہے اور اگر خاندان کا کوئی مرد اس کو عورت کہتا ہے تو جھگڑا کرتی ہے، اس کے علاوہ یہ عورت روزے اور نماز سخت پابندی سے ادا کرتی ہے، اور خود کو لوگوں کے سامنے ایک دِین دار اور صحیح مرد پیش کرتی ہے، اور حقیقت میں وہ دِین دار بھی ہے۔ آپ مجھے بتائیں کہ کیا شریعت کی رُو سے یہ جائز ہے؟ اس عورت کی عمر اَب چالیس سال کے برابر ہوگی۔
جواب:۔
عورت کو مرد کی اور مرد کو عورت کی مشابہت حرام ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر لعنت فرمائی ہے، حدیث میں ہے:
’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ: لَعَنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّہِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّہَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ۔‘‘(صحیح بخاری ج:۲ ص:۸۷۴، باب المتشبّھین بالنساء والمتشبّھات بالرجال)
ترجمہ:۔ ’’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے مشابہت کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی اور مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘

