داڑھی
داڑھیتمامانبیاءعلیہمالسلامکیسنتہےاورفطرتِصحیحہکےعینمطابقہے
سوال:۔
کیا داڑھی رکھنا ضروری ہے؟ اور کیوں؟
جواب:۔
اسلام میں مردوں کو داڑھی رکھنے کا تاکیدی حکم ہے اور یہ کئی وجوہ سے ضروری ہے۔
اوّل:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی رکھنے کو ان اعمال میں سے شمار کیا ہے جو تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہیں، پس جس چیز کی پابندی حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت خاتم النبیّین صلی اﷲ علیہ وسلم تک خدا کے سارے نبیوں نے کی ہو، ایک مسلمان کے لئے اس کی پیروی جس درجہ ضروری ہوسکتی ہے وہ آپ خود ہی اندازہ کرسکتے ہیں۔(۱)
دوم:۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی بڑھانے اور لبیں تراشنے کو فطرت فرمایا ہے۔(۲) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ داڑھی تراشنا خلافِ فطرت عمل ہے، ایک مسلمان کے لئے فطرتِ صحیحہ کے مطابق عمل کرنا اور خلافِ فطرت سے گریز کرنا جس قدر ضروری ہوسکتا ہے، وہ واضح ہے۔
سوم:۔ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو اس کا تاکیدی حکم فرمایا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تاکیدی اَحکام کا ضروری ہونا سب کو معلوم ہے۔(۳)
چہارم:۔ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم فرماتے ہوئے یہ تاکید فرمائی ہے کہ: ’’مشرکوں کی مخالفت کرو‘‘ اور ایک دُوسری حدیث میں فرمایا کہ: ’’مجوسیوں کی مخالفت کرو‘‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی داڑھی تراشنا بددِین قوموں کا شعار تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو ان گمراہ قوموں کی خلافِ فطرت تقلید کرنے سے منع فرمایا۔(۴) ایک حدیث میں ہے کہ: ’’جو شخص کسی قوم کی مشابہت کرے گا، وہ انہیں میں سے شمار ہوگا۔‘‘(۵) سیرت کی کتابوں میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ شاہِ ایران کے سفیر بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے تو ان کی داڑھیاں منڈی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مسخ شدہ شکل دیکھ کر اظہارِ نفرت کے طور پر فرمایا: ’’یہ کیا شکل بنارکھی ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا کہ: ’’ہمیں ہمارے خدا (شاہِ ایران) نے اس کا حکم کیا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لیکن میرے رَبّ نے مجھے داڑھی رکھنے کا حکم دیا ہے‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے گفتگو کرنے سے انکار کردیا۔(۶)
پنجم:۔ چونکہ داڑھی رکھنا انبیاء علیہم السلام کی سنت اور صحیح فطرتِ انسانی ہے، اس لئے یہ مردانہ چہرے کی زینت ہے، اور داڑھی تراشنا گویا مردانہ حسن و جمال کو مٹی میں ملانا ہے۔(۷) شاید اس پر یہ کہا جائے کہ آج کل تو رِیش تراشی (داڑھی منڈانے) کو موجبِ زینت سمجھا جاتا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اگر کسی معاشرے میں بُری اور گندی رسم کا رواج ہوجائے تو عام لوگ محض تقلیداً اس پر عمل کئے جاتے ہیں اور اس کی قباحت کی طرف نظر نہیں جاتی، ورنہ اس کا تجربہ ہر شخص کرسکتا ہے کہ وہ رِیش تراشیدہ چہرے کو آئینے میں دیکھ لے اور پھر داڑھی رکھ کر بھی آئینہ دیکھ لے، خود اس کا وجدان فیصلہ کرے گا کہ داڑھی مونڈنے سے اس کی شکل مسخ ہوکر رہ جاتی ہے۔
