جسمانیوضعقطع
عورتکوسرکےبالوںکیدوچوٹیاںبناناکیساہے؟
سوال:۔
مسئلہ یوں ہے کہ میں کالج کی طالبہ ہوں اور اکثر دو چوٹی باندھ لیتی ہوں، لیکن ایک دن میری سہیلی نے مجھے بتایا کہ دو چوٹی کا باندھنا سخت گناہ ہے، اور مجھے قبر کے مُردے کا حال بتایا کہ جس کے پیروں کے انگوٹھے میں بال بندھ گئے تھے۔ میں نے تصدیق کے لئے اپنی خالہ سے پوچھا، تو انہوں نے بھی مجھے یہی کہا کہ یہ گناہ ہے، اور مزید یہ بھی بتایا کہ میک اَپ کرنا، ٹائیٹ کپڑے اور فیشن ایبل کپڑے پہننا بھی گناہ ہے، اور ساتھ میں وہی واقعہ جو کہ میری سہیلی نے سنایا تھا، سنایا۔ اس دن سے آج تک میں نے دو چوٹی نہیں باندھی، لیکن میری دُوسری سہیلی کا کہنا ہے کہ یہ سب وہم پرستی کی باتیں ہیں، وہ اصرار بھی کرتی ہے کہ میں دو چوٹی باندھوں۔ برائے مہربانی مجھے اسی ہفتے کے صفحے میں جواب دے کر اس پریشانی سے نجات دِلائیں، میں آپ کی بہت مشکور رہوں گی۔
جواب:۔
اس مسئلے میں ایک اُصولی قاعدہ سمجھ لینا چاہئے کہ مسلمان کو ایسی وضع قطع اور لباس کی ایسی تراش خراش کرنے کی اجازت نہیں جس میں کافروں یا فاسقوں اور بدکاروں کی مشابہت پائی جائے۔ اگر کوئی شخص (خواہ مؤمن مرد ہو یا عورت) ایسا کرے گا تو اس کو کافروں کی شکل و صورت محبوب ہے، اور یہ بات اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی موجب ہے۔ دو چوٹیوں کا فیشن بھی غلط ہے۔(۱)
- (۱) عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من تشبہ بقوم فھو منھم۔ رواہ أحمد وأبوداوٗد وابن ماجۃ۔ وفی روایۃ عن ابن عمرو بن العاص قال: رأی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علَیّ ثوبین معصفرین فقال: إن ھٰذہ من ثیاب الکفار فلا تلبسھما۔ (مشکٰوۃ ج:۲ ص:۳۷۴، ۳۷۵)۔ وفی المرقاۃ ج:۴ ص:۴۳۱، کتاب اللباس: من شبہ نفسہ بالکفار فی اللباس وغیرہ أو بالفساق أو الفجار أو بأھل التصوف والصلحاء الأبرار، ’’فھو منھم‘‘ أی فی الْإثم والخیر۔ قال الطیبی: ھٰذا عام فی الخَلق والخُلق والشعار، ولما کان الشعار أظھر فی الشبہ۔ ذکر فی ھٰذا الباب۔

