جسمانیوضعقطع
انسانیوضعقطعاوراسلامکیتعلیم
سوال:۔
اسلام کے آفاقی نظامِ حیات میں انسان کے لئے اس کی وضع قطع اور تراش خراش و لباس وغیرہ کے بارے میں کیا اُصول اور قواعد و ضوابط وضع کئے ہیں؟ یا یہ کہ ان ظاہری شکل و شباہت کو اُصول و ضوابط کی بندشوں سے آزاد رکھا گیا ہے، آج حال کے مسلم سے تو ایک عام مسلمان اس ضمن میں کسی نتیجے پر پہنچنے سے قاصر ہے، جبکہ علامہ اقبال جیسے فلسفی اور اہلِ علم نے مسلمانوں کی ظاہری حالت دیکھ کر فرمایا تھا:
وضع میں تم ہو نصاریٰ، تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود
نیز یہ ضرور وضاحت کی جائے کہ پتلون اور ٹائی غیرمسلمانوں کے شعائر میں سے ہیں یا نہیں؟ اور جو اس پر عامل ہوں گے، وہ لوگ غیرمسلموں کی تقلید کی وعید میں آئیں گے یا نہیں؟
جواب:۔
وضع قطع کے بارے میں یہ اُصول مقرّر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کی وضع قطع اختیار کی جائے، اور فاسق و بدکار اور کفار کی وضع قطع سے احتراز کیا جائے، یہی شکل و صورت میں بھی، لباس کی تراش خراش میں بھی، نشست و برخاست میں بھی، کھانے پینے، ملنے برتنے اور لین دین میں بھی۔(۱)
ٹائی اور کالر دراصل عیسائیوں کا مذہبی شعار تھا، اب بظاہر کسی قوم کی خصوصیت نہیں رہی، مگر اپنی اصل کے لحاظ سے مکروہ ہے، اور پتلون شرٹ بھی انہی لوگوں کا شعار ہے، ان کو اِختیار کرنے والوں کے حق میں حدیث کی وعید کا اندیشہ ہے، واﷲ اعلم!(۲)
- (۱) وعنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من تشبّہ بقوم فھو منھم، أی من شبہ نفسہ بالکفار مثلًا فی اللباس وغیرہ أو بالفساق أو الفجار أو بأھل التصوّف والصلحاء الأبرار فھو منھم أی فی الْإثم والخیر ۔۔۔إلخ۔ (مرقاۃ شرح مشکٰوۃ ج:۴ ص:۴۳۱، کتاب اللباس، الفصل الثانی، طبع بمبئی)۔
- (۲) فأما ممنوعون من التشبّہ بالکفر وأھل البدعۃ المنکرۃ فی شعارھم ۔۔۔ فالمدار علی الشعار ۔۔۔إلخ۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۲۲۸، طبع مجتبائی دھلی)۔

