جسمانیوضعقطع
سرکےبالوںکوصافکرانا
سوال:۔
ایک مولانا یہ فرماتے ہیں کہ: ’’سر پر پٹھوں کا رکھنا ہر ایک کے لئے ضروری ہے، سوائے حج و عمرہ کے سر منڈانا بدعت ہے۔‘‘ لہٰذا جناب تحقیق کرکے تحریر فرمائیں کہ کیا حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منوّرہ میں سر منڈایا ہے؟ اور خلفائے راشدین کا کیا عمل ہے؟ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا، اَئمہ اَربعہ کا کیا مذہب ہے؟ اور صحاحِ ستہ کے محدثین کا کیا مسلک ہے؟
سوال (۲۹۵)۔۔۔ زید کہتا ہے کہ سارے سر میں بال رکھانا سنت ہے، اور بلا حج سر منڈوانا خلافِ سنت ہے، اور خشخشے بال رکھانے والے کو سخت مخالفِ سنت خیال کرکے قابلِ ملامت کہتا ہے۔ عمرو کہتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سر منڈاتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس فعل سے بھی منع نہ فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ سر منڈانا بھی غیر اَیامِ حج میں سنت ہے، اور خشخشے بال رکھنے کی ممانعت نہیں، وہ اپنی اصل پر رہیں گے، اور اصل اباحت و جواز ہے۔ خشخشے بال رکھنا قرونِ ثلاثہ سے ثابت ہے یا نہیں؟ اور ان کو جو زید بدعت کہتا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں؟ اور ایسے بال رکھانے والا شرعاً قابلِ ملامت ہے یا نہیں؟
سوال (۲۹۶)۔۔۔ بعد سلام مسنون عرض ہے کہ ایک خط مولوی اسحاق صاحب کا کوئٹہ بلوچستان سے آیا ہے، مضمون یہ ہے کہ آج بعد نمازِ مغرب حضور (شاہ ابوالخیر صاحب) نے فرمایا: یہ کتاب الاسماء والکنی کہ ہم نے حیدرآباد سے منگائی ہے، اور اس سے پہلے کہیں دُنیا میں اس کی زیارت میسر نہیں ہوئی، مدینہ منوّرہ میں قبہ شیخ الاسلام میں کہ سلطان رُوم کا کتب خانہ بے نظیر ہے، اس میں بھی یہ کتاب نہیں دیکھی تھی، اس میں ہم نے ایک وہ مسئلہ دیکھا کہ ہم کو آج تک معلوم نہ تھا اور تم کو بھی معلوم نہ ہوگا۔ میں نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ فرمایا: خشخشی بال جیسے تیرے ہیں اور ہندوستان میں بہت مروّج ہیں، یہ عمل قومِ لوط کا ہے، اگر سر پر بال ہوں تو اس قابل ہوں کہ ان میں مانگ نکالی جائے یا بالکل منڈائے جائیں، صرف یہ دونوں شکلیں مسنون ہیں۔ میں نے اس وقت توبہ کی۔ پھر فرمایا کہ: اگر تم حلق کو دوست رکھتے ہو تو حلق کراتے رہو اور اگر فرق کو دوست رکھتے ہو تو اس نیت سے بالوں کی پروَرِش کرو۔ اور فرمایا کہ: اس اثر کو لکھ کر مشہور کردو اور میرٹھ بھیج دو، سب خادم توبہ کریں اور خشخشی بال نہ رکھیں۔ اور یہ بھی فرمایا کہ: یہ رسم کن لوگوں سے اختیار کی ہے؟ میں نے عرض کیا: نصاریٰ سے مأخوذ ہے۔ وہ اثر یہ ہے:
’’مِنْ کِتَابِ الْکُنٰی لِلدُّولَابِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ الْجُنَیْدِ قَالَ حَدَّثَنِی الْہَیْثَمُ بْنُ خَارِجَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ عِمْرَانَ سَعِیْدُ بْنُ مَیْسَرَۃَ الْبَکْرِیُّ الْمَوْصِلِیُّ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: اِنَّہٗ دَخَلَ عَلَیْہِ شَابٌّ قَدْ سَکَّنَ عَلَیْہِ شَعْرًا لَّہٗ فَقَالَ مَالَکَ: وَالسَّکِیْنَۃُ اَفْرِقْہُ اَوْ جُزَّہٗ فَقَالَ لَہٗ رَجُلٌ: یَا اَبَا حَمْزَۃَ! مَنْ کَانَتِ السَّکِیْنَۃُ؟ قَالَ: فِیْ قَوْمِ لُوْطٍ، قَالَ: کَانُوْا یُسَکِّنُوْنَ شُعُوْرَہُمْ وَیَمْضَغُوْنَ الْعِلْکَ فِی الطَّرِیْقِ وَالْمَنَازِلِ وَیَحْذِفُوْنَ وَیُفَرِّجُوْنَ اَقْبِیَتَہُمْ اِلٰی خَوَاصِرِہِمْ۔ اِنْتَہٰی۔‘‘
(سکینۃ الشعر، بالوں کا سیدھا کھڑا چھوڑنا، نہ منڈانا، نہ مانگ نکالنی) خط کا مضمون یہاں ختم ہوگیا۔
مضمونِ بالا کو ملاحظہ فرماکر ارشاد فرمائیے کہ بالوں کا قینچی سے کتروانا جیسا کہ مروّج ہے، جائز ہے یا نہیں؟ اور مشابہت قومِ لوط ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو اَثرِ مذکور کا کیا مطلب ہے؟ اور اگر ناجائز اور حرام ہے تو ﵟ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمۡ وَمُقَصِّرِينَ ﵞکا کیا جواب ہے ؟ یا یہ حکم خاص حجاج ہی کے لئے ہے، اور یہ بھی ارشاد فرمائیے کہ اگر بالوں کا کتروانا جائز ہے تو تمام بال رکھنا اور مانگ نکالنا بہتر ہے یا حلق یا قصر؟ اور حلق سے قصر بہتر ہے یا نہیں؟ مفصل مدلل مع حوالہ بیان فرمائیے، کیونکہ اکثر لوگ حتیٰ کہ اکثر علماء بھی قصر کراتے ہیں، اگر یہ امر ناجائز ہو تو اس سے توبہ کی جائے، اور اگر جائز ہے تو اَثرِ مذکور کا مطلب صاف صاف شافی، تسکین بخش ایسا ارشاد فرمایا جائے کہ اطمینان ہوجائے۔
