بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

داڑھی

صدرِ‌مملکت‌کو‌وفد‌نے‌داڑھی‌رکھنی‌کی‌دعوت‌کیوں‌دی؟

سوال:۔

’’اقرأ‘‘ کے اسلامی صفحے کے ایک مضمون میں پڑھا کہ علمائے کرام کا ایک وفد صدرِ پاکستان سے ملا اور اس وفد نے صدرِ پاکستان کو ایک اسلامی شعار داڑھی رکھنے کی تلقین کی۔ اس سلسلے میں درج ذیل اِشکالات ذہن میں آتے ہیں، براہِ کرم جواب مرحمت فرمائیں۔

سوال۱:۔

کیا داڑھی ایسا ہی اہم اسلامی شعار ہے کہ اس کے لئے اتنے مصارف اُٹھاکر صدر سے ملاقات کی جائے اور انہیں اس کی دعوت دی جائے؟

سوال۲:۔

میں نے تو سنا ہے کہ داڑھی رکھنا محض سنت ہے، اس کو رکھیں تو ثواب ہوگا، اور نہ رکھیں تو کوئی گناہ نہیں، کیا یہ دُرست ہے؟

سوال۳:۔

مندرجہ بالا معلومات کے مطابق اس کام کے لئے ہزاروں روپے کا خرچ اِسراف نہیں؟

سوال۴:۔

پھر یہ بھی ممکن ہے کہ داڑھی نہ رکھنے کی صورت میں وہ ہر ایک سے ہر ایک بات کرسکتا ہے، اور اس سے مخاطب پر اثر بھی ہوگا، مگر داڑھی رکھنے کی صورت میں تو وہ سکہ بند مذہبی گروہ کا فرد ہوگا جس سے یقینا اس کی بات کا وہ مقام نہیں رہے گا، کیا اس غرض سے اگر کوئی شخص داڑھی نہ رکھے تو آنجناب کے خیال میں اس کو اجازت ہونی چاہئے؟ از راہِ کرم میرے ان سوالات کا جواب دے کر مجھے اور میرے جیسے دُوسرے مسلمانوں کے خدشات دُور فرمائیں، اس لئے کہ اگر واقعی یہ ایسا ہی اہم اسلامی شعار ہے تو اس سے کسی مسلمان کو محروم نہیں ہونا چاہئے۔

جواب۱:۔

داڑھی کے اہم ترین اسلامی شعار ہونے میں تو شبہ نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مسلمانوں کا امتیازی نشان قرار دیا ہے، چنانچہ ارشاد ہے: ’’اپنی وضع قطع میں مشرکوں کی مخالفت کرو، داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں کتراؤ‘‘ (بخاری)(۱) اگر فوج کا کمانڈر انچیف کسی خاص وردی کو اپنی فوج کا امتیازی نشان قرار دے تو فوج کے کسی سپاہی کے لئے اس کی مخالفت کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ اب سوچئے کہ جس چیز کو اُمت کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کا امتیازی نشان قرار دیا ہو، اس کی مخالفت کسی اُمتی کے لئے کب روا ہوسکتی ہے؟ اور جو اس بات کے جاننے کے باوجود اپنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرتا ہے وہ ’’اُمتی‘‘ کہلانے کا کیا منہ رکھتا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فعلِ بد (داڑھی منڈانے) سے ایسی نفرت تھی کہ جب کسریٰ شاہِ ایران کے سفیر بارگاہِ عالی میں حاضر ہوئے تو ان کی داڑھیاں منڈی ہوئی اور مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شکل و وضع سے کراہت آئی اور نہایت ناگوار لہجے میں فرمایا: ’’تمہاری ہلاکت ہو! تمہیں ایسی بھونڈی اور مکروہ شکل بنانے کا کس نے کہا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ: ’’ہمیں ہمارے رَبّ یعنی کسریٰ نے اس کا حکم دیا ہے‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لیکن میرے رَبّ نے تو مجھے داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کتروانے کا حکم فرمایا ہے‘‘ (البدایہ والنہایہ ج:۴ ص:۲۶۹، حیاۃ الصحابہ ج:۱ ص:۱۱۵)۔

اس سے معلوم ہوا کہ داڑھی کٹانا مجوسیوں کے رَبّ کا حکم ہے، اور داڑھی بڑھانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رَبّ کا حکم ہے۔ غور فرمائیے جہاں مجوسیوں کے رَبّ کا حکم ایک طرف ہو اور دُوسری طرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رَبّ کا حکم ہو، ایک مسلمان کو کس کے حکم کی تعمیل کرنی چاہئے؟

