داڑھی
کیاداڑھیکامذاقاُڑانےوالامرتدہوجاتاہےجبکہداڑھیسنتہے؟
سوال:۔
مؤرخہ ۱۹؍دسمبر ۱۹۸۶ء کے روزنامہ ’’جنگ‘‘ (بروز جمعہ) میں آپ نے اپنے کالم ’’آپ کے مسائل‘‘ میں محترم سیّد امتیاز علی شاہ صاحب کے ایک سوال کا جواب دیا ہے جو انہوں نے داڑھی کا مذاق اُڑانے والے کے بارے میں کیا تھا۔ آپ کے جواب سے ایسا مترشح ہوتا ہے کہ داڑھی کا مذاق اُڑانے والا مرتد ہوجاتا ہے اور اِسلام سے خارج ہوجاتا ہے، جبکہ داڑھی رکھنا سنت ہے اور سنت کا مذاق اُڑانے یا اِنکار کرنے والا اِسلام سے خارج یا مرتد نہیں ہوتا، مگر گناہگار ہوجاتا ہے۔ جبکہ فرض کا اِنکار کرنے والا مرتد اور خارج اَز اِسلام ہوجاتا ہے۔ اس سے میرا منشا یہ ہرگز نہیں کہ داڑھی کا اِنکار یا مذاق کیا جائے (نعوذ باللہ) یہ سخت گناہ کا کام ہے، بلکہ مقصود یہ ہے کہ شریعت کی روشنی میں صحیح فتویٰ جاری کیا جائے۔
جواب:۔
داڑھی رکھنا صرف سنت نہیں بلکہ واجب ہے، اور اس کا منڈانا یا تراشنا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔(۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کی کسی بات پر عمل نہ کرنا تو گناہ ہے، لیکن دِین کی کسی بات کا یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت کا مذاق اُڑانا صرف گناہ نہیں بلکہ کفر و اِرتداد ہے، اور اس سے آدمی واقعتا دائرۂ اسلام سے نکل جاتا ہے،(۲) کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت کا مذاق اُڑانا یا اس کو بُرا سمجھنا اور نفرت کی نگاہ سے دیکھنا دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین و تنقیص اور آپ کا مذاق اُڑانا ہے۔ کیا کوئی ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین و تنقیص کرنے اور آپ کا مذاق اُڑانے کے بعد بھی مسلمان رہ سکتا ہے؟ کیا جس شخص کے دِل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی مبارک سنت کا مذاق اُڑانے کی جرأت کرسکتا ہے؟ اور کوئی بدبخت اس کی جرأت کرہی بیٹھے تو اس کا اِیمان باقی رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! کبھی نہیں! اِیمان تو ماننے اور تسلیم کرنے کا نام ہے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی چھوٹی سے چھوٹی سنت کا بھی مذاق اُڑائے یا اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھے، کیا اس نے ایمان و تسلیم کا مظاہرہ کیا یا شیطان کی طرح کبر و نخوت اور کفر و عناد کا۔؟ یہ نکتہ قرآنِ کریم، احادیث شریف اور اکابرِ اُمت کے اِرشادات سے بالکل واضح ہے کہ کسی سنت کا مذاق اُڑانے والا مسلمان نہیں، کافر و مرتد ہے۔ آنجناب نے جو فرمایا کہ سنت کا مذاق اُڑانے سے آدمی صرف گنہگار ہوتا ہے اور فرض کا مذاق اُڑانے سے کافر و مرتد ہوجاتا ہے، یہ اُصول صحیح نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ دِین کی کسی بات کا مذاق اُڑانا کفر و اِرتداد ہے۔(۳)
- (۱) وأخذ أطراف اللحیۃ والسنۃ فیھا القبضۃ ۔۔۔ یحرم علی الرجل قطع لحیتہ۔ (الدر المختار ج:۶ ص:۴۰۷)۔ وأما الأخذ منھا وھی دون ذالک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد، وأخذ کلھا فعل یھود الھند ومجوس الأعاجم۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۴۱۸، باب ما یفسد الصوم وما لَا یفسدہ)۔
- (۲) قال ابن الھمام: وقد کفر الحنفیۃ من واظب علٰی ترک السُّنَّۃ إستخفافًا بھا بسبب أنھا فعلھا النبی صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ أو إستقباحھا ۔۔۔إلخ۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۱۵۲)۔ أیضًا: من استخف بالقرآن أو بالمسجد أو بنحوہ مما یعظم فی الشرع، کفر۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۱۶۷ فصل فی القرائۃ والصلاۃ)۔
- (۳) قال فی المسیرۃ ۔۔۔ کفر الحنفیۃ بألفاظ کثیرۃ ۔۔۔ أو إستقباحھا کمن إستقبح من آخر جعل بعض العمامۃ تحت حلقہ أو إحفا شاربہ ۔۔۔إلخ۔ (المسایرۃ مع المسامرۃ ص:۳۲۷)۔ أیضًا: من استخف بالقرآن أو بالمسجد أو بنحوہ مما یعظم فی الشرع، کفر۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۱۶۷ فصل فی القرائۃ والصلاۃ)۔

