داڑھی
داڑھیمنڈوانےکوحرامکہناکیساہے؟
سوال:۔
ایک حالیہ اشاعت میں ’’مسلمانوں کا امتیازی نشان‘‘ کے عنوان سے ایک سائل کے داڑھی سے متعلق سوالات کے جواب دئیے گئے تھے، اس سلسلے میں کچھ سوالات میرے ذہن میں ہیں، جن کے جوابات دے کر شکریہ کا موقع دیں۔ بہتر یہ ہوگا کہ اس کا جواب اخبار میں دیں تاکہ جن لوگوں نے یہ مضمون پڑھا ہو وہ مزید مطمئن ہوسکیں۔
قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ حلال و حرام کرنے کا اختیار صرف خدا کو ہے، اس کے علاوہ جس نے بھی کسی حلال کو حرام یا حرام کو حلال کیا اس نے اللہ پر جھوٹ گھڑا (النحل:۱۱۶، المائدۃ:۸۷ وغیرہ)۔ اس کی تائید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشاد سے ہوتی ہے کہ اللہ نے اپنی کتاب میں جس چیز کو حلال ٹھہرایا وہ حلال ہے اور جو حرام ٹھہرایا وہ حرام ہے، اور جن چیزوں کے بارے میں سکوت فرمایا وہ معاف ہیں، لہٰذا اللہ کی اس فیاضی کو قبول کرو کیونکہ اللہ سے بھول چوک کا صدور نہیں ہوتا، پھر آپ نے سورۂ مریم کی آیت تلاوت فرمائی (ترجمہ: اور تمہارا رَبّ بھولنے والا نہیں ہے)۔ کسی چیز کو حرام و حلال قرار دینے میں فقہائے اُمت کا رویہ جو تھا اس کے متعلق اِمام شافعیؒ ’’کتاب الاُم‘‘ میں قاضی ابویوسفؒ سے روایت کرتے ہیں:
’’میں نے بہت سے اہلِ علم مشائخ کو دیکھا ہے کہ وہ فتویٰ دینا پسند نہیں کرتے اور کسی چیز کو حلال و حرام کہنے کے بجائے کتاب اللہ میں جو کچھ ہے اس کو بلاتفسیر بیان کرنے پر اِکتفا کرتے ہیں۔ ابنِ سائبؒ جو ممتاز تابعی ہیں، کہتے ہیں کہ: اس بات سے بچو کہ تمہارا حال اس شخص کا سا ہوجائے جو کہتا ہے کہ اللہ نے فلاں چیز حلال کی ہے، یا اسے پسند ہے، اور اللہ قیامت کے دن فرمائے گا: نہ میں نے اس کو حلال کیا تھا اور نہ مجھے پسند تھی۔ اسی طرح تمہارا حال اس شخص کا سا بھی نہ ہوجائے جو کہتا ہے کہ فلاں چیز اللہ نے حرام کردی ہے، لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹا ہے، میں نے نہ اسے حرام کیا تھا اور نہ اس سے روکا تھا۔ ابراہیم نخعیؒ سے جو کہ کوفہ کے ممتاز فقہاء تابعین میں سے ہیں، منقول ہے کہ: جب ان کے اصحاب فتویٰ دیتے تو ’’یہ مکروہ ہے‘‘ یا ’’اس میں کوئی حرج نہیں‘‘ کے الفاظ استعمال کرتے، کیونکہ کسی چیز پر حلت و حرمت کا حکم لگانے سے زیادہ غیر ذمہ دارانہ بات اور کیا ہوسکتی ہے؟‘‘ (بحوالہ اسلام میں حلال و حرام، یوسف القرضاوی)۔
علامہ ابنِ تیمیہؒ سے منقول ہے کہ سلف صالحین حرام کا اطلاق اسی چیز پر کرتے تھے جس کی حرمت قطعی طور پر ثابت ہوتی۔ اِمام احمد بن حنبلؒ سوالوں کے جواب میں فرماتے: ’’میں اسے مکروہ خیال کرتا ہوں، اچھا نہیں سمجھتا، یا یہ پسندیدہ نہیں ہے‘‘ (بحوالہ ایضاً)۔
