داڑھی
کیاداڑھینہرکھنےاورکٹوانےوالوںکیعبادتقبولہوگی؟
سوال:۔
جو لوگ داڑھی نہیں رکھتے یا خلافِ سنت داڑھی رکھتے ہیں، کیا ان کے اعمال قبول ہوں گے یا نہیں؟
جواب:۔
یہ تو قبول کرنے والا ہی جانتا ہے، لیکن جو شخص عین عبادت میں بھی خدا تعالیٰ کی نافرمانی کی علامت منہ پر لئے ہوئے ہو، اسے نہ اس پر ندامت ہو، نہ وہ اس سے توبہ کرے، اس کی عبادت قبول ہونی چاہئے یا نہیں؟ اس کا فتویٰ اپنی عقلِ خداداد سے پوچھئے! مثلاً جو شخص حج کے دوران بھی اس گناہ سے توبہ نہ کرے اور نہ حج کے بعد اس سے باز آئے، کیا خیال ہے کہ اس کا حج، حجِ مبرور ہوگا۔؟ جبکہ حجِ مبرور نام ہی اس حج کا ہے جو خدا تعالیٰ کی نافرمانی سے پاک ہو۔(۱)
- (۱) عن أبی ھریرۃ قال: سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول: من حَجَّ ِﷲِ ولم یرفُث ولم یفسق، رجع کیومٍ ولدتہ اُمّہ، وفی روایۃ: قالت: یا رسول اللہ! تری الجھاد أفضل العمل أفلا نجاھد؟ قال: لَا لٰـکن أفضل الجھاد حجٌّ مبرور۔ (بخاری ج:۱ ص:۲۰۶)۔ أیضًا: أن الحج المبرور علٰی ما نقلہ العسقلانی عن ابن خالویہ المقبول وھو کما تری أمرہ مجھول وقال غیرہ ھو الذی لَا یخالطہ شیء من المعاصی ورجحہ النووی وھٰذا ھو الأقرب وإلّا قواعد الفقہ أنسب ۔۔۔ وقیل الذی لَا ریاء فیہ ولَا سمعۃ ولَا رفث ولَا فسوق وھٰذا داخل فیما قبلہ وقیل الذی لَا معصیۃ بعدہ ۔۔۔إلخ۔ (إرشاد الساری ص:۲۲۲ طبع دار الفکر بیروت)۔