ششم:۔ اہلِ تجربہ کا کہنا ہے کہ مردوں کے داڑھی کے بال اور عورتوں کے سر کے بال منہ کی فاضل رطوبتوں کو جذب کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جس کی داڑھی گھنی اور بھری ہوئی ہو، اس کے مسوڑھے اور دانت مضبوط ہوں گے، بہ نسبت اس شخص کے جس کی داڑھی ہلکی ہو، اور یہی وجہ ہے کہ مغرب میں چونکہ مرد داڑھی صاف رکھتے ہیں اور ان کی عورتیں سر کے بال کٹواتی ہیں اس لئے وہ مسوڑھوں اور دانتوں کی بیماریوں میں عام طور پر مبتلا ہیں، وہ اچھے سے اچھے ٹوتھ پیسٹ استعمال کرتے ہیں مگر گندہ دہنی کا مرض نہیں جاتا۔
- (۱) عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: الفطرۃ خمس أو خمس من الفطرۃ، منھا قصّ الشارب۔ وفی روایۃ: أعفوا اللحٰی ۔۔۔ قال النووی: ذکر جماعۃ من العلماء غیر الخطابی قالوا ومعناہ أنھا من سنن الأنبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیھم وقیل ھی الدین۔ (شرح الکامل للنووی بھامش مسلم ج:۱ ص:۱۲۸، کتاب الطھارۃ، باب خصال الفطرۃ)۔ وفی المرقاۃ: الفطرۃ أی فطرۃ الْإسلام، خمس، قال القاضی وغیرہ فسرت الفطرۃ بالسُّنَّۃ القدیمۃ التی اختارھا الأنبیاء واتفقت الشرائع، وکأنھا أمر جبلی فطروا علیہ، قال السیوطی وھٰذا أحسن ما قیل فی تفسیرھا وجمعہ۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکٰوۃ ج:۴ ص:۴۵۵ باب الترجل، طبع بمبئی)۔
- (۲) عن عائشۃ قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: عشر من الفطرۃ قَصّ الشارب وإعفاء اللحیۃ۔ وفی روایۃ: أنہ أمر بإحفاء الشوارب وإعفاء اللحیۃ۔ (مسلم ج:۱ ص:۱۲۹، کتاب الطھارۃ، باب خصال الفطرۃ)۔ عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ أمر بإحفاء الشوارب وإعفاء اللحیۃ۔ (مسلم ج:۱ ص:۱۲۹)۔
- (۳) قال النووی فی الکامل: فحصل خمس روایات: أعفوا، وأوفروا، وأرخوا، وأرجوا، ووقروا، ومعناھا کلھا ترکھا علٰی حالھا ھٰذا ھو الظاھر من الحدیث الذی یقتضیہ ألفاظہ، وھو الذی قالہ جماعۃ من أصحابنا وغیرھم من العلماء۔ (شرح النووی علٰی مسلم ج:۱ ص:۱۲۹، کتاب الطھارۃ، باب خصال الفطرۃ)۔
- (۴) عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: خالفوا المشرکین وَفّروا اللّحٰی واحفوا الشوارب، وفی روایۃ: جزّوا الشوارب وارخوا اللّحٰی، خالفوا المجوس۔ (بخاری ج:۲ ص:۸۷۵، مسلم ج:۱ ص:۱۲۹، کتاب الطھارۃ، باب خصال الفطرۃ)۔ وفی المرقاۃ للقاریٔ: خالفوا المشرکین أی فإنھم یقصون اللّحٰی ویترکون الشوارب حتّٰی تطویل کما فسرہ بقولہ أوفروا، أی أکثروا اللّحٰی۔ (مرقاۃ المفاتیح ج:۴ ص:۴۵۷، باب الترجل، طبع بمبئی)۔
- (۵) قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: من تشبّہ بقوم فھو منھم۔ (جامع الصغیر ج:۲ ص:۸، طبع بیروت)۔
- (۶) فکرہ النظر إلیھما، وقال: ویلکما! من أمرکما بھٰذا؟ قال: أمرنا ربّنا، یعنیان کسریٰ، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ولٰـکن ربّی أمرنی بإعفاء لحیتی وقصّ شاربی۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۴ ص:۲۷۰، حیاۃ الصحابۃ ج:۱ ص:۱۱۵)۔
- (۷)عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: الفطرۃ خمس أو خمس من الفطرۃ، منھا قصّ الشارب۔ وفی روایۃ: أعفوا اللحٰی ۔۔۔ قال النووی: ذکر جماعۃ من العلماء غیر الخطابی قالوا ومعناہ أنھا من سنن الأنبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیھم وقیل ھی الدین۔ (شرح الکامل للنووی بھامش مسلم ج:۱ ص:۱۲۸، کتاب الطھارۃ، باب خصال الفطرۃ)۔ وفی المرقاۃ: الفطرۃ أی فطرۃ الْإسلام، خمس، قال القاضی وغیرہ فسرت الفطرۃ بالسُّنَّۃ القدیمۃ التی اختارھا الأنبیاء واتفقت الشرائع، وکأنھا أمر جبلی فطروا علیہ، قال السیوطی وھٰذا أحسن ما قیل فی تفسیرھا وجمعہ۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکٰوۃ ج:۴ ص:۴۵۵ باب الترجل، طبع بمبئی)۔