جواب:۔
وَمِنَ اللہِ الصِّدْقُ وَالصَّوَابُ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حج و عمرہ کے علاوہ سر مبارک کے بال صاف کرانا میرے علم میں نہیں ہے، البتہ بعض احادیث میں سر منڈانے کا جواز معلوم ہوتا ہے، اور وہ درج ذیل ہیں:
۱:۔ ’’عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاٰی صَبِیًّا قَدْ حُلِقَ بَعْضُ رَاْسِہٖ وَتُرِکَ بَعْضُہٗ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ: احْلِقُوْہُ کُلَّہٗ اَوْ اتْرُکُوْہُ کُلَّہٗ۔‘‘ (ابوداؤد ج:۲ ص:۲۲۱)
ترجمہ:۔ ’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا جس کے سر کا کچھ حصہ منڈا ہوا تھا اور کچھ چھوڑ دیا گیا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا: یا تو پورا سر منڈاؤ، یا پورا چھوڑ دو۔‘‘
۲:۔ ’’عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَمْہَلَ اٰلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا اَنْ یَّاْتِیَہُمْ، ثُمَّ اَتَاہُمْ فَقَالَ: لَا تَبْکُوْا عَلٰی اَخِیْ بَعْدَ الْیَوْمِ، ثُمَّ قَالَ: ادْعُوْا لِیْ بَنِیْ اَخِیْ، فَجِیْٓءَ بِنَا کَاَنَّنَا اَفْرُخٌ، فَقَالَ: ادْعُوْا لِیَ الْحَلَّاقَ، فَحَلَقَ رُؤُوْسَنَا۔‘‘ (ابوداؤد ج:۲ ص:۲۲۱)
ترجمہ:۔ ’’حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (جب ان کے والد حضرت جعفر رضی اللہ عنہ جنگِ موتہ میں شہید ہوئے تو) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آلِ جعفر کو تین دن تک (اظہارِ غم) کی مہلت دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف نہیں لائے، پھر (تین دن بعد) ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ’’آج کے بعد میرے بھائی پر نہ رونا‘‘ پھر فرمایا: ’’میرے بھتیجوں کو میرے پاس بلاؤ‘‘ چنانچہ ہمیں لایا گیا گویا ہم چوزے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حلاق کو بلاؤ‘‘ چنانچہ (حلاق بلایا گیا اور) اس نے ہمارے سر کے بال صاف کئے۔‘‘
۳:۔ ’’عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ کَانَ لَہٗ شَعْرٌ فَلْیُکْرِمْہُ۔‘‘ (ابوداؤد ج:۲ ص:۲۱۷)
ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: جس کے بال رکھے ہوئے ہوں اسے چاہئے کہ ان کو اچھی طرح رکھے (کہ تیل لگایا کرے اور کنگھی کیا کرے)۔‘‘
حدیثِ اوّل (حدیث نھی عن القزع) کے ذیل میں ’’لامع الدراری‘‘ میں حضرت شیخ نوّر اللہ مرقدہٗ نے ’’تقریر مکی‘‘ کے حوالے سے حضرتِ اقدس گنگوہی قدس سرہٗ کا ارشاد نقل کیا ہے:
’’وَفِیْ تَقْرِیْرِ الْمَکِّیِّ: قَالَ قُدِّسَ سِرُّہٗ: الْقَزَعُ فِی اللُّغَۃِ حَلْقُ بَعْضِ الرَّأْسِ وَتَرْکُ بَعْضِہٖ فَہُوَ مَکْرُوْہٌ تَحْرِیْمًا کَیْفَ مَا کَانَ، لِاِطْلَاقِ النَّہْیِ عَنْہُ ۔۔۔ اِلٰی قَوْلِہٖ ۔۔۔ فَالْحَاصِلُ اَنَّ السُّنَّۃَ حَلْقُ الْکُلِّ اَوْ تَرْکُ الْکُلِّ وَمَا سِوَاہُمَا کُلُّہٗ مَنْہِیٌّ عَنْہُ۔‘‘(لامع ج:۳ ص:۳۳۰ مطبوعہ سہارنپور)
ترجمہ:۔ ’’تقریر مکی میں ہے کہ: حضرت گنگوہی قدس سرہٗ نے فرمایا کہ: لغت میں ’’قزع‘‘ کے معنی ہیں: سر کے کچھ حصے کو مونڈ دیا جائے اور کچھ چھوڑ دیا جائے، یہ مطلقاً مکروہِ تحریمی ہے، خواہ کسی شکل میں ہو، کیونکہ ممانعت مطلق ہے ۔۔۔ ۔۔ حاصل یہ کہ سنت یا تو پورے سر کا حلق کرنا ہے یا پورے کا چھوڑ دینا، ان دونوں صورتوں کے سوا ہر صورت ممنوع ہے۔‘‘
اور دُوسری حدیث کے ذیل میں حضرتِ اقدس سہارنپوری قدس سرہٗ ’’بذل المجھود‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’وَفِیْہِ اَنَّ الْکَبِیْرَ مِنْ اَقَارِبِ الْاَطْفَالِ یَتَوَلّٰی اَمْرَہُمْ وَیَنْظُرُ فِیْ مَصَالِحِہِمْ مِنْ حَلْقِ الرَّأْسِ وَغَیْرِہٖ۔‘‘ (بذل ج:۵ ص:۷۷، مطبوعہ سہارنپور)
ترجمہ:۔ ’’اس حدیث سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ بچوں کے اقارب میں جو بڑا ہو وہ بچوں کے معاملات کا متولّی ہوگا، اور ان بچوں کی ضروریات و مصالح مثلاً سر منڈانا وغیرہ (کا نظر رکھے گا)۔‘‘
اکابرؒ کی ان تصریحات کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے سر کے بال اُتارنے کا جواز ثابت ہوتا ہے، اس لئے حضرت گنگوہی قدس سرہٗ ’’حلق‘‘ کو سنت سے تعبیر فرماتے ہیں۔
