جسمانیوضعقطع
عورتوںکابالکاٹناشرعاًکیساہے؟
سوال:۔
کیا کٹے ہوئے بالوں اور باریک دوپٹوں جیسے کہ آج کل چل رہے ہیں، جارجیٹ وغیرہ کے دوپٹے، ان میں نماز ہوجاتی ہے یا نہیں؟ کٹے ہوئے بالوں کا بھی بتائیں کیونکہ آج کل زیادہ تر لڑکیوں کے بال کٹے ہوئے ہوتے ہیں، اور وہ نماز بھی پڑھتی ہیں۔
جواب:۔
عورتوں کو سر کے بال کاٹنا جائز نہیں، بال کاٹنے کا گناہ الگ ہوگا مگر نماز ہوجائے گی۔(۱) سر کا دوپٹہ اگر ایسا باریک ہے کہ اندر سے بدن نظر آتا ہے تو اس سے نماز نہیں ہوگی۔(۲)
- (۱) وعنہ (أی ابن عباس) قال: قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لعن اللہ المتشبھین من الرجال بالنساء، والمتشبھات من النساء بالرجال۔ (رواہ البخاری ص: ۳۸۰، باب المترجل)۔ ولو حلقت المرأۃ رأسھا فإن فعلت لوجع أصابھا لَا بأس بہ، وإن فعلت ذالک تشبیھًا بالرجل فھو مکروہ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۵ ص:۳۵۸)۔ وفی رد المحتار ج:۶ ص:۴۰۷ قطعت شعر رأسھا أثمت ولعنت، زاد فی البزازیۃ، وإن بإذن الزوج لأنہ لَا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق والمعنی المؤثرۃ التشبہ بالرجال۔
- (۲) لو رفعت یدیھا للشروع فی الصلٰوۃ فانکشفت من کمیّھا ربع بطنھا أو جنبھا لَا یصح شروعھا اھـ۔ قال فی الدرالمختار: وللحرّۃ ولو خنثٰی جمیع بدنھا۔ حتّٰی شعرھا النازل فی الأصح خلا الوجہ والکفین فظھر الکف عورۃ علی المذھب والقدمین۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار ج:۱ ص:۴۰۵، مطلب فی ستر العورۃ)۔

