بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جسمانی‌وضع‌قطع

کیا‌عورتوں‌کو‌زیبائش‌کی‌اجازت‌ہے؟

سوال:۔

آج کل کاسمیٹک (میک اَپ) پاکستان میں عام ہے اور اس سلسلے میں ہم یورپ سے مقابلہ کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کروڑوں روپے ہم ان اشیاء کے لئے زَرِ مبادلہ کی صورت میں خرچ کرتے ہیں۔ اور اب حال یہ ہے کہ گھریلو بجٹ میں ایک کثیر رقم صرف میک اَپ کے لوازمات کے لئے رکھتے ہیں۔ یہ سب اشیاء یورپین ملکوں سے آتی ہیں، اس میں روغن، چکنائی کا عنصر لازمی جزو ہے، جبکہ یہ ممالک ’’سوَر‘‘ کا استعمال آزادانہ کرتے ہیں اور اس میں ہر چیز کو عام اور مخصوص طریقے پر استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے پاکستانی بھائی بہن یورپ کی بنی ہوئی اشیاء خصوصاً ’’میک اَپ‘‘ بڑے فخر سے استعمال کرتے ہیں، بلکہ اگر یہ کہوں کہ اس کے لئے باقاعدہ ٹائم ٹیبل کے ساتھ ماہرین کی خدمات، جب تک اہلِ خانہ خود اس میں ماہر نہ ہوجائیں، حاصل کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم لوگ اس احساسِ کمتری میں کیوں مبتلا ہیں؟ اسلام نے خوش پوشی کی تعلیم دی ہے، عورتوں کے لئے بناؤ سنگھار کے لئے ایک خصوصی حد مقرّر کی ہے، خوشبویات مسلمانوں کے لباس کا ایک حصہ ہیں، پھر ایسا کیوں ہے؟ یہ وبا کہاں سے پھوٹتی ہے؟ اور پاکستان میں اس کا منبع یا مارکیٹ کہاں ہے؟ اور پھر ان کے اشتہارات ٹی وی، ریڈیو، سینما گھر پر کیوں ہوتے ہیں؟ اربابِ حکومت اس کا نوٹس کیوں نہیں لیتے؟ ایک طرف اسلامی نظام لانے کی بات ہو رہی ہے، دُوسری طرف غیرملکی اشتہارات کی بھرمار ہے۔ اہلِ علم، اہلِ عقل اور دُوسرے اکابرینِ ملت اس پر لکھیں، بات کریں، سمجھیں سمجھائیں اور ہر کوشش کریں، یہ ایک اپیل ہے، خدا کامیاب فرمائے۔

جواب:۔

آپ کے جذبات لائقِ قدر ہیں۔ عورتوں کو زیب و زینت کی اجازت ہے مگر اس کا بھی کوئی سلیقہ ہونا چاہئے، مگر ہمارے یہاں زیبائش و آرائش میں جو غلوّ کیا جاتا ہے، یہ لائقِ اصلاح ہے۔ ایک غریب خاندان، غریب معاشرے اور غریب ملک کے لئے یہ چونچلے کسی طرح بھی زیب نہیں دیتے، جتنا زَرِ مبادلہ ان لغویات پر صَرف کیا جاتا ہے اس کو ملک کی فلاح و بہبود اور ترقی پر خرچ کیا جاسکتا ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ مسلمانوں میں دِین تو کمزور ہوا ہی تھا، عقل و تدبیر کی کمزوری بھی بہت بڑھ گئی ہے، اِجتماعی سوچ تو بالکل ہی مفقود ہوگئی، یہی وجہ ہے کہ ہر جگہ مار کھاتے ہیں۔