حضراتِ خلفائے راشدین میں خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم سے حج و عمرہ کے علاوہ سر کے بال صاف کرانے کی روایت نہیں ملی، البتہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ سر کے بال صاف کراتے تھے:
’’عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَرَکَ مَوْضِعَ شَعْرَۃٍ مِّنْ جَنَابَۃٍ لَّمْ یَغْسِلْہَا فُعِلَ بِہَا کَذَا وَکَذَا مِنَ النَّارِ۔ قَالَ عَلِیٌّ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَیْتُ رَأْسِیْ، فَمِنْ ثَمَّ عَادَیْتُ رَأْسِیْ، فَمِنْ ثَمَّ عَادَیْتُ رَأْسِیْ، وَکَانَ یَجُزُّ شَعْرَہٗ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ۔‘‘ (ابوداؤد ج:۱ ص:۳۳)
ترجمہ:۔ ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے غسلِ جنابت میں بدن کے ایک بال کی جگہ کو بھی چھوڑ دیا کہ اس کو نہ دھویا، اس کو دوزخ میں ایسے ایسے جلایا جائے گا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ (اس حدیث کو بیان کرکے) فرماتے تھے کہ: اسی لئے میں نے اپنے سر سے دُشمنی کر رکھی ہے، تین بار فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے سر کے بال تراشا کرتے تھے (اسی کو دُشمنی سے تعبیر فرمایا)۔‘‘
دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ (صاحبِ سرِّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) سے بھی مروی ہے کہ وہ سر منڈاتے تھے:
’’عَنْ اَبِی الْبَخْتَرِیِّ قَالَ: خَرَجَ حُذَیْفَۃُ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ وَقَدْ جُمَّ شَعْرُہٗ، فَقَالَ: اِنَّ تَحْتَ کُلِّ شَعْرَۃٍ لَّا یُصِیْبُہَا الْمَاءُ جَنَابَۃً فَعَافُوْہَا فَلِذٰلِکَ عَادَیْتُ رَأْسِیْ کَمَا تَرَوْنَ۔‘‘ (مصنف ابنِ ابی شیبہ ج:۱ ص:۱۰۰)
ترجمہ:۔ ’’ابو البختریؒ کہتے ہیں کہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے، اس حال میں کہ اپنے بال صاف کئے ہوئے تھے، پس فرمایا کہ: ہر بال کے نیچے جس کو پانی نہ پہنچا ہو جنابت ہے، پس اس سے نفرت کرو، اسی بنا پر میں نے اپنے سر سے دُشمنی کر رکھی ہے جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔‘‘
بظاہر یہ دونوں حضرات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سر کے بال تراشتے ہوں گے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصویب و تقریر فرمائی ہوگی، اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ سر کے بال تراشنا نہ صرف ایک خلیفہ راشد (حضرت علی کرّم اللہ وجہہ) اور ایک عظیم المرتبت صحابی (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ) کی سنت ہے، بلکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریری سنت ہے۔
اَئمہ اَربعہ رحمہم اللہ کی فقہی کتابوں میں بھی سر منڈانے یا کترانے کو جائز قرار دیا گیا ہے۔
فقہِ حنفی:۔ درمختار میں منظومہ وھبانیہ سے نقل کیا ہے:
’’وَقَدْ قِیْلَ حَلْقُ الرَّأْسِ فِیْ کُلِّ جُمُعَۃٍ یُحَبُّ وَبَعْضٌ بِالْجَوَازِ یُعَبِّرُ‘‘
ترجمہ:۔ ’’اور کہا گیا ہے کہ ہر جمعہ کو سر منڈانا مستحب ہے اور بعض حضرات اس کو جواز سے تعبیر کرتے ہیں۔‘‘
علامہ ابنِ عابدین شامیؒ اس کے حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’وَفِی الرَّوْضَۃِ لِلزَّنْدَوَیْسِیِّ: اِنَّ السُّنَّۃَ فِیْ شَعْرِ الرَّأْسِ اِمَّا الْفَرْقُ وَاِمَّا الْحَلْقُ وَذَکَرَ الطَّحَاوِیُّ: اَنَّ الْحَلْقَ سُنَّۃٌ وَّنَسَبَ ذٰلِکَ اِلَی الْعُلَمَاءِ الثَّلَاثَۃِ۔‘‘ (ردّ المحتار ج:۶ ص:۴۰۷، کراچی)
ترجمہ:۔ ’’زندویسی کی الروضہ میں ہے کہ: سر کے بالوں میں سنت یا تو مانگ نکالنا ہے یا حلق کرنا ہے، اور اِمام طحاویؒ نے ذکر کیا ہے کہ: حلق سنت ہے اور انہوں نے اس کو ہمارے اَئمہ ثلاثہ (اِمام ابوحنیفہ، اِمام ابویوسف اور اِمام محمد رحمہم اللہ) کی طرف منسوب کیا ہے۔‘‘
فتاویٰ عالمگیری میں علامہ شامیؒ کی نقل کردہ عبارت ’’تاتارخانیہ‘‘ کے حوالے سے نقل کرکے اس پر یہ اضافہ کیا ہے:
’’یُسْتَحَبُّ حَلْقُ الرَّأْسِ فِیْ کُلِّ جُمُعَۃٍ۔‘‘ (فتاویٰ ہندیہ ج:۵ ص:۳۵۷، کوئٹہ)
ترجمہ:۔ ’’ہر جمعہ کو سر کا منڈوانا سنت ہے۔‘‘
فقہِ شافعی:۔ اِمام محی الدین نوویؒ شرح مہذب میں لکھتے ہیں:
