بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

داڑھی

داڑھی‌کٹانا‌حرام‌ہے

سوال:۔

آپ نے اِرشاد فرمایا ہے کہ داڑھی بڑھانا واجب ہے، اور اس کو منڈانا یا کٹانا (جبکہ ایک مشت سے کم ہو) شرعاً حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔

۱:۔ جنابِ عالی! میں نے پاکستان میں ماہِ رمضان میں کئی حافظ دیکھے جو تراویح پڑھاتے تھے اور داڑھی صاف کرتے تھے۔

۲:۔ سب سے اعلیٰ مثال ہمارے حکیم سعید احمد صاحب ’’ہمدرد‘‘ والے الحاج حافظ ہیں، ۹۰ سال کی عمر میں ہیں، اپنے رسالے ’’ہمدرد صحت‘‘ میں پہلا مضمون قرآن اور حدیث کا ہوتا ہے، خود لکھتے ہیں، کیا ان کو یہ مسئلہ نہیں معلوم؟

۳:۔ یہاں ریاض میں اکثریت لوکل آبادی ذرا سی داڑھی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اِمام شافعی اور اِمام احمد بن حنبل کی فقہ میں جائز ہے۔

۴:۔ اس مسئلے پر ایک قابل، تعلیم یافتہ جو عربی اور حدیث وفقہ کی ڈگریاں رکھتے ہیں، نے گفتگو کی، انہوں نے بھی کہا کہ چھوٹی داڑھی حرام نہیں۔

براہِ کرم تفصیل سے جواب دیں کیونکہ اکثر پاک وہند کے مسلمان بھی یہاں آکر ان جیسی داڑھی رکھنے لگے ہیں، کیونکہ عمرہ، حج کرنے کے بعد سے نماز کی پابندی بھی کرتے ہیں۔

جواب۱:۔

فاسق ہیں، ان کی اِقتدا میں نماز مکروہِ تحریمی ہے۔(۱)

۲:۔ یہ بات حکیم صاحب ہی کو معلوم ہوگی کہ ان کو مسئلہ معلوم ہے یا نہیں۔؟

۳:۔ یہ لوگ غلط کہتے ہیں، کسی فقہ میں جائز نہیں۔(۲)

۴:۔ ان کے پاس ڈگریاں ہیں، لیکن صرف ڈگریوں سے دِین آجایا کرتا تو مغرب کے مستشرقین ان سے بڑی ڈگریاں رکھتے ہیں۔ اس موضوع پر میرا مختصر سا رِسالہ ہے ’’داڑھی کا مسئلہ‘‘ اس کا مطالعہ کریں۔

  1. (۱) وأما الفاسق فقد عللوا کراھۃ تقدیمہ بأنہ لَا یھتم لأمر دینہ وبأن فی تقدیمہ للإمامۃ تعظیمہ، وقد وجب علیھم إھانتہ شرعًا۔ (رد المحتار ج:۱ ص:۵۶۰، باب الْإمامۃ، طبع سعید)۔
  2. (۲) وأما الأخذ منھا وھی دون ذالک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۴۱۸، باب ما یفسد الصوم وما لَا یفسدہ، طبع سعید)۔