بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

داڑھی

داڑھی:‌مسلمانوں‌کے‌تشخص‌کا‌اظہار

سوال:۔

جمعہ کی اشاعت میں ایک مضمون نظر سے گزرا، مضمون نگار اپنے اس مضمون میں نہ صرف بہت زیادہ اِنتہاپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں بلکہ وہ ایک ایسی الزام تراشی کے مرتکب ہوئے ہیں جس کا تصوّر بھی کوئی مسلمان نہیں کرسکتا۔ صاحبِ مضمون نے اپنے مضمون میں یہ لکھا ہے کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے انسان کو مرد اور عورت کے جوڑے سے پیدا کیا ہے، دونوں کی نفسیات، جذبات اور چہروں میں نمایاں فرق رکھا ہے، مرد کے چہرے پر عورت کے چہرے کے برعکس مردانہ وجاہت کے لئے داڑھی تخلیق فرمائی ہے، بلکہ سجائی ہے، مگر افسوس کہ آج ایمان کے دعوے داروں نے اللہ تعالیٰ کی اس بہترین تخلیق کا انکار کیا، بلکہ دُشمنی کی، فطرتِ انسانی کو رَدّ کردیا، اسے اپنے چہروں سے کاٹ کر پھینک دیا، اس بات کی پہچان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز بے کار پیدا نہیں کی ہے، مگر بس ایک چیز بے کار پیدا کی ہے اور وہ مرد کے چہرے پر داڑھی (معاذ اللہ)۔‘‘ میں سمجھتا ہوں کہ دُنیا کا کوئی بھی مسلمان اس بات پر اِیمان نہیں رکھتا کہ اللہ تعالیٰ نے داڑھی بے کار پیدا کی ہے، یہ ڈاکٹر صاحب کی الزام تراشی ہے جو وہ تمام مسلمانوں پر کر رہے ہیں۔ اس سے آگے چل کر موصوف نے صحیح مسلم اور مشکوٰۃ کی احادیث بیان کرنے کے بعد حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت بھی بیان کی ہے کہ: ’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ان مردوں پر لعنت ہو جو عورتوں کی مشابہت کریں، اور ان عورتوں پر لعنت ہو جو مردوں کی مشابہت کریں۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے لکھا ہے کہ: ’’داڑھی نہ رکھنے والوں کو عیسائیوں کے چہرے سے محبت، ہندوؤں کے چہروں سے محبت، مرد ہوکر زَنانے چہروں سے محبت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ انور سے نفرت (معاذ اللہ)، تمام انبیاء کے چہروں سے نفرت، صحابہ رضی اللہ عنہم کے چہروں سے نفرت (معاذ اللہ) یہ ہے ایمان، یہ ہے اطاعت و فرماںبرداریٔ رسول۔‘‘ مندرجہ بالا تحریر میں تو مضمون نگار نے ایک ایسی بات کی ہے، ایک ایسا الزام لگایا ہے جس کا تصوّر کسی ایسے مسلمان سے بھی نہیں کیا جاسکتا جو صرف اپنے نام کا مسلمان ہو، اور اس نے آج تک کوئی عمل بھی مسلمانوں جیسا نہ کیا ہو، لیکن پھر بھی اس کے دِل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ سے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے چہرۂ مبارک سے اتنی شدید گہری محبت ہوتی ہے کہ جس کا تصوّر بھی شاید نہیں کرسکتے۔ ایک مسلمان اپنے دِل میں انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے نفرت کا تصوّر تو ذہن میں لاہی نہیں سکتا۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ ناموسِ رسالت پر جان دینے والے، صحابہ کرامؓ کی محبت میں اپنا سر تک کٹادینے والے عامی مسلمان تھے۔ آخر میں، میں صاحبِ مضمون سے درخواست کروں گا کہ خدارا! آخرت کی جوابدہی کو پیشِ نظر رکھیں اور عام مسلمانوں پر ان باتوں کا اِلزام نہ لگائیں جس کا تصوّر بھی وہ نہیں کرسکتے۔ ہمارے معاشرے میں جو میں کہوں گا کہ نوّے فیصد غیراِسلامی معاشرہ ہے، بے انتہا سنتوں کو چھوڑ دیا گیا ہے، لیکن ان سنتوں پر عمل نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ معاذ اللہ عام مسلمان یہ گناہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نفرت یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے نفرت کی بنیاد پر کر رہا ہے، بلکہ یہ گناہ وہ یقینا گناہ کا احساس رکھتے ہوئے معاشرے کی خرابی کی بنا پر کر رہا ہے، بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ یہ گناہ اس سے غیرشعوری طور پر سرزد ہو رہا ہے۔ جب دُوسرے گناہوں میں ملوّث ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے نفرت کر رہا ہے تو داڑھی نہ رکھنے کا یہ مطلب کہاں سے ہے کہ اسے معاذ اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے نفرت ہے؟ خدا کے واسطے! ایسی تحریروں سے اِجتناب کریں جس میں اِلزام تراشی کے سوا کچھ نہ ہو، ایسے الفاظ کے استعمال سے پرہیز کریں جس سے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین کا مطلب نکالیں، ایسی ہی تحریروں سے لوگ فائدہ اُٹھاتے ہیں اور اِلزام تراشی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