’’(فَرْعٌ) اَمَّا حَلْقُ جَمِیْعِ الرَّأْسِ فَقَالَ الْغَزَالِیُّ لَا بَاْسَ بِہٖ لِمَنْ اَرَادَ التَّنْظِیْفَ وَلَا بَاْسَ بِتَرْکِہٖ لِمَنْ اَرَادَ دُہْنَہٗ وَتَرْجِیْلَہٗ، ہٰذَا کَلَامُ الْغَزَالِیِّ، وَکَلَامُ غَیْرِہٖ مِنْ اَصْحَابِنَا فِیْ مَعْنَاہُ۔ وَقَالَ اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رَحِمَہُ اللہُ: لَا بَاْسَ بِقَصِّہٖ بِالْمِقْرَاضِ۔ وَعَنْہُ فِیْ کَرَاہَۃِ حَلْقِہٖ رِوَایَتَانِ، وَالْمُخْتَارُ اَنَّ لَا کَرَاہَۃَ فِیْہِ وَلٰـکِنَّ السُّنَّۃَ تَرْکُہٗ فَلَمْ یَصِحَّ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَلَقَہٗ اِلَّا فِی الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ وَلَمْ یَصِحَّ تَصْرِیْحٌ بِالنَّہْیِ عَنْہُ۔ وَمِنَ الدَّلِیْلِ عَلٰی جَوَازِ الْحَلْقِ وَاَنَّہٗ لَا کَرَاہَۃَ فِیْہِ حَدِیْثُ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ: رَاٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَبِیًّا قَدْ حَلَقَ بَعْضَ شَعْرِہٖ وَتَرَکَ بَعْضَہٗ فَنَہَاہُمْ عَنْ ذٰلِکَ وَقَالَ: ’’احْلِقُوْہُ کُلَّہٗ اَوْ اتْرُکُوْہُ کُلَّہٗ‘‘ رَوَاہُ اَبُوْ دَاوٗدَ بِاَسْنَادٍ صَحِیْحٍ عَلٰی شَرْطِ الْبُخَارِیِّ وَمُسْلِمٍ۔ وَعَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَمْہَلَ اٰلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا ثُمَّ اَتَاہُمْ فَقَالَ: ’’لَا تَبْکُوْا عَلٰی اَخِیْ بَعْدَ الْیَوْمِ‘‘ ثُمَّ قَالَ: ’’ادْعُوْا لِیْ بَنِیْ اَخِیْ‘‘ فَجِیْٓءَ بِنَا کَاَنَّا اَفْرُخٌ، فَقَالَ: ’’ادْعُوْا لِیَ الْحَلَّاقَ‘‘ فَاَمَرَہٗ فَحَلَقَ رُؤُوْسَنَا۔ حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ رَوَاہُ اَبُوْ دَاوٗدَ بِاَسْنَادٍ صَحِیْحٍ عَلٰی شَرْطِ الْبُخَارِیِّ وَمُسْلِمٍ۔‘‘ (المجموع شرح المھذب، ج:۱ ص:۲۹۵، ۲۹۶)
ترجمہ:۔ ’’(مسئلہ) رہا پورے سر کا منڈوانا تو اِمام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں اس شخص کے لئے جو صفائی کرنا چاہتا ہو، اور حلق نہ کرانے میں بھی کوئی حرج نہیں اس شخص کے لئے جو تیل لگانے اور کنگھی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ یہ اِمام غزالیؒ کا ارشاد ہے اور ہمارے دُوسرے حضرات (شافعیہ) کا کلام بھی اسی کے ہم معنی ہے۔ اِمام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ: قینچی سے سر کے بال کترانے میں کوئی حرج نہیں اور سر کا منڈانا مکروہ ہے یا نہیں؟ اس میں اِمام احمدؒ سے دو روایتیں ہیں، مختار یہ ہے کہ اس میں کوئی کراہت نہیں، لیکن سنت یہ ہے کہ حلق نہ کرایا جائے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حج و عمرہ کے علاوہ حلق کرانا ثابت نہیں اور اس کی ممانعت کی تصریح بھی ثابت نہیں، اور اس بات کی دلیل کہ حلق جائز ہے اور اس میں کوئی کراہت نہیں حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا جس کا کچھ سر منڈا ہوا تھا اور کچھ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ: یا تو پورا سر منڈاؤ یا پورا چھوڑ دو۔ اس حدیث کو اِمام ابوداؤدؒ نے ایسی صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے جو بخاری و مسلم کی شرط پر ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آلِ جعفر کو تین دن تک (اظہارِ غم) کی مہلت دی، پھر ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: آج کے بعد میرے بھائی پر نہ رونا۔ پھر فرمایا: میرے بھتیجوں کو میرے پاس بلاؤ، ہمیں بلایا گیا، گویا ہم پرندے کے چوزے تھے (کم سنی اور بال بڑھے ہوئے ہونے کی وجہ سے چوزے سے تشبیہ دی) فرمایا: حجام کو بلاؤ! حلاق آیا تو اس کو حکم فرمایا، اس نے ہمارے سر کے بال مونڈ دئیے۔‘‘
فقہِ حنبلی:۔ جیسا کہ اُوپر اِمام نوویؒ کی عبارت سے معلوم ہوا، اِمام احمدؒ کے نزدیک قینچی سے تراشنا بلاکراہت جائز ہے (خود اِمام احمدؒ کا عمل بھی اسی پر تھا) اور حلق میں ان سے دو روایتیں ہیں، راجح اور مختار یہ ہے کہ حلق بھی بغیر کراہت کے جائز ہے، اِمام ابنِ قدامہ مقدسی حنبلی نے ’’المغنی‘‘ میں اس کو تفصیل سے لکھا ہے، ان کی عبارت درج ذیل ہے:
