جسمانیوضعقطع
چہرےاوربازوؤںکےبالکاٹناعورتکےلئےکیساہے؟
سوال:۔
کیا خواتین کے لئے چہرے، بازوؤں اور بھنوؤں کے درمیان کا رُواں صاف کرنا گناہ ہے؟ جواب مدلل دیجئے گا۔
سوال:۔
کیا بڑھتے ہوئے ناخن مکروہ ہوتے ہیں؟
جواب:۔
محض زیبائش کے لئے تو فطری بناوٹ کو بدلنا جائز نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بال نوچنے اور نچوانے والیوں پر لعنت فرمائی ہے (مشکوٰۃ شریف ص:۳۸۱)۔(۱) البتہ اگر عورت کے چہرے پر غیرمعتاد بال اُگ آئیں تو ان کے صاف کرنے کی فقہاء نے اجازت لکھی ہے، اسی طرح جن بالوں سے شوہر کو نفرت ہو ان کے صاف کرنے کی بھی اجازت دی ہے، (رد المحتار، کتاب الحظر والْإباحۃ)۔(۲) (مگر اس سے سر کے بال کٹوانے کی اجازت نہ سمجھ لی جائے)۔
جواب:۔
جی ہاں! سخت مکروہ۔(۳)
- (۱) عن عبداللہ بن مسعود قال: لعن اللہ الواشمات والمستوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اللہ، فجائتہ إمرأۃ فقالت: إنہ بلغنی أنک لعنت کیت وکیت، فقال: ما لی لَا ألعن من لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ومن ھو فی کتاب اللہ ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۳۸۱، باب الترجل، الفصل الأوّل)۔
- (۲) ۔۔۔ وإلّا فلو کان فی وجھھا شعر ینفر زوجھا عنھا بسببہ ففی تحریم إزالتہ بعد لأن الزینۃ للنساء مطلوبۃ للتحسین۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۳۷۳، کتاب الحظر والْإباحۃ)۔ أیضًا: قطعت شعر رأسھا أثمت ولعنت ۔۔۔ والمعنی المؤثرۃ التشبہ بالرجال۔ (الدرالمختار ج:۶ ص:۴۰۷، کتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی البیع)۔
- (۳) عن أنس قال: وقت لنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی قص الشارب وتقلیم الأظفار ۔۔۔ أن لَا نترک أکثر من أربعین لیلۃً۔ (مشکٰوۃ ص:۳۸۰، باب الترجل)۔ والأفضل أن یقلم أظفارہ ویحفی شاربہ ویحلق عانتہ وینظف بدنہ بالْإغتسال فی کل اُسبوع مرۃ، فإن لم یفعل ففی کل خمسۃ عشر یومًا، ولَا یعذر فی ترکہ وراء الأربعین فالاُسبوع ھو الأفضل والخمسۃ عشر الأوسط والأربعون الأبعد ولَا عذر فیما وراء الأربعین ویستحق الوعید۔ (عالمگیریۃ ج:۵ ص:۳۵۷)۔

