داڑھی
قبضےسےکمداڑھیرکھنےکےباطلاِستدلالکاجواب
سوال۱:۔
عام طور پر علمائے کرام کی تحریروں میں پڑھا ہے کہ اسلام نے داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کترانے کا حکم دیا ہے، نیز یہ کہ اسلام میں داڑھی تسلیم کی جائے گی تو اس کی حد کم از کم ایک مشت ہوگی، اس حد سے کم مقدار کی داڑھی نہ سنت کے مطابق ہے اور نہ ہی شریعت میں معتبر۔ مجھے صرف یہ معلوم کرنا ہے کہ اگر اسلام نے داڑھی بڑھانے کا حکم دیا ہے جو کہ ضد ہے کم کرنے کی تو حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے قبضے سے زائد داڑھی کیوں ترشوادی تھی؟ کیا بڑھانا اور ترشوانا ایک دُوسرے کی ضد نہیں؟
سوال۲:۔
پاکستان سے ایک عالمِ دِین نے داڑھی کے متعلق لکھا ہے جس کا خلاصہ یوں ہے کہ داڑھی کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مقدار مقرّر نہیں کی، صرف یہ ہدایت فرمائی ہے کہ رکھی جائے، البتہ داڑھی رکھنے میں فاسقین کی صفت سے پرہیز کریں اور اتنی داڑھی رکھ لیں جس پر عرفِ عام میں داڑھی رکھنے کا اطلاق ہوتا ہے، دیکھنے میں ایسا بھی نہ لگے کہ جیسے چند یوم سے داڑھی نہیں مونڈی اور دیکھنے والا یہ دھوکا نہ کھائے، تو شارع کا منشا پورا ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں آپ سے یہ پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں کہ کیا داڑھی رکھنے یعنی اس کی مقدار میں اختلاف ہے یا نہیں؟ معلوم ہوا ہے کہ بعض کے نزدیک داڑھی بڑھانا یعنی اسے اپنے حال پر چھوڑ دینا ہی عین سنت ہے، اور بعض کے نزدیک مٹھی بھر داڑھی رکھنا ہی مسنون ہے اور اپنے حال پر چھوڑنا مکروہ ہے، اور بعض کے نزدیک کوئی خاص حد مقرّر نہیں، بس جو داڑھی عرفِ عام میں داڑھی ہو وہ رکھنا مشروع ہے، وضاحت طلب ہے۔
سوال۳:۔
مذہبی کتب میں اور علمائے کرام کی تحریروں میں یہ بات موجود ہے کہ ایک مٹھی سے کم کو کسی نے جائز نہیں کہا اور اس پر اِجماع ہے، لیکن علامہ عینیؒ ’’عمدۃ القاری‘‘ کِتَابُ اللِّبَاسِ، بَابُ تَقْلِیْمِ الْاَظْفَارِ میں توفیر لحیہ کی حدیث کی شرح کرتے ہوئے اِمام طبریؒ کے حوالے سے فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی دلیل ثابت ہے کہ (داڑھی بڑھانے کے متعلق) حدیث کا حکم عام نہیں بلکہ اس میں تخصیص ہے، اور داڑھی کا اپنے حال پر چھوڑ دینا ممنوع اور اس کا ترشوانا واجب ہے، البتہ سلف میں اس کی مقدار اور حد کے معاملے میں اختلاف ہے، بعض نے کہا اس کی حد لمبائی میں ایک مٹھی سے بڑھ جائے اور چوڑائی میں بھی پھیل جانے کی وجہ سے بُری معلوم ہو ۔۔۔ بعض اصحاب اس بات کے قائل ہیں کہ لمبائی اور چوڑائی میں کم کرائے بشرطیکہ بہت چھوٹی نہ ہوجائے۔ اسی کے بعد فرماتے ہیں: اس کا مطلب میرے نزدیک یہ ہے کہ داڑھی کا ترشوانا اس حد تک جائز ہے کہ وہ عرفِ عام سے خارج نہ ہوجائے۔
جواب۱:۔