’’(فَصْلٌ) وَاخْتَلَفَتِ الرِّوَایَۃُ عَنْ اَحْمَدَ فِیْ حَلْقِ الرَّأْسِ فَعَنْہُ اَنَّہٗ مَکْرُوْہٌ لِمَا رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ قَالَ فِی الْخَوَارِجِ: ’’سِیْمَاہُمُ التَّحْلِیْقُ‘‘ فَجَعَلَہٗ عَلَامَۃً لَّہُمْ، وَقَالَ عُمَرُ لِصَبِیْغٍ: لَوْ وَجَدْتُّکَ مَحْلُوْقًا لَّضَرَبْتُ الَّذِیْ فِیْہِ عَیْنَاکَ بِالسَّیْفِ، وَرُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ قَالَ: ’’لَا تُوضَعُ النَّوَاصِی اِلَّا فِی الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ‘‘ رَوَاہُ الدَّارَقُطْنِیُّ فِی الْاَفْرَادِ۔ وَرُوِیَ اَبُوْ مُوسٰی عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’لَیْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ‘‘ رَوَاہُ اَحْمَدُ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: الَّذِیْ یَحْلِقُ رَأْسَہٗ فِی الْمِصْرِ شَیْطَانٌ، قَالَ اَحْمَدُ: کَانُوْا یَکْرَہُوْنَ ذٰلِکَ۔ وَرُوِیَ عَنْہُ لَا یُکْرَہُ ذٰلِکَ لٰکِنَّ تَرْکَہٗ اَفْضَلُ۔ قَالَ حَنْبَلٌ: کُنْتُ اَنَا وَاَبِیْ نَحْلِقُ رُؤُوْسَنَا فِیْ حَیَاۃِ اَبِیْ عَبْدِ اللہِ فَیَرَانَا وَنَحْنُ نَحْلِقُ فَلَا یَنْہَانَا وَکَانَ ہُوَ یَاْخُذُ رَأْسَہٗ بِالْجَمْلَیْنِ وَلَا یُحْفِیْہِ وَیَاْخُذُہٗ وَسَطًا، وَقَدْ رَوَی ابْنُ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاٰی غُلَامًا قَدْ حَلَقَ بَعْضَ رَأْسِہٖ وَتَرَکَ بَعْضَہٗ فَنَہَاہُمْ عَنْ ذٰلِکَ، رَوَاہُ مُسْلِمٌ، وَفِیْ لَفْظٍ قَالَ: ’’احْلِقْہُ کُلَّہٗ اَوْ دَعْہُ کُلَّہٗ‘‘۔ وَرُوِیَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ جَعْفَرٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَ نَعْیُ جَعْفَرٍ اَمْہَلَ اٰلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا اَنْ یَّاْتِیَہُمْ، ثُمَّ اَتَاہُمْ فَقَالَ: ’’لَا تَبْکُوْنَ عَلٰی اَخِیْ بَعْدَ الْیَوْمِ‘‘ ثُمَّ قَالَ: ’’ادْعُوْا بَنِیْ اَخِیْ‘‘ فَجِیْٓءَ بِنَا، قَالَ: ’’ادْعُوْا لِیَ الْحَلَّاقَ‘‘ فَاَمَرَ بِنَا فَحَلَقَ رُؤُوْسَنَا۔ رَوَاہُ اَبُوْ دَاوٗدَ الطَّیَالِسِیُّ وَلِاَنَّہٗ لَا یُکْرَہُ اسْتِئْصَالُ الشَّعْرِ بِالْمِقْرَاضِ وَہٰذَا فِیْ مَعْنَاہُ وَقَوْلُ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’لَیْسَ مِنَّا مَنْ حَلَقَ‘‘ یَعْنِیْ فِی الْمُصِیْبَۃِ لِاَنَّ فِیْہِ: ’’اَوْ صَلَقَ اَوْ خَرَقَ‘‘ قَالَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ: وَقَدْ اَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ عَلٰی اِبَاحَۃِ الْحَلْقِ وَکَفٰی بِہٰذَا حُجَّۃً۔ وَاَمَّا اسْتِئْصَالُ الشَّعْرِ بِالْمِقْرَاضِ فَغَیْرُ مَکْرُوْہٍ، رِوَایَۃً وَاحِدَۃً قَالَ اَحْمَدُ: اِنَّمَا کَرِہُوا الْحَلْقَ بِالْمُوْسٰی وَاَمَّا بِالْمِقْرَاضِ فَلَیْسَ بِہٖ بَاْسٌ لِاَنَّ اَدِلَّۃَ الْکَرَاہَۃِ تَخْتَصُّ بِالْحَلْقِ۔‘‘ (المغنی مع الشرح الکبیر ج:۱ ص:۷۳، ۷۴)
ترجمہ:۔ ’’سر کا حلق کرانے کے بارے میں اِمام احمدؒ سے روایتیں مختلف ہیں۔ چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ یہ مکروہ ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خارجیوں کے بارے میں فرمایا کہ: ’’ان کی علامت سر منڈانا ہے‘‘ پس سر منڈانے کو خوارج کی علامت قرار دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صبیغ سے فرمایا تھا کہ: اگر تیرا سر منڈا ہوا ہوتا تو تلوار سے تیرا سر اُڑا دیتا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیشانی کے بال صاف نہ کرائے جائیں مگر حج و عمرہ میں، اس کو دارقطنی نے افراد میں روایت کیا ہے، اور حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہم میں سے نہیں وہ شخص جس نے حلق کیا۔‘‘ یہ مسند احمد کی روایت ہے۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ: جو شخص شہر میں اپنے سر کا حلق کراتا ہے وہ شیطان ہے۔ اِمام احمدؒ نے فرمایا کہ: سلف اس کو مکروہ سمجھتے تھے۔ اِمام احمدؒ سے دُوسری روایت یہ ہے کہ: یہ مکروہ تو نہیں، لیکن نہ کرنا افضل ہے۔ حنبل کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد اِمام احمدؒ کی حیات میں سر منڈایا کرتے تھے، آپؒ دیکھتے تھے اور منع نہیں فرماتے تھے، اور خود قینچی سے کتراتے تھے، اُسترے سے صاف نہیں کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا جس کا کچھ سر منڈا ہوا تھا اور کچھ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا (یہ صحیح مسلم کی روایت ہے) اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پورا صاف کراؤ یا پورا چھوڑ دو‘‘ اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ (شہیدِ موتہ) کے انتقال کی خبر آئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آلِ جعفر کو تین دن (اظہارِ غم) کی مہلت دی، ان کے پاس تشریف نہیں لائے، تین دن کے بعد تشریف لائے تو فرمایا: آج کے بعد میرے بھائی پر نہ رونا۔ پھر فرمایا: میرے بھائی کے بچوں کو میرے پاس لاؤ! ہمیں لایا گیا تو فرمایا: حلاق کو بلاؤ! حلاق آیا تو اسے ہمارے سروں کا حلق کرنے کا حکم فرمایا۔ (یہ ابوداؤد طیالسی کی روایت ہے) اور سر منڈانا اس لئے بھی مکروہ نہیں کہ باریک قینچی سے سر کے بالوں کو بالکل صاف کردینا مکروہ نہیں، اور حلق میں بھی یہی چیز ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ: ’’ہم میں سے نہیں جس نے حلق کیا‘‘ اس سے مراد مصیبت میں حلق کرنا ہے، کیونکہ اسی حدیث میں یہ بھی ہے: ’’اَوْ صَلَقَ وخَرَقَ‘‘ یعنی ’’یا چِلّایا یا کپڑے پھاڑے۔‘‘ حافظ ابنِ عبدالبرؒ کہتے ہیں کہ: ’’حلق کے مباح ہونے پر اہلِ علم کا اجماع ہے‘‘ اور یہ کافی دلیل ہے۔ رہا قینچی سے بالوں کا باریک کاٹنا، اس میں ایک ہی روایت ہے کہ یہ مکروہ نہیں، اِمام احمدؒ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اُسترے سے حلق کرنے کو مکروہ سمجھا ہے، قینچی سے کترنے کا کوئی حرج نہیں، کیونکہ کراہت حلق کے ساتھ خاص ہے۔‘‘
فقہِ مالکی:۔ حضراتِ مالکیہ کے سب سے بڑے ترجمان الامام الحافظ ابو عمرو ابن عبدالبرؒ کا قول ’’المغنی‘‘ کے حوالے سے اُوپر آچکا ہے کہ:
’’اَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ عَلٰی اِبَاحَۃِ الْحَلْقِ‘‘
اور حافظ ابنِ قدامہ مقدسیؒ کے بقول: ’’وَکَفٰی بِہِ حُجَّۃً‘‘ (یہ دلیل و برہان کے لحاظ سے کافی ہے) حافظ ابنِ عبدالبرؒ کا قول علامہ عینیؒ نے بھی شرح بخاری میں نقل کیا ہے:
’’وَادَّعَی ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ الْاِجْمَاعَ عَلٰی اِبَاحَۃِ حَلْقِ الْجَمِیْعِ‘‘ (عمدۃ القاری ج:۲۲ ص:۵۸، بیروت)
ترجمہ:۔ اور حافظ ابنِ عبدالبر نے حلق کے مباح ہونے پر اِجماع کا دعویٰ کیا ہے۔‘‘
مندرجہ بالا فقہی مذاہب کی تفصیل کے بعد حضراتِ محدثین رحمہم اللہ کے مسلک کی وضاحت غیرضروری ہے، تاہم ان حضرات کا مسلک ان کے تراجم ابواب سے واضح ہے، حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ’’نھی عن القزع‘‘ کی ترمذیؒ کے علاوہ سب حضرات نے تخریج کی ہے اور اس پر درج ذیل ابواب قائم کئے ہیں:
صحیح بخاری ج:۲ ص:۸۷۷، باب القزع (کتاب الباس)۔
صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۰۳، باب کراھۃ القزع (کتاب اللباس والزینۃ)۔
نسائی ج:۲ ص:۲۷۵، النھی عن القزع (کتاب الزینۃ)۔
ابنِ ماجہ ص:۲۵۹، النھی عن القزع (کتاب اللباس)۔
ابو داؤد ج:۲ ص:۲۲۱، باب فی الصبی لہ ذوابۃ (کتاب الترجل)۔
علاوہ ازیں اِمام نسائی،ؒ نے ج:۲ ص:۲۷۴ میں ’’اَلرُّخْصَۃُ فِیْ حَلْقِ الرَّأْسِ‘‘ کا اور اِمام ابوداؤدؒ نے ’’بَابٌ فِیْ حَلْقِ الرَّأْسِ‘‘ کا عنوان بھی قائم کیا ہے، مگر ’’کَرَاہَۃُ حَلْقِ الرَّأْسِ‘‘ کا عنوان کسی نے قائم نہیں کیا۔ اس سے ان حضرات کا مسلک واضح ہوجاتا ہے کہ ان کے نزدیک ’’قزع‘‘ مکروہ ہے، یعنی یہ کہ سر کے کسی حصے کے بال اُتار دئیے جائیں اور کسی حصے کے چھوڑ دئیے جائیں، لیکن تمام سر کے بال اُتار دینا مکروہ نہیں۔
خلاصہ یہ کہ صحیح احادیث میں سر کے بال اُتارنے کی اجازت دی گئی ہے، صحابہؓ میں سے بعض اکابر و اجلہ کا اس پر عمل ثابت ہے، اور بقول ابنِ عبدالبرؒ ’’تمام علماء کا اس کے جواز پر اِجماع ہے۔‘‘ یہی اَئمہ اَربعہؒ کا مسلک ہے اور یہی حضراتِ محدثینؒ کا، اس لئے اس کو ناجائز یا بدعت کہنا، جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے، بے جا جسارت ہے۔ البتہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ سر پر بال رکھنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور عام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا معمول مبارک تھا، لیکن چونکہ یہ سنتِ تشریعیہ نہیں، بلکہ سنتِ عادیہ ہے اس لئے اگرچہ حلق و قصر بلاکراہت جائز ہے، تاہم بال رکھنا اَوْلیٰ و افضل ہے، یہ مضمون اِمام نوویؒ کی عبارت میں آچکا ہے، علامہ علی قاریؒ حدیث ابنِ عمرؓ:
’’اِحْلِقُوْہُ کُلَّہٗ اَوْ اتْرُکُوْہُ کُلَّہٗ‘‘
اسے پورا منڈاؤ یا پورا چھوڑ دو۔
کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’’(اَوْ اتْرُکُوْہُ کُلَّہٗ) فِیْہِ اِشَارَۃٌ اِلٰی اَنَّ الْحَلْقَ فِیْ غَیْرِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ جَائِزٌ، وَاَنَّ الرَّجُلَ مُخَیَّرٌ بَیْنَ الْحَلْقِ وَالتَّرْکِ، لٰکِنَّ الْاَفْضَلَ اَنْ لَّا یَحْلِقَ اِلَّا فِیْ اَحَدِ النُّسُکَیْنِ، کَمَا کَانَ عَلَیْہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَعَ اَصْحَابِہٖ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ، وَانْفَرَدَ مِنْہُمْ عَلِیٌّ کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہٗ۔‘‘ (مرقاۃ ج:۴ ص:۴۰۹، بمبئی)
ترجمہ:۔ ’’اس میں اشارہ ہے کہ حج و عمرہ کے بغیر بھی حلق جائز ہے اور یہ کہ آدمی کو اختیار ہے خواہ حلق کرائے یا چھوڑ دے، لیکن افضل یہ ہے کہ حج و عمرہ کے بغیر حلق نہ کرائے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور عام صحابہ رضوان اللہ علیہم کا یہی معمول تھا اور حضرت علی کرّم اللہ وجہہ حلق کرانے میں منفرد تھے۔‘‘
اسی مسئلے پر حضرت حکیم الاُمت تھانوی قدس سرہٗ کے دو فتوے نظر سے گزرے، اتماماً للفائدہ پیش کرتا ہوں:
’’سر کے بال کٹوانا:
الجواب:۔سنت مطلقہ یہ ہے جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور عبادت کیا ہے، ورنہ سننِ زوائد سے ہوگا، تو بال رکھنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بطور عادت کے ہے، نہ بطور عبادت کے، اس لئے اَوْلیٰ ہونے میں تو شبہ نہیں، مگر اس کے خلاف کو خلافِ سنت نہ کہیں گے، اگرچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی نہ ہوتی، چہ جائیکہ وہ حدیث بھی ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہ فرمانا یقینی دلیل ہے بال نہ رکھنے کی جواز بلا کراہت کے اور خلافِ سنت نہ ہونے کے، پس جس حالت میں بالکل منڈوادینا جائز ہے تو قصر کرانے میں کیا حرج ہے؟
لِلْاِجْمَاعِ عَلٰی تَسَاوِیْ حُکْمِ الْقَصْرِ وَالْحَلْقِ لِشَعْرِ الرَّأْسِ فِیْ مِثْلِ ہٰذَا الْحُکْمِ وَاِلَی التَّسَاوِیْ اُشِیْرَ بِقَوْلِہٖ تَعَالٰی: ﵟ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمۡ وَمُقَصِّرِينَ ﵞوَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔
۱۸؍ربیع الاوّل ۱۳۲۱ھ۔‘‘ (امداد ج:۲ ص: ۱۵۲)
’’سر کے بال کٹوانا:
الجواب:۔جواز تقصیر کا حج کے ساتھ مخصوص ہونا محتاجِ دلیل ہے، اور شاید کسی کو شبہ ہو کہ اس کی نسبت ’’یَاْخُذُ مِنْ کُلِّ شَعْرَۃٍ قَدْرَ الْاَنْمُلَۃِ‘‘ لکھا ہے، تو سمجھنا چاہئے کہ یہ مقدار ادنیٰ کی ہے، مقصود نفی زائد کی نہیں ہے۔ چنانچہ ردّ المحتار میں بدائع سے نقل کیا ہے: قَالُوْا یَجِبُ اَنْ یَّزِیْدَ فِی التَّقْصِیْرِ عَلٰی قَدْرِ الْاَنْمُلَۃِ ۔۔۔ اِلٰی اٰخِرِہٖ۔ اور اسی طرح رُبع کی تخصیص بیانِ ادنیٰ کے لئے ہے، چنانچہ در مختار میں تصریح ہے: تَقْصِیْرُ الْکُلِّ مَنْدُوْبٌ، پس وہ شبہ رفع ہوگیا، اور فارق منتفی ہے، لہٰذا جواز عام ہے۔ اور اگر کوئی شخص اَثرِ مذکور کو فارق کہے تو بایں وجہ صحیح نہیں کہ اَثرِ مذکور ثبوتاً و دلالۃً مخدوش ہونے کے علاوہ مفید مقصود کو نہیں، اوّلاً یہ کہ جب تک اس کے رُواۃ کی توثیق نہ ہو اس وقت تک اس کی صحت یا حسن ثابت نہیں، اور حدیث ضعیف حسبِ تصریح اہلِ علم کسی حکمِ شرعی کے لئے مثبت نہیں ہوسکتی۔(۱)
ثانیاً یہ کہ سکینہ کی یہ تفسیر جو سوال میں مذکور ہے محتاجِ دلیل ہے، خواہ لغت ہو یا نقلِ صحیح ہو، اور یہ دونوں امر بذمہ مستدل ہیں۔ تیسرے اس میں ’’جزو‘‘ کا لفظ بطور تخیر آیا ہے اور ’’جز‘‘ کے معنی لغت اور استعمال میں مطلق قطع کے ہیں مخصوص حلق کے ساتھ نہیں، بلکہ مخصوص بالوں کے ساتھ بھی نہیں، چنانچہ مشکوٰۃ باب الترجل میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’فَقَالَتْ اُمِّیْ لَا اَجُزُّہٗ‘‘ اور آگے اس کی علت بیان فرمائی: ’’کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَمُدُّہٗ‘‘ اور ظاہر ہے کہ یہ علت مقتضی عموم معنی جز کو ہے۔ اور شمائل ترمذی میں حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’فَاُتِیَ بِجَنْبٍ مَّشْوِیٍّ ثُمَّ اَخَذَ الشَّفْرَۃَ فَجَعَلَ یَجُزُّ لِیْ‘‘ اس میں دو نسخے ہیں: حاء اور جیم، اس سے عموم غیرشعر کے لئے ظاہر ہے۔ چوتھے ممکن ہے کہ یہ حکم مقید اس صورت کے ساتھ ہو کہ جب بال مانگ نکالنے کے قابل ہوں اور پھر مانگ نہ نکالی جائے جس کو سدل کہتے ہیں جس کے باب میں حدیث میں آیا ہے: ’’فَسَدَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَاصِیَہٗ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ‘‘ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ کَذَا فِی الْمِشْکٰوۃِ بَابُ التَّرَجُّلِ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشانی کے بالوں کا سدل فرمایا، لیکن بعد میں مانگ نکالنے لگے۔ بخلاف اس صورت کے چھوٹے چھوٹے بال ہوں، خواہ بڑھے نہ ہوں یا کٹا دئیے ہوں، اس صورت میں یہ حکم نہ ہو، چنانچہاَفْرِقْہُ اَوْ جُزَّہٗ، عَلٰی سَبِیْلِ التَّخْیِیْرِ فرمانا اس منع بالمعنی الاصطلاح کی سند ہوسکتی ہے کیونکہ تخییر موقوف ہے دونوں شقوں کے امکان عادی پر، اور امکان فرق موقوف ہے بالوں کے بڑے ہونے پر۔ پانچویں ممکن ہے کہ یونہی مخصوص ہو اس صورت کے ساتھ جبکہ اہلِ باطل کی وضع پر ہوں، جیسا اس وقت نئی فیشن ایجاد ہوئی ہے، یا یہ کہ کسی فساد کی نیت سے ہو، جیسا کہ دُوسرے متعاطفات بھی اس پر دال ہیں، ورنہ لازم آتا ہے کہ مضغ علک اور قباء میں چاک دونوں پہلوؤں پر رکھنا بھی مطلقاً ناجائز ہو، ولا قائل بہٖ، پس ان وجوہ سے یہ اثر مخصص یا مفسر جواز تقصیر کا نہیں ہوسکتا، بخلاف نہی عن القزع کے کہ بوجہ صحتِ حدیث کے اطلاق حلق کو مقید کرسکتا ہے، پس تقصیر فی نفسہٖ بحالہٖ جائز رہا، البتہ عارض تشبہ سے جہاں تشبہ لازم آتا ہو بعض صورتیں ممنوع ہوجائیں گی،ہٰذَا مَا حَضَرَ لِیَ الْاٰنَ، وَلَعَلَّ اللہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا، وَاللہُ اَعْلَمُ! ۲۴؍ربیع الثانی ۱۳۲۴ھ۔‘‘
(امداد ج:۲ ص:۱۷۲، امداد الفتاویٰ ج:۴ ص:۲۲۴ تا ۲۲۶)
’’سعید بن میسرۃ البکری ابو عمران، قال البخاری: عندہ مناکیر وقال ایضًا منکر الحدیث، وقال ابن حبان: یروی الموضوعات، وقال الحاکم: روی عن انس موضوعات، وکذبہ یحیٰی القطان۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔ ’’اِمام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ: اس کے پاس ’’منکر‘‘ روایتیں ہیں، اور یہ کہ یہ راوی منکر الحدیث ہے۔ ابنِ حبانؒ فرماتے ہیں کہ: یہ موضوع روایتیں روایت کرتا ہے۔ حاکمؒ فرماتے ہیں کہ: اس نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بہت سی موضوع روایتیں روایت کی ہیں۔ اور اِمام یحییٰ بن سعید القطان نے اس کو کذّاب کہا ہے۔‘‘
شیخ ابنِ عراقؒ ’’تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ عن الأحادیث الشنیعۃ الموضوعۃ‘‘ کے مقدمے میں لکھتے ہیں:
’’من عرف بالکذب فی الحدیث وروی حدیثًا لم یروہ غیرہ فان نحکم علٰی حدیثہ ذٰلک بالوضع اذا انضمت الیہ قرینۃ تقتضی وضعہ، کما صرح بہ العلائی وغیرہ۔‘‘ (ج:۱ ص:۱۰)۔
ترجمہ:۔۔۔ ’’جو شخص حدیث میں جھوٹ بولنے کے ساتھ معروف ہو اور وہ ایسی حدیث روایت کرے جس کو اس کے سوا کوئی دُوسرا روایت نہیں کرتا تو ہم اس کی روایت کو موضوع قرار دیں گے، جبکہ اس کے موضوع ہونے کا قرینہ بھی موجود ہو، جیسا کہ حافظ علائی وغیرہ نے تصریح کی ہے۔‘‘
ابنِ عراقؒ نے اسی مقدمے میں کذّاب و وضاع راویوں کی فہرست دی ہے، اس میں ص:۶۳ پر حرف سین کے تحت نمبر:۲۲ پر سعید بن میسرۃ البکری کا ذکر بایں الفاظ کیا ہے: ’’کذبہ یحیی القطان وقال ابن حبان: یروی الموضوعات۔‘‘ اس کی تفصیل سے معلوم ہوا کہ زیر بحث روایت بھی اسی ذخیرۂ موضوعات میں سے ہے، جس کو سعید بن میسرہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کیا کرتا تھا۔ اور جب یہ روایت ہی موضوع ہے تو اس سے مسائل کا استنباط بھی صحیح نہ ہوگا۔ علاوہ ازیں غیرمجتہد کے لئے یہ جائز نہیں کہ کسی کتاب میں کوئی روایت دیکھ کر اس پر عمل شروع کردے بلکہ اس کے ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اَئمہ مجتہدین رحمہم اللہ نے اس بارے میں کیا فرمایا ہے؟ کیونکہ دلیل میں نظر کرنا مجتہد کا وظیفہ ہے، عامی کا نہیں۔ اور اَئمہ اربعہؒ اس پر متفق ہیں کہ سر کے بال رکھنا بھی جائز ہے اور کاٹنا بھی جائز ہے۔ نیز قینچی سے تراشنا بھی جائز ہے اور اُسترے سے حلق کرنا بھی جائز ہے۔ جیسا کہ اُوپر تفصیل گزرچکی ہے، تو ایک عامی کے لئے ’’اِجماعِ علماء‘‘ کی مخالفت کسی طرح جائز نہیں ہوسکتی۔ واللہ اعلم بالصواب! محمد یوسف عفا اللہ عنہ
- (۱) کتاب الاسماء والکنی کی اس روایت کی سند میں ابو عمران سعید بن میسرہ البکری الموصلی، کذّاب ہے، اس لئے یہ روایت نہ صرف منکر بلکہ موضوع ہے۔ حافظ ذہبیؒ ’’میزان الاعتدال‘‘ میں اور حافظ ابنِ حجرؒ ’’لسان المیزان‘‘ میں لکھتے ہیں:

