بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

داڑھی

ـداڑھی‌منڈانے‌والے‌کے‌فتوے‌کی‌شرعی‌حیثیت

سوال:۔

آج کل ٹی وی پر ماڈرن قسم کے مولوی فتوے دیتے ہیں، یعنی ایسے مولوی جو کلین شیو کرکے اور پینٹ پہن کے ٹی وی پر آتے ہیں اور لوگوں کے مسائل کے جوابات دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے فتوے پر عمل کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:۔

داڑھی منڈانے والا کھلا فاسق ہے،(۱) اور فاسق کی خبر دُنیوی معاملات میں بھی قابلِ اعتماد نہیں، دِینی اُمور میں کیونکر ہوگی۔؟(۲)

  1. (۱) (قولہ: وفاسق) عن الفسق، وھو الخروج عن الْإستقامۃ ولعل المراد بہ من یرتکب الکبائر، کشارب الخمر والزانی، وآکل الربا ونحو ذالک۔ (ردالمحتار ج:۱ ص:۵۵۹ باب الْإمامۃ)۔
  2. (۲) قال القاضی ثناء اللہ: فلا یقبل شھادۃ الفاسق إجماعًا لأن العدالۃ شرط فی الروایۃ حیث قال اللہ تعالٰی: ﵟ إِن جَآءَكُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَإٖ فَتَبَيَّنُوٓاْ ﵞ، ففی الشھادۃ بالطریق الأولٰی۔ (المظھری ج:۱ ص:۴۲۷)۔ إتفقوا علٰی أن الْإعلان بکبیرۃ یمنع الشھادۃ وفی الصغائر إن کان معلنًا بنوع فسق مستشنع یسمیہ الناس بذالک فاسقًا مطلقًا لَا تقبل شھادتہ ۔۔۔ وعن أبی یوسف الفاسق إذا کان وجیھًا فی الناس ذا مروئۃ تقبل شھادتہ والأصح أن شھادتہ لَا تقبل کذا فی الکافی۔ (عالمگیریۃ ج:۳ ص:۴۶۶، کتاب الشھادات، الباب الرابع فیمن تقبل شھادتہ ومن لَا تقبل)۔