داڑھی بڑھانے کی حدیث حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے،(۱) اور انہی سے قبضے سے زائد کے تراشنے کا عمل مروی ہے،(۲) جس سے ثابت ہوتا ہے کہ داڑھی بڑھانے کے وجوب کی حد قبضہ ہے، اس سے زیادہ واجب نہیں۔
جواب۲:۔
ایک قبضہ تک بڑھانے کے وجوب پر تو اِجماع ہے، اس سے کم کرنا کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں۔(۳) البتہ قبضے سے زیادہ میں اِختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک زائد کا کاٹنا مطلقاً ضروری یا مباح ہے۔ بعض کے نزدیک حج و عمرے کا اِحرام کھولتے ہوئے حلق و قصر کے بعد قبضے سے زائد کا تراش دینا مستحب ہے، عام حالات میں مستحب نہیں۔ بعض کے نزدیک اگر داڑھی کے بال اتنے بڑھ جائیں کہ بدنما نظر آنے لگیں تو ان کو تراش دینا ضروری ہے، الغرض اِختلاف جو کچھ ہے قبضے سے زائد میں ہے۔(۴)
ان عالمِ دِین کا یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی کی کوئی حد مقرّر نہیں فرمائی، غلط ہے، اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی بڑھانے کا حکم فرمایا ہے، کاٹنے کا حکم نہیں فرمایا۔(۵) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی داڑھیاں قبضے سے زائد ہوتی تھیں، البتہ بعض صحابہ مثلاً حضرت ابنِ عمر، حضرت عمر اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے قبضے سے زائد کو تراشنے کا عمل منقول ہے، اور ترمذی کی روایت میں، جس کو ضعیف قرار دیا گیا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حج و عمرے کے موقع پر قبضے سے زائد کا تراشنا نقل کیا گیا ہے۔(۶) پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عملی بیان سے معلوم ہوجاتا ہے کہ داڑھی کی کم سے کم حد ایک قبضہ ہے، ایک قبضے سے کم کا تراشنا جائز نہیں، کیونکہ اگر جائز ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پوری عمر میں کم سے کم ایک مرتبہ تو بیانِ جواز کے لئے اس کو کرکے ضرور دِکھاتے، اور کسی نہ کسی صحابی سے بھی یہ عمل ضرور منقول ہوتا، پس فاسقین کی جس وضع کی مخالفت کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا ہے وہ وضع یہی ہے کہ قبضے سے کم تراشی جائے۔
جواب۳:۔
جن مذہبی کتابوں میں یہ نقل کیا ہے کہ ایک قبضے سے کم کرنے کو کسی نے بھی مباح نہیں کہا اور یہ اس پر اِجماع ہے، یہ نقل بالکل صحیح ہے۔ چنانچہ اَئمہ فقہاء کے جو مذاہب مدوّن ہیں، یا جن کے اقوال کتابوں میں نقل کئے گئے ہیں، ان سب سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ داڑھی کا قبضے سے کم کرنا حرام ہے۔(۷) جہاں تک علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت کا تعلق ہے، علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے اِمام طبریؒ کے کلام کی تلخیص کی ہے، اور آپ نے علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت کا خلاصہ نقل کردیا ہے۔ بہرحال اس میں دو باتیں قابلِ توجہ ہیں۔ اوّل یہ کہ آپ کی نقل کردہ عبارت میں جو دو قول نقل کئے گئے ہیں، ان پر ظاہری نظر ڈالنے سے یہ شبہ ہوتا ہے (اور یہی شبہ آپ کے سوال کا منشا ہے) کہ پہلا فریق تو داڑھی کی حد ایک قبضہ مقرّر کرتا ہے اور زائد کو کاٹنے کا حکم دیتا ہے، اور دُوسرا فریق قبضے سے کم کو بھی کاٹنے کی اجازت دیتا ہے، ’’بشرطیکہ بہت چھوٹی نہ ہوجائے‘‘ مگر عبارت کا مطلب صریحاً غلط ہے۔ جیسا کہ میں اُوپر بتاچکا ہوں سلف میں سے کسی سے بھی قبضے سے کم داڑھی کاٹنے کی اجازت منقول نہیں، علامہ عینیؒ نے جو اِختلاف نقل کیا ہے وہ مافوق القبضہ میں ہے، اور ان کا مطلب یہ ہے کہ بعض سلف نے تو کاٹنے کی صاف صاف حد مقرّر کردی، قبضے سے زائد کو کاٹ دیا جائے، گویا ان حضرات کے نزدیک داڑھی بس ایک قبضے تک رکھی جائے، زیادہ نہیں۔ اس کے برعکس بعض اس کی تعیین نہیں کرتے کہ داڑھی بس ایک ہی قبضہ رکھی جائے، وہ قبضے سے زیادہ رکھنے کے قائل ہیں، البتہ طول و عرض سے معمولی تراشنے کی اجازت دیتے ہیں، بشرطیکہ یہ تراش خراش ایسی نمایاں نہ ہو کہ جس سے داڑھی چھوٹی نظر آنے لگے۔ پس سلف کا یہ اختلاف بھی قبضے سے زائد کے تراشنے نہ تراشنے میں ہے، قبضے سے کم میں نہیں۔
دُوسری قابلِ توجہ بات علامہ عینیؒ کا یہ قول ہے، جس کا ترجمہ آپ نے یہ نقل کیا ہے کہ: ’’اس کا مطلب میرے نزدیک یہ ہے کہ داڑھی کا ترشوانا اس حد تک جائز ہے کہ وہ عرفِ عام سے خارج نہ ہوجائے۔‘‘ دیکھنا یہ ہے کہ یہ ’’عرف الناس‘‘ جس کو آپ نے ’’عرفِ عام‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے کہ اس سے کن لوگوں کا عرف مراد ہے؟ آیا ایسے معاشرے کا عرف جو صحیح اسلامی معاشرے کی عکاسی کرتا ہو؟ یا ایسے معاشرے کا عرف جس پر فسق و فجور اور ہوائے نفس کا غلبہ ہو؟ غالباً سوال لکھتے وقت آنجناب کے ذہن میں عرفِ عام کی یہی دُوسری صورت ہوگی، لیکن اگر آپ ذرا سی توجہ سے کام لیتے تو واضح ہوجاتا کہ یہاں علامہ عینیؒ، سلف کے مسلک میں گفتگو کر رہے ہیں اور ’’سلف صالحین‘‘ کا لفظ عموماً صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم کے لئے استعمال ہوتا ہے۔(۸) اس لئے اس عبارت میں انہی کا عرفِ عام مراد ہے، انہی کا عرف صحیح اسلامی معاشرے کی نمائندگی کرتا ہے، اور انہی کے عرف کو بطورِ سند اور دلیل پیش کیا جاسکتا ہے اور کیا جاتا ہے۔ اب دیکھئے کہ بات کیا نکلی؟ بات یہ نکلی کہ صحابہؓ و تابعینؒ کے دور میں عام طور سے جتنی داڑھی رکھنے کا رواج تھا، اس سے کم کرنا سلف کی اس دُوسری جماعت کے نزدیک جائز نہیں۔(۹) اب میں پوچھتا ہوں کہ صحابہؓ و تابعینؒ کا عرفِ عام تو الگ رہا! کیا کسی ایک صحابی یا تابعی سے بھی ایک مشت سے کم داڑھی رکھنا ثابت ہے؟ اگر نہیں، تو علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت سے ایک قبضے سے کم داڑھی رکھنے کا جواز کیسے نکل آیا؟ بہرحال علامہ عینیؒ کی عبارت میں نہ تو قبضے سے کم تراشنا مراد ہے اور نہ لوگوں کے ’’عرفِ عام‘‘ سے بگڑے ہوئے معاشرے کا عرفِ عام مراد ہے۔
