بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جسمانی‌وضع‌قطع

کیا‌جوان‌مرد‌کا‌ختنہ‌کروانا‌ضروری‌ہے؟

سوال:۔

اگر کسی مسلمان بچے کا ختنہ کسی بنا پر (جو وہ خود ہی جانتے ہوں) والدین نے نہ کرایا تو کس کو گناہ ہوگا؟ ۱- ختنے کے لئے کیا کرنا پڑے گا؟ ۲-کیا وہ مسلمان ہوگا یا نہیں؟ یعنی کہ عام مسلمان کی طرح۔

جواب:۔

ختنہ کرنا صحیح قول کے مطابق سنت اور شعارِ اِسلام ہے۔(۱) اگر والدین نے بچپن ہی میں نہیں کرایا تو والدین کا یہ تساہل لائقِ ملامت ہے، مگر خود اس شخص پر ملامت نہیں۔ جوان ہونے کے بعد بھی اگر یہ شخص تحمل رکھتا ہے تو اس کو کرالینا چاہئے، اور اگر تحمل نہیں تو خیر معاف ہے۔ اور آج کل تو سرجری نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ ختنے کے ناقابلِ تحمل ہونے کا سوال ہی نہیں۔ باقی ختنہ نہ ہونے کے باوجود بھی یہ شخص مسلمان ہے، جبکہ یہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اَحکام کو دِل و جان سے مانتا ہے۔(۲)

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: الفطرۃ خمس، أو خمس من الفطرۃ: الختان والْإستحداد وتقلیم الأظفار ونتف الْإبط وقصّ الشارب۔ (بخاری ج:۲ ص:۸۷۵، باب تقلیم الأظفار، مسلم ج:۱ ص:۱۲۸، باب خصال الفطرۃ)۔
  2. (۲) الشیخ الضعیف إذا أسلم ولَا یطیق الختان إن قال أھل البصر لَا یطیق یترک لأن ترک الواجب بالعذر جائز فترک السُّنَّۃ أولٰی، کذا فی الخلاصۃ، قیل فی ختان الکبیر إذا أمکن أن یختن نفسہ فعل وإلّا لم یفعل۔ (عالمگیریۃ ج:۵ ص:۳۵۷، الباب التاسع عشر فی الختان والخصاء ۔۔۔إلخ)۔