جسمانیوضعقطع
مردکےسرکےبالکتنےلمبےہونےچاہئیں؟
سوال:۔
مرد کے سر کے بال کتنے لمبے ہونے چاہئیں؟ زلفوں کے نام پر عورتوں کی طرح لمبے لمبے بال رکھنے کی اجازت ہے یا نہیں؟
جواب:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کانوں کی لَو تک ہوتے تھے، اگر اصلاح بنوانے میں تأخیر ہوجاتی تو اس سے نیچے بھی ہوجاتے تھے، یہ مردوں کے لئے سنت ہے،(۱) لیکن اس طرح بڑھانا کہ عورتوں سے مشابہت ہوجائے، یہ جائز نہیں۔(۲)
- (۱) عن أنس أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یضرب شعرہ منکبیہ، وفی روایۃ عن قتادۃ سألت أنس بن مالک عن شعر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: کان شعر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رِجُلا لیس بالسبط ولَا الجعد بین اُذنیہ وعاتقیہ۔ (بخاری ج:۲ ص:۸۷۶، باب الجعد، أبوداوٗد ج:۲ ص:۲۲۳)۔ عن عائشۃ قالت ۔۔۔ وکان لہ شعر فوق الجمۃ دون الوفرۃ۔ رواہ الترمذی۔ (مشکٰوۃ ص:۳۸۲، باب الترجل)۔ (قولہ وکان لہ شعر فوق الجمۃ ۔۔۔إلخ) ھٰذا بظاھرہ یدل علٰی ان شعرہ صلی اللہ علیہ وسلم کان امرًا متوسطًا بین الجمۃ والوفرۃ، ولیس بجمۃ ولَا وفرۃ إذ معنٰی فوق الوفرۃ، ان شعرہ لم یصل إلٰی محل الجمۃ وھو المنکب، ومعنٰی دون الوفرۃ، ان شعرہ أطول من محل الوفرۃ إلٰی شحمۃ الأذن، ولعل ذالک بإعتبار إختلاف أحوالہ صلی اللہ علیہ وسلم، وفی روایۃ أبی داوٗد: قالت: کان شعر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوق الوفرۃ دون الجمۃ قیل ھو الصواب ۔۔۔إلخ۔ (مرقاۃ شرح مشکٰوۃ ج:۴ ص:۴۷۰، کتاب الترجل، طبع بمبئی)۔
- (۲) وعنہ (أی ابن عباس) قال: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لعن اللہ المتشبھین من الرجال بالنساء والمتشبھات من النساء بالرجال۔ رواہ البخاری۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۳۸۰ باب الترجل)۔