مندرجہ بالا اللہ کے حکم، حدیث اور فقہاء کے طرزِ عمل سے واضح ہے کہ وہ کسی چیز کو حلال یا حرام قرار نہیں دیتے تھے جب تک کہ وہ واضح نہ ہو، کیونکہ حلال و حرام کرنے کا اختیار صرف اور صرف خدا کو ہے، پھر کس طرح فقہاء کا قول کسی چیز کے حرام و حلال میں سند ہو؟ وہ کسی چیز کو مکروہ کہہ سکتے ہیں، کراہت کا اظہار کرسکتے ہیں، ناجائز کہہ سکتے ہیں، حلال و حرام کا فتویٰ تو نہیں لگاسکتے؟
ایک اور حدیث ہے حضرت جابرؓ کہتے ہیں: رسول اللہ نے اُنگلیوں کو چاٹنے اور رکابی کو صاف کرنے کا حکم دیا ہے، اور فرمایا: تم نہیں جانتے کہ کس اُنگلی یا نوالے میں برکت ہے۔ تو کیا کھانے کے بعد اُنگلی کو نہ چاٹنے والا اور رکابی کو نہ صاف کرنے والا حرام کا مرتکب ہے؟ کیونکہ یہاں تو صریحاً حکم ہے۔ اسی طرح کی اور حدیث پیش کی جاسکتی ہیں، لیکن ان میں سے کسی کے متعلق حرام کا فتویٰ نہیں لگایا جاسکتا، جس طرح شدّت سے داڑھی کے ایک مشت سے کم ہونے پر لگایا جاتا ہے (حالانکہ نہ ہی خدا نے اور نہ ہی خدا کے رسول نے یہ مقدار مقرّر کی ہے)۔
جواب:۔
فقہائے اُمت کے نزدیک ایک مشت کی مقدار داڑھی رکھنا واجب ہے اور منڈوانا یا ایک مشت سے کم کٹانا حرام ہے۔ شیخ ابنِ ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
’’۔۔۔ وَاَمَّا الْاَخْذُ مِنْہَا وَہِیَ دُوْنَ ذٰلِکَ کَمَا یَفْعَلُہٗ بَعْضُ الْمَغَارِبَۃِ وَمُخَنَّثَۃُ الرِّجَالِ فَلَمْ یُبِحْہُ اَحَدٌ۔‘‘
اس سے دو سطر قبل ہے:
’’۔۔۔ یُحْمَلُ الْاِعْفَاءُ عَلٰی اِعْفَائِهَا مِنْ اَنْ یَّاْخُذَ غَالِبَهَا اَوْ کُلَّهَا کَمَا هُوَ فِعْلُ الْمَجُوْسِ الْاَعَاجِمِ مِنْ حَلْقِ لِحَاهُمْ کَمَا یُشَاهَدُ فِی الْہُنُوْدِ ۔۔۔‘‘ (فتح القدیر ج:۲ ص:۷۷)
ترجمہ:۔ ’’اور داڑھی کا کترانا جبکہ وہ ایک مشت سے ہو، جیسا کہ بعض مغربی لوگ اور ہیجڑے قسم کے مرد کرتے ہیں، سو اس کو کسی نے بھی حلال اور مباح نہیں لکھا ۔۔۔ اور پوری داڑھی صاف کردینا ہندوستان کے یہودیوں اور عجم کے مجوسیوں کا کام ہے۔‘‘
یہی مضمون شامی طبعِ جدید ج:۲ ص:۴۱۸، البحر الرائق ج:۲ ص:۳۰۲ اور شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ کی فارسی شرح مشکوٰۃ ج:۱ ص:۲۲۸ میں بھی ہے۔ فقہائے اُمت کے اس اِجماع اور متفقہ فیصلے کے بعد یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ داڑھی رکھنے کا حکم کس درجے کا ہے؟ اور اس کے کٹانے یا منڈانے کی ممانعت کس درجے کی ہے؟ بلاشبہ کسی چیز کو حرام کہنے میں بڑی احتیاط سے کام لینا چاہئے، لیکن جو چیزیں بالاجماع حرام ہوں ان کو جائز کہنے میں بھی کچھ کم احتیاط کی ضرورت نہیں۔ کسی حلال کو حرام کہنا بُری بات ہے تو اِجماعی حرام کو حلال کرنے کی کوشش بھی کچھ اچھی بات نہیں۔