- (۱) عن ابن عمر رضی اللہ عنھما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: احفوا الشوارب واعفوا اللحٰی، وفی روایۃ: أنہ أمر بإحفاء الشوارب وإعفاء اللحیۃ۔ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۱۲۹، باب خصال الفطرۃ)۔
- (۲) محمد قال: أخبرنا أبو حنیفۃ عن الھیثم عن ابن عمر رضی اللہ عنھما أنہ کان یقبض علٰی لحیتہ، ثم یقص ما تحت القبضۃ۔ قال محمد: وبہ نأخذ وھو قول أبی حنیفۃ۔ (کتاب الآثار ص:۱۹۸، باب حف الشعر من الوجہ، طبع قدیمی)۔
- (۳) وأما الأخذ منھا وھی دون ذٰلک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد، وأخذا کلھا فعل یھود الھند ومجوس الأعاجم۔ (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۴۱۸ طبع جدید، فتح القدیر ج:۲ ص:۳۴۸، کتاب الصوم، باب ما یوجب القضاء والکفارۃ، طبع مصطفٰی حلبی، مصر)۔
- (۴) وصرح فی النھایۃ بوجوب قطع ما زاد علی القبضۃ بالضم ومقتضاہ الْإثم بترکہ إلّا أن یحمل الوجوب علی الثبوت۔ وفی الشرح: قولہ صرح فی النھایۃ إلخ حیث قال وما وراء ذالک یجب قطعہ ھٰکذا عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أنہ کان یأخذ من اللحیۃ من طولھا وعرضھا ۔۔۔ وسمعت من بعض أعزاء الموالی أن قول النھایۃ یحب بالحاء المھملۃ ولَا بأس بہ۔ ۔۔۔ فإذا زاد علٰی قبضتہ شیء جزہ کما فی المنیۃ، وھو سنۃ کما فی المبتغی وفی المجتبٰی والینابیع وغیرھما لَا بأس بأطراف اللحیۃ إذا طالت ولَا بنتف الشیب إلّا علٰی وجہ التزین۔(شامی ج:۲ ص:۴۱۸، باب ما یفسد الصوم ۔۔۔إلخ)۔
- (۵) عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إنھکوا الشوارب وأعفوا اللّحٰی۔ (بخاری ج:۲ ص: ۸۷۵)۔
- (۶) أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یأخذ من لحیتہ من عرضھا وطولھا۔ رواہ الترمذی۔ (مشکٰوۃ ج:۲ ص:۳۸۱)۔
- (۷) ولَا بأس إذا طالت لحیتہ أن یأخذ من أطرافھا ولَا بأس أن یقبض علٰی لحیتہ فإن زاد علٰی قبضۃ منھا شیء جزہ وإن کان ما زاد طویلۃ ترکہ کذا فی الملتقط۔ والقص سُنَّۃ فیھا وھو أن یقبض الرجل لحیتہ فإن زاد منھا علٰی قبضتہ قطعہ کذا ذکرہ محمد فی کتاب الآثار عن أبی حنیفۃ وقال: بہ نأخذ، کذا فی المحیط السرخسی۔ (عالمگیریۃ ج:۵ ص:۳۵۸)۔ أیضًا: وعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم یحل الْإعفاء علٰی إعفائھا عن أن یأخذ غالبھا أو کلھا کما ھو فعل مجوس الأعاجم من حلق لحاھم۔ (ردالمحتار ج:۲ ص:۴۱۸، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لَا یفسدہ، طبع سعید)۔
- (۸) وقال الزیلعی: أو یظھر سبّ السلف یعنی الصالحین منھم وھم الصحابۃ والتابعون۔ (ردالمحتار ج:۴ ص:۲۳۷)۔
- (۹) ولذا یحرم علی الرجل قطع لحیتہ أو تطویل اللحیۃ إذا کانت بقدر المسنون وھو القبضۃ ۔۔۔ وأما الأخذ منھا وھی دون ذٰلک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد۔ (شامی ج:۶ ص:۴۰۷، کتاب الحظر والْإباحۃ، والدرالمختار ج:۲ ص:۴۱۷، ۴۱۸، طبع سعید، عالمگیریۃ ج:۵ ص:۳۵۸، کتاب الکراھیۃ، الباب التاسع عشر)۔