جواب۲:۔

یہ آپ کو کسی نے غلط بتایا ہے کہ داڑھی رکھنا محض سنت اور کارِ ثواب ہے اور نہ رکھنے کا کوئی گناہ نہیں، تمام فقہائے اُمت کے نزدیک ایک مشت داڑھی بڑھانا واجب ہے، جیسا کہ وتر کی نماز واجب ہے، اور داڑھی منڈانا اور ایک مشت سے کم کرنا بالاِجماع حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔(۲)

جواب۳:۔

مسلمانوں کی کسی مقتدر اور لائقِ اِحترام شخصیت کو (جیسا کہ صدرِ محترم ہیں) کسی اَمرِ واجب کی دعوت دینا اور اس پر خرچ کرنا قطعاً اِسراف اور فضول خرچی نہیں۔ تبلیغی جماعت کے سابق اِمام حضرت مولانا محمد یوسف دہلویؒ کے بارے میں یہ بات سنی ہے کہ کسی شخص نے ان سے عرض کیا کہ آپ اتنے مصارف اُٹھاکر جماعتیں امریکہ بھیجتے ہیں، کیا یہ اِسراف نہیں؟ جواب میں انہوں نے فرمایا کہ: ’’اگر میں ساری دُنیا کے خزانے خرچ کرکے امریکہ والوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت سکھانے میں کامیاب ہوجاؤں تو میں سمجھوں گا کہ یہ سودا سستا ہے۔‘‘ اسی طرح اگر کوئی بندۂ خدا یہ جذبہ رکھتا ہے کہ ہمارے اعلیٰ حکام کے چہرے پر اسلام اور سنت کا نور ہو، اور وہ اس کے لئے ہزاروں نہیں لاکھوں روپے خرچ کردیتا ہے تو اِن شاء اللہ اس کا یہ خرچ قیامت کے دن ’’اِنفاق فی سبیل اللہ‘‘ کی مد میں شمار ہوگا، اِن شاء اللہ! ثم اِن شاء اللہ!

جواب۴:۔

آپ کا چوتھا سوال تو بالکل ہی مہمل اور اِحساسِ کمتری کا شکار ہے، کاش! آپ کو حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا یہ اِرشاد یاد ہوتا: ’’نَحْنُ قَوْمٌ اَعَزَّنَا اللہُ بِالْاِسْلَامِ‘‘ یعنی ’’ہم وہ قوم ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے عزّت دی۔‘‘

مسلمانوں کی ذِلت و پسماندگی کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ شیطان نے ان کے کان میں پھونک دیا ہے کہ اگر تم نے اسلام کے فلاں مسئلے پر عمل کیا تو فلاں مصلحت فوت ہوجائے گی، اس ترقی یافتہ دور میں لوگ تمہیں کیا کہیں گے؟ حالانکہ مسلمان کی عزّت اسلام کے اَحکام پر عمل کرنے میں ہے، اور اسلام کے اَحکام کو چھوڑنے میں ان کی ذِلت و رُسوائی کا راز مضمر ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے: ’’اور عزّت اللہ کے لئے ہے اور اس کے رسول کے لئے اور اہلِ ایمان کے لئے، لیکن منافق اس بات کو نہیں جانتے۔‘‘ (۳)مسلمانوں کا جو حاکم خدا اور رسول کے اَحکام کا پابند ہو، غیرمسلم بھی اسے عزّت و احترام سے دیکھتے ہیں، اور وہ پوری خود اعتمادی کے ساتھ گفتگو کرسکتا ہے، پھر تائیدِ غیبی اور نصرتِ خداوندی اس کی پشت پناہ ہوتی ہے۔ بعض بڑے بڑے عیسائی اور سکھ اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہوتے ہوئے بھی داڑھی رکھتے ہیں، جس کا اچھا اثر ہوتا ہے۔

  1. (۱) عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: خالفوا المشرکین وفّروا اللّحٰی وأحفوا الشوارب۔ (بخاری ج:۲ ص:۸۷۵، باب تقلیم الأظفار)۔
  2. (۲) لذا یحرم علی الرجل قطع لحیتہ أو تطویل اللحیۃ إذا کانت بقدر المسنون وھو القبضۃ ۔۔۔ وأما الأخذ منھا وھی دون ذٰلک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد۔ (شامی ج:۶ ص:۴۰۷، کتاب الحظر والْإباحۃ، والدرالمختار ج:۲ ص:۴۱۷، ۴۱۸، طبع سعید، عالمگیریۃ ج:۵ ص:۳۵۸، کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر)۔
  3. (۳) قال تعالٰی: ﵟ وَلِلَّهِ ٱلۡعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِۦ وَلِلۡمُؤۡمِنِينَ وَلَٰكِنَّ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ لَا يَعۡلَمُونَ ﵞ سورة المنافقون ٨۔