یہ تو آپ نے بالکل صحیح فرمایا کہ حلال و حرام کا اِختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی چیز کو حرام کرنے اور حرام کو حلال کرنے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔ آپ کا یہ اِرشاد بھی بجا ہے کہ سلف صالحین فتویٰ دینے میں بڑی احتیاط فرماتے تھے، اور کرنی بھی چاہئے۔ اور آپ کا یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ ہر حکم ایک درجے کا نہیں ہوتا، حکم کبھی اِستحباب کے درجے میں بھی ہوتا ہے، بلکہ کبھی جواز کے درجے میں بھی، جیسا کہ فرمایا ہے: ﵟ وَإِذَا حَلَلۡتُمۡ فَٱصۡطَادُواْ ﵞاس آیتِ کریمہ میں شکار کرنے کا حکم محض جواز کے درجے میں ہے۔(۱) اسی طرح کسی چیز کی ممانعت کبھی تحریم کے لئے ہوتی ہے، کبھی کراہتِ تحریمی کے طور پر، کبھی کراہتِ تنزیہی کے طور پر اور کبھی محض اِرشادی ہوتی ہے۔(۲)
اس اَمر کا تعین کرنا کہ کون سا حکم کس درجے کا ہے؟ اور کون سی ممانعت کس درجے کی ہے؟ یہ حضراتِ فقہائے اُمت کا کام ہے، میرا اور آپ کا کام نہیں، اور یہ چیز چونکہ اِجتہاد سے تعلق رکھتی ہے اس لئے بعض اُمور میں حضراتِ فقہائے اُمت کے درمیان اِختلاف بھی پیدا ہوجاتا ہے کہ ایک اِمام ایک چیز کو جائز کہتا ہے تو دُوسرا ناجائز، ایک واجب کہتا ہے تو دُوسرا سنت، لیکن داڑھی کے مسئلے میں فقہائے اُمت کے درمیان کوئی اِختلاف نہیں۔
- (۱) واعلم ان صیغۃ الأمر حقیقۃ فی الوجوب کقولہ تعالٰی: ﵟ أَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ ﵞ، وقد تستعمل فی معان کثیرۃ منھا الندب کقولہ تعالٰی: ﵟ فَكَاتِبُوهُمۡ إِنۡ عَلِمۡتُمۡ فِيهِمۡ خَيۡرٗا ﵞ، والتأدیب کقولہ علیہ السلام لِابن عباس: کل مما یلیک، وھو داخل فی الندب ۔۔۔ وللإرشاد کقولہ تعالٰی: ﵟ وَٱسۡتَشۡهِدُواْ ﵞ ۔۔۔ وللإباحۃ کقولہ تعالٰی: ﵟ كُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ ﵞ، وللإکرام کقولہ تعالٰی: ﵟ ٱدۡخُلُوهَا بِسَلَٰمٍ ءَامِنِينَ ﵞ ۔۔۔إلخ۔ (تسھیل الوصول إلٰی علم الأصول ص:۳۸، بحث الأمر)۔
- (۲) فذھب الجمھور إلٰی أن معناہ الحقیقی ھو التحریم کقولہ تعالٰی: ﵟ لَا تَقۡرَبُواْ ٱلزِّنَىٰٓ ﵞ، وتستعمل صیغۃ النھی فی معان أخریٰ مجازًا منھا الکراھۃ کقولہ علیہ السلام: لَا تصلوا فی مبارک الْإبل والدعا کقولہ ﵟ رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوبَنَا ﵞ وللإرشاد کقولہ تعالٰی: ﵟ لَا تَسۡـَٔلُواْ عَنۡ أَشۡيَآءَ ﵞ ۔۔۔إلخ۔ (تسھیل الوصول إلٰی علم الأصول ص:۶۰)۔

