داڑھی
مونچھیںقینچیسےکاٹناسنتاوراُسترےسےصافکرناجائزہے
سوال:۔
داڑھی کے متعلق شرعی اَحکامات کیا ہیں؟ غالباً یہ سنت ہے، اصل مسئلہ داڑھی کی نوعیت اور وضع قطع کا ہے۔ عام مشاہدے میں تو طرز طرز، وضع وضع کی داڑھیاں دیکھنے میں آتی ہیں، بعض حضرات بہت گھنی سرسیّد نما رکھتے ہیں، بعض صرف ٹھوڑی پر رکھتے ہیں، اور دائیں بائیں رُخساروں کے بال ترشوادیتے ہیں، عرب ممالک میں اس کا عام رواج ہے۔ بعض داڑھی کے ساتھ ساتھ مونچھیں بھی رکھتے ہیں، بعض اُسترے سے مونچھیں منڈوادیتے ہیں، مہربانی فرماکر وضاحت کریں کہ حنفی عقیدے کے مطابق اصل اَحکامات کیا ہیں؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس بارے میں کچھ حدود اور قیود ہوں گی، اور باقی انفرادی اختیار کو دخل ہوگا۔ اگر ایسا ہے تو وہ کیا حدود ہیں جن کی پابندی لازمی ہے؟ ٹھوڑی پر اور دائیں بائیں رُخساروں پر کتنے بال ہونے چاہئیں؟ سائز میں کتنی لمبی ہوں؟ مونچھیں رکھنا، ترشوانا یا اُسترے سے منڈوانا کون سا صحیح طریقہ ہے؟ کیا گردن کی نچلی طرف نرخرے کے نیچے سے بال صاف کراسکتے ہیں، وضاحت فرمائیں۔
جواب:۔
حدیثِ پاک میں داڑھی بڑھانے اور مونچھوں کو صاف کرانے کا حکم ہے۔(۱) حنفی مذہب میں داڑھی بڑھانے کی کم از کم حد یہ ہے کہ داڑھی مٹھی میں پکڑ کر جو زائد ہو اس کو کاٹ سکتے ہیں، اس سے زیادہ کاٹنا جائز نہیں، گویا داڑھی کم از کم ایک مٹھی ہونی چاہئے۔(۲)
مونچھوں کا حکم یہ ہے کہ قینچی سے باریک کترانا تو سنت ہے، اور اُسترے سے صاف کرانا بعض کے نزدیک دُرست ہے، اور بعض کے نزدیک مکروہ ہے، اور لبوں کے برابر سے مونچھیں کاٹ دی جائیں تب بھی جائز ہے۔(۳)
مونچھوں کا سکھوں کی طرح بڑھانا حرام ہے، اور تراشنا ضروری ہے۔(۴) تراشنے کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ پوری مونچھوں کو صاف کردیا جائے، اور دُوسری بات یہ ہے کہ لب کے پاس سے اتنا تراش دیا جائے کہ لب کی سرخی ظاہر ہوجائے۔(۵)
- (۱) عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم إنھکوا الشوارب واعفوا اللّحٰی۔ (بخاری ج:۲ ص:۸۷۵)۔
- (۲) والقص سُنّۃ فیھا وھو أن یقبض الرجل لحیتہ فإن زاد منھا علٰی قبضتہ قطعہ کذا ذکر محمد فی کتاب الآثار عن أبی حنیفۃ، قال: وبہ نأخذ، کذا فی محیط السرخسی۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۵۸، کتاب الکراھیۃ)۔
- (۳) ویأخذ من شاربہ حتّٰی یصیر مثل الحاجب کذا فی الضیائیۃ۔ (عالمگیریۃ ج:۵ ص:۳۵۸، کتاب الکراھیۃ)۔
- (۴) من تشبہ بقوم فھو منھم۔ (مشکٰوۃ ج:۲ ص:۳۷۵، کتاب اللباس)۔ وعن زید بن أرقم أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من لم یأخذ من شاربہ فلیس منا۔ (مشکٰوۃ ص:۳۸۱، باب الترجل، الفصل الثانی)۔
- (۵) عن ابن عباس قال: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقص أو یأخذ من شاربہ وکان إبراھیم خلیل الرحمٰن صلٰوۃ الرحمٰن علیہ یفعلہ۔ رواہ الترمذی۔ (مشکٰوۃ ج:۲ ص:۳۸۱)۔ أیضًا: واختلف فی المسنون فی الشارب ھل ھو القص أو الحلق؟ والمذھب عند بعض المتأخرین من مشائخنا أنہ القص قال فی البدائع: وھو الصحیح وقال الطحاوی القص حسن والحلق أحسن وھو قول علماؤنا الثلاثۃ، نھر۔ قال فی الفتح: وتفسیر القص أن ینقص حتّٰی ینتقص عن الْإطار وھو بکسر الھمزۃ: ملتقی الجلدۃ واللحم من الشفۃ، وکلام صاحب الھدایۃ علٰی أن یحاذیہ۔ (ردالمحتار ج:۲ ص:۵۵۰)۔ أیضًا: حلق الشارب بدعۃ وقیل سُنَّۃ۔ وفی الشرح: قولہ وقیل سنۃ مشی علیہ فی الملتقی وعبارۃ المجتبٰی بعد ما رمز للطحاوی حلقہ سنۃ ونسبہ إلٰی أبی حنیفۃ وصاحبیہ والقص منہ حتّٰی یوازی الحرف الأعلٰی من الشفۃ العلیا سنۃ بالْإجماع۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۴۰۷)۔