جواب:۔

آپ کا یہ کہنا صحیح ہے کہ گناہگار سے گناہگار مسلمان بھی اللہ تعالیٰ سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت رکھتا ہے، لیکن محبت دِل میں چھپی ہوئی چیز ہے، اور اس کا اِظہار آدمی کی حرکات سے ہوتا ہے۔ جن لوگوں کو معلوم ہے کہ داڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بڑھانے کا حکم فرمایا ہے اور اس کے تراشنے پر یہاں تک غیظ و غضب کا اظہار فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کو اپنی مجلس سے اُٹھ جانے کا حکم فرمایا، اور یہ کہ میں تم سے بات نہیں کروں گا (تاریخ ابنِ کثیرؒ ج:۴ ص:۲۶۹)۔ (۱)

اس بنا پر تمام فقہائے اُمت نے داڑھی منڈوانے کو حرام اور گناہِ کبیرہ قرار دیا ہے۔(۲) جو مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس تاکیدی حکم کے خلاف نصاریٰ اور مجوسیوں کی مشابہت کرتا ہے، اس کے بارے میں کیا رائے قائم کی جائے؟ داڑھی منڈوانا عورتوں کے ساتھ مشابہت ہے، اور عورتوں کی مشابہت کرنے والوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔(۳) کیا کوئی مسلمان جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت ہو، وہ اس ملعون کام کو کرے گا؟ یہ تو آپ نے صحیح فرمایا کہ بعض مسلمان غیرشعوری طور پر معاشرے کی خرابی کی وجہ سے اس گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں، لیکن بہت سے لوگ ایسے ہیں جو داڑھی سے نفرت کرتے ہیں، اس کا مذاق اُڑاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ: ’’داڑھی منڈواؤ، ورنہ لڑکی نہیں دیں گے‘‘ اور بہت سے والدین اپنے نوجوان لڑکوں کو اس گناہ پر مجبور کرتے ہیں، کیا ان کے بارے میں یہی کہا جائے کہ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے؟ میں ان کے دِل میں چھپی ہوئی محبت کا انکار نہیں کرتا، لیکن ان کا طرزِ عمل محبت کی نفی کرتا ہے، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ضد اور عناد کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت نصیب فرمائے۔

  1. (۱) ۔۔۔ ودخلا علٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقد حلقا لحاھما وأعفیا شواربھما فکرہ النظر إلیھما وقال ویلکما من أمرکما بھٰذا؟ قالَا أمرنا ربّنا، یعنیان کسریٰ، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ولٰـکن ربّی أمرنی بإعفاء لحیتی وقص شاربی، ثم قال: إرجعا حتّٰی تأتیانی غدًا۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۴ ص:۲۷۰، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔
  2. (۲) وأما الأخذ منھا وھی دون ذالک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد۔ (فتح القدیر ج:۲ ص:۲۸۰، الدر المختار ج:۲ ص:۴۱۸، باب ما یفسد الصوم وما لَا یفسدہ)۔
  3. (۳) عن ابن عباس قال: لعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم المتشبھین من الرجال بالنساء والمتشبھات من النساء بالرجال۔ (بخاری ج:۲ ص:۸۷۴، باب المتشبّھین بالنساء والمتشبّھات بالرجال)۔