بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

داڑھی

شادی‌کرنا‌زیادہ‌اہم‌ہے‌یا‌داڑھی‌رکھنا

سوال:۔

میں ایک غیرشادی شدہ نوجوان ہوں، اب میری شادی کا پروگرام طے ہو رہا ہے، دو جگہوں پر صرف داڑھی کی وجہ سے انکار کیا گیا اور تیسری جگہ بھی یہی شرط رکھی گئی ہے۔ اس طرح میرے لئے ایک پیچیدگی پیدا ہوگئی ہے، کیونکہ مجرّد کی حیثیت سے میں ہمیشہ زندگی بسر نہیں کرسکتا اور گناہ کا ارتکاب ممکن ہے۔ عالی جناب سے گزارش ہے تحریر فرمائیں کہ داڑھی اور شادی کرنے کی دِینِ اسلام میں کیا فضیلت ہے؟ دونوں میں کون سا عمل زیادہ اہم سمجھا جائے گا؟ از راہِ کرم اس سلسلے میں میری حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے مجھے مفید مشورہ دے دیا جائے۔ نیز میرے والدین کا مشورہ یہ ہے کہ شادی کرنے کے بعد آپ داڑھی پھر رکھ سکتے ہیں، مگر شادی آج کے دور میں ناممکن تو نہیں مگر مشکل ضرور ہے، کیونکہ شادی کا تعلق عمر سے ہے۔

جواب:۔

داڑھی اور شادی دونوں کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔ داڑھی تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی متفقہ سنت، مردانہ فطرت اور شعارِ اِسلام ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی رکھنے کا بار بار حکم فرمایا ہے،(۱) اور اسے صاف کرانے پر غیظ و غضب کا اظہار فرمایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ داڑھی رکھنا بالاتفاق واجب ہے، اور منڈانا یا ایک مشت سے کم ہونے کی صورت میں کترانا بالاتفاق حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔(۲) جو لوگ داڑھی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے شادی کے لئے داڑھی صاف کرانے کی شرط لگاتے ہیں، وہ ایک سنتِ نبوی اور شعارِ اِسلام کی توہین کرنے کی وجہ سے ایمان سے خارج ہیں۔ آپ کو شادی کے لئے داڑھی صاف کرانے کی فکر نہیں کرنی چاہئے بلکہ ان لوگوں کو تجدیدِ اِیمان کی فکر کرنی چاہئے۔(۳)

  1. (۱) عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ أمر بإحفاء الشوارب وإعفاء اللحیۃ، وفی روایۃ: عشر من الفطرۃ: قصّ الشارب وإعفاء اللحیۃ ۔۔۔إلخ۔ قال النووی: ومعناہ أنھا من سُنن الأنبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیھم وقیل ھی الدین۔ (شرح الکامل للنووی بھامش مسلم ج:۱ ص:۱۲۸،۱۲۹)۔
  2. (۲) وأما الأخذ منھا وھی دون ذالک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد وأخذ کلھا فعل یھود الھند ومجوس الأعاجم۔ (الدرالمختار ج:۲ ص:۴۱۸، باب ما یفسد الصوم وما لَا یفسدہ، فتح القدیر ج:۲ ص:۲۷۰)۔
  3. (۳) من استخف بالقرآن أو بالمسجد أو بنحوہ مما یعظم فی الشرع کفر۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۶۷ فصل فی القرائۃ والصلاۃ، طبع قدیمی)۔ وفی شرح الوھبانیۃ للشرنبلالی: ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح ۔۔۔ وما فیہ خلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۲۴۷، باب المرتد، طبع سعید کراچی)۔