جسمانیوضعقطع
بیوٹیپارلرزکیشرعیحیثیت
سوال۱:۔
ہمارے شہر کراچی میں بیوٹی پارلرز کی بہتات ہے، اسلام میں ان بیوٹی پارلرز کے بارے میں کیا اَحکام ہیں؟ شہر کے مصروف کاروباری مراکز میں مرد کاروباری حضرات کے ساتھ بیوٹی پارلرز کی دُکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ برائے مہربانی شرع کے لحاظ سے ان بیوٹی پارلرز کے لئے کیا حکم ہے، تحریر کریں؟ کیا مرد اور عورت ساتھ ساتھ کاروبار کرسکتے ہیں؟
سوال۲:۔
کیا خواتین کا بیوٹی پارلرز کا کام سیکھنا اور اس کو بطور پیشہ اپنانا اسلام میں جائز ہے؟
سوال۳:۔
بیوٹی پارلرز میں جس انداز سے خواتین کا بناؤ سنگھار کیا جاتا ہے، کیا وہ اسلام میں جائز ہے؟ کیونکہ بیوٹی پارلرز سے واپس آنے کے بعد عورت اور مرد میں فرق معلوم کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ہمارے بیوٹی پارلرز میں خواتین کے بال جس انداز سے کاٹے جاتے ہیں، کیا وہ شرع کے لحاظ سے جائز ہیں؟
سوال۴:۔
بعض بیوٹی پارلرز کی آڑ میں لڑکیاں سپلائی کرنے کا کاروبار بھی ہوتا ہے، شرع کے لحاظ سے ایسے کاروبار کے لئے کیا حکم ہے، جس سے ملک میں فحاشی پھیلنے لگے؟
جواب:۔
خواتین کو آرائش و زیبائش کی تو اِجازت ہے، بشرطیکہ حدود کے اندر ہو، لیکن موجودہ دور میں بیوٹی پارلرز کا جو ’’پیشہ‘‘ کیا جاتا ہے اس میں چند در چند قباحتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے یہ پیشہ حرام ہے اور وہ قباحتیں مختصراً یہ ہیں:
اوّل:۔ بعض جگہ مرد اس کام کو کرتے ہیں اور یہ خالصتاً بے حیائی ہے۔
دوم:۔ ایسی خواتین بازاروں میں حسن کی نمائش کرتی پھرتی ہیں، یہ بھی بے حیائی ہے۔
سوم:۔ جیسا کہ آپ نے نمبر۳ میں لکھا ہے، بیوٹی پارلر سے واپس آنے کے بعد مرد و عورت اور لڑکے اور لڑکی میں امتیاز مشکل ہوتا ہے، حالانکہ مرد کا عورتوں اور عورت کا مردوں کی مشابہت کرنا موجبِ لعنت ہے۔(۱)
چہارم:۔ جیسا کہ آپ نے نمبر۴ میں لکھا یہ ’’مراکزِ حسن‘‘ فحاشی کے خفیہ اَڈّے بھی ہیں۔
پنجم:۔ عام تجربہ یہ ہے کہ ایسے کاروبار کرنے والوں کو (خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں) دِین و ایمان سے کوئی واسطہ نہیں رہ جاتا ہے، اس لئے یہ ظاہری زیبائش باطنی بگاڑ کا ذریعہ بھی ہے۔
- (۱) عن علقمۃ قال: لعن عبداللہ الواشمات والمتنمّصات والمتفلّجات للحسن المغیّرات خلق اللہ فقالت اُمّ یعقوب: ما ھٰذا؟ قال عبداللہ: وما لی لَا ألعن من لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔إلخ۔ (بخاری ج:۲ ص:۸۷۹، باب المتنمصات)۔ قال ابن عباس قال لعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم المتشبھین من الرجال بالنساء والمتشبھات من النساء بالرجال۔ (بخاری ج:۲ ص:۸۷۴، باب المتشبّھین بالنساء والمتشبّھات بالرجال)۔

