جسمانیوضعقطع
عورتوںکافیشنکےلئےبالاوربھنویںکٹوانا
سوال:۔
کیا شریعت میں جائز ہے کہ عورتیں اپنی بھنویں بنائیں اور دُوسروں کو دِکھائیں اور اصلی بھنویں منڈواکر سرمہ یا کسی اور کالی چیز سے نقلی بنائیں یا کچھ کم و بیش بال رہنے دیں؟ آج ملک بھر میں کم از کم میرے خیال کے مطابق ۷۵ فیصد پڑھی لکھی عورتیں بال کٹواکر گھوم رہی ہیں اور ان کے سروں پر دوپٹے نہیں ہوتے، اگر کسی کے پاس دوپٹہ ہو بھی تو گلے میں رَسّی کی مانند ڈالا ہوتا ہے، اور اگر ان سے کہیں کہ یہ اسلام میں جائز نہیں، تو جواب ملتا ہے کہ: ’’اب ترقی کا دور ہے، اس میں سب کچھ جائز ہے، اور پھر مرد بھی تو بال کٹواتے ہیں، اور ہم مردوں کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں اور مغربی لوگ بھی تو بال کٹواتے ہیں، جو ہم سے زیادہ ترقی کرچکے ہیں۔‘‘
جواب:۔
اس مسئلے کا حل واضح ہے کہ ایسی عورتوں کو نہ خدا اور رسول کی ضرورت ہے، نہ دِینِ اسلام کی، ان کو ’’ترقی‘‘ کی ضرورت ہے، لیکن مرنے کے بعد اس کی حقیقت معلوم ہوگی۔ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان رکھتا ہو اس کو ہر کام میں اللہ و رسول کے حکم کو دیکھنا لازم ہے۔(۱)
- (۱) قال تعالٰی: ﵟ وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمۡ عَنۡهُ فَٱنتَهُواْۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ﵞ سورة الحشر ٧۔

