بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

داڑھی

داڑھی‌منڈانے‌کا‌گناہ‌ایسا‌ہے‌کہ‌ہر‌حال‌میں‌آدمی‌کے‌ساتھ‌رہتا‌ہے

سوال:۔

کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ بغیر داڑھی کے کوئی شخص مسجد میں اَذان نہیں دے سکتا اور نہ ہی وہ اِمامت کرسکتا ہے، اور کچھ لوگ اس بات کے حق میں نہیں۔ زیادہ تر کوشش کرکے نماز باجماعت پڑھتا ہوں، اس لئے میں نے رمضان میں جب موقع ملا اَذانیں بھی دِیں، لیکن چار روز پہلے میں مغرب کی اَذان دینے والا تھا کہ کچھ لوگوں نے مجھے اس وجہ سے اَذان نہیں دینے دی کہ میری داڑھی نہیں ہے۔ اب اہم مسئلہ یہ ہے کہ کیا کوئی بغیر داڑھی کے اَذان دے سکتا ہے یا کہ نہیں؟ اور ہمارے مذہب اسلام میں جو کہ ایک مکمل دِین ہے اس بارے میں کیا کہا گیا ہے؟ اور داڑھی کی ہمارے مذہب میں کیا اہمیت ہے؟ کیا داڑھی ہر مسلمان پر فرض ہے؟ کیا داڑھی کے بغیر کوئی عبادت قبول نہیں ہوگی؟ اور داڑھی کتنی بڑی ہونی چاہئے؟

جواب:۔

داڑھی رکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے اور اس کا منڈانا اور کترانا (جب ایک مشت سے کم ہو) حرام ہے،(۱) اور ایسا کرنے والا فاسق اور گنہگار ہے۔(۲) فاسق کی اَذان(۳) و اِمامت مکروہِ تحریمی ہے۔(۴) داڑھی کی شرعی مقدار واجب ایک مشت ہے۔ رہا یہ کہ اس کی عبادت قبول ہوتی ہے یا نہیں؟ اس کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، مگر اتنی بات تو بالکل ظاہر ہے کہ جو شخص عین عبادت کی حالت میں بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر رہا ہو، اس کا قبولیت کی توقع رکھنا کیسا ہے؟ داڑھی منڈانے کا گناہ ایسا ہے کہ سوتے جاگتے ہر حال میں آدمی کے ساتھ رہتا ہے۔

  1. (۱) قولہ وھو أی القدر المسنون فی اللحیۃ ’’القبضۃ‘‘ قال فی النھایۃ وما وراء ذالک یجب قطعہ وأما الأخذ منھا وھی دون ذالک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد۔ (فتح القدیر ج:۲ ص:۲۲۰)۔
  2. (۲) (قولہ: وفاسق) من الفسق، وھو الخروج عن الْإستقامۃ، ولعل المراد بہ من یرتکب الکبائر کشارب الخمر والزانی وآکل الربا ونحو ذالک۔ (ردالمحتار ج:۱ ص:۵۵۹ باب الْإمامۃ، طبع سعید کراچی)۔
  3. (۳) ویکرہ أذان جنب وإقامتہ وإقامۃ محدث لَا أذانہ علی المذھب وأذان إمرأۃ وخنثی وفاسق ولو عالمًا۔ (الدرالمختار ج:۱ ص:۳۹۲، باب الأذان، طبع ایچ ایم سعید)۔
  4. (۴) وأما الفاسق فقد عللوا کراھۃ تقدیمہ بأنہ لَا یھتم لأمر دینہ، وبأن فی تقدیمہ للإمامۃ تعظیمۃ وقد وجب علیھم إھانتہ شرعًا۔ (فتاویٰ شامی ج:۱ ص:۵۶۰، باب الْإمامۃ، طبع سعید کراچی)۔