بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

داڑھی

رسالہ داڑھی کا مسئلہ

’’رسالہ داڑھی کا مسئلہ‘‘

سوال۱:۔

داڑھی کی شرعی حیثیت کیا ہے، واجب ہے یا سنت؟ اور داڑھی منڈانا جائز ہے یا مکروہ یا حرام؟ بہت سے حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ داڑھی رکھنا ایک سنت ہے، اگر کوئی رکھے تو اچھی بات ہے اور نہ رکھے تب بھی کوئی گناہ نہیں۔ یہ نظریہ کہاں تک صحیح ہے؟

سوال۲:۔

شریعت میں داڑھی کی کوئی مقدار مقرّر ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کتنی؟

سوال۳:۔

بعض حفاظ کی عادت ہے کہ وہ رمضان مبارک سے کچھ پہلے داڑھی رکھ لیتے ہیں اور رمضان المبارک کے بعد صاف کردیتے ہیں، ایسے حافظوں کو تراویح میں اِمام بنانا جائز ہے یا نہیں؟ اور ان کے پیچھے نماز دُرست ہے یا نہیں؟

سوال۴:۔

بعض لوگ داڑھی سے نفرت کرتے ہیں اور اسے نظرِ حقارت سے دیکھتے ہیں، اگر اولاد یا اعزّہ میں سے کوئی داڑھی رکھنا چاہے تو اسے روکتے ہیں اور طعنے دیتے ہیں، اور کچھ لوگ شادی کے لئے داڑھی صاف ہونے کی شرط لگاتے ہیں، ایسے لوگوں کا کیا حکم ہے؟

سوال۵:۔

بعض لوگ سفرِ حج کے دوران داڑھی رکھ لیتے ہیں اور حج سے واپسی پر صاف کرادیتے ہیں، کیا ایسے لوگوں کا حج صحیح ہے؟

سوال۶:۔

بعض حضرات اس لئے داڑھی نہیں رکھتے کہ اگر ہم داڑھی رکھ کر کوئی غلط کام کریں گے تو اس سے داڑھی والوں کی بدنامی اور داڑھی کی بے حرمتی ہوگی۔ ایسے حضرات کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب۱:۔

داڑھی منڈانا یا کترانا (جبکہ ایک مشت سے کم ہو) حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، اس سلسلے میں پہلے چند احادیث لکھتا ہوں، اس کے بعد ان کے فوائد ذکر کروں گا۔

۱:۔ ’’عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: عَشْرٌ مِّنَ الْفِطْرَةِ قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ۔‘‘ الْحَدِيْثُ۔ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۱۲۹)

ترجمہ:۔ ’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: دس چیزیں فطرت میں داخل ہیں، مونچھوں کا کٹوانا اور داڑھی کا بڑھانا ۔۔۔الخ۔‘‘

۲:۔ ’’عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَاَعْفُوا اللِّحٰی۔‘‘

ترجمہ:۔ ’’ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: مونچھوں کو کٹواؤ اور داڑھی بڑھاؤ۔‘‘

’’وَفِیْ رِوَایَۃٍ: اِنَّہٗ اَمَرَ بِاِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ وَاِعْفَاءِ اللِّحْیَۃِ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۱۲۹)

ترجمہ:۔ ’’اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھوں کو کٹوانے اور داڑھی کو بڑھانے کا حکم فرمایا۔‘‘

۳:۔ ’’عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: خَالِفُوا الْمُشْرِکِیْنَ، اَوْفِرُوا اللِّحٰی وَاحْفُوا الشَّوَارِبَ۔‘‘ (متفق علیہ، مشکوٰۃ ص:۳۸۰)

ترجمہ:۔ ’’ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکوں کی مخالفت کرو، داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں کٹاؤ۔‘‘

۴:۔ ’’عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: جُزُّوا الشَّوَارِبَ وَارْخُوا اللِّحٰی، خَالِفُوا الْمَجُوْسَ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۱۲۹)

ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مونچھیں کٹواؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ، مجوسیوں کی مخالفت کرو۔‘‘

۵:۔ ’’عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ لَّمْ یَاْخُذْ مِنْ شَارِبِہٖ فَلَیْسَ مِنَّا۔‘‘ (رواہ احمد والترمذی والنسائی، مشکوٰۃ ص: ۳۸۱)

ترجمہ:۔ ’’زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مونچھیں نہ کٹوائے وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘

۶:۔ ’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَعَنَ اللہُ الْمُتَشَبِّہِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّہَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ۔‘‘ (رواہ البخاری، مشکوٰۃ ص:۳۸۰)

ترجمہ:۔ ’’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ کی لعنت ہو ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت کرتے ہیں، اور اللہ کی لعنت ہو ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت کرتی ہیں۔‘‘

فوائد:

۱:۔ پہلی حدیث سے معلوم ہوا کہ مونچھیں کٹانا اور داڑھی بڑھانا انسان کی فطرتِ سلیمہ کا تقاضا ہے، اور مونچھیں بڑھانا اور داڑھی کٹانا خلافِ فطرت ہے، اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ فطرۃ اللہ کو بگاڑتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے کہ شیطان لعین نے خدا تعالیٰ سے کہا تھا کہ میں اولادِ آدم کو گمراہ کروں گا، اور میں ان کو حکم دُوں گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بگاڑا کریں۔(۱) تفسیر حقانی اور بیان القرآن وغیرہ میں ہے کہ داڑھی منڈانا بھی تخلیقِ خداوندی کو بگاڑنے میں داخل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مردانہ چہرے کو فطرۃً داڑھی کی زینت و وجاہت عطا فرمائی ہے۔ پس جو لوگ داڑھی منڈاتے ہیں وہ اغوائے شیطان کی وجہ سے نہ صرف اپنے چہرے کو بلکہ اپنی فطرت کو مسخ کرتے ہیں۔

چونکہ حضراتِ انبیاء علیہم السلام کا طریقہ ہی صحیح فطرتِ انسانی کا معیار ہے، اس لئے فطرت سے مراد انبیائے کرام علیہم السلام کا طریقہ اور ان کی سنت بھی ہوسکتی ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ مونچھیں کٹوانا اور داڑھی بڑھانا ایک لاکھ چوبیس ہزار (یا کم و بیش) انبیائے کرام علیہم السلام کی متفقہ سنت ہے۔(۲) اور یہ وہ مقدس جماعت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اقتداء کا حکم دیا گیا ہے: ﵟ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُۖ فَبِهُدَىٰهُمُ ٱقۡتَدِهۡ ﵞالأنعام:٩٠اس لئے جو لوگ داڑھی منڈاتے ہیں وہ انبیائے کرام علیہم السلام کے طریقے کی مخالفت کرتے ہیں۔ گویا اس حدیث میں تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ داڑھی منڈانا تین گناہوں کا مجموعہ ہے۔ ۱-انسانی فطرت کی خلاف ورزی، ۲-اغوائے شیطان سے اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بگاڑنا، ۳-اور انبیائے کرام علیہم السلام کی مخالفت۔ پس ان تین وجوہ سے داڑھی منڈوانا حرام ہے۔

۲:۔ دُوسری حدیث میں مونچھیں کٹوانے اور داڑھی بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے اور حکمِ نبوی کی تعمیل ہر مسلمان پر واجب اور اس کی مخالفت حرام ہے، پس اس وجہ سے بھی داڑھی رکھنا واجب اور اس کا منڈانا حرام ہوا۔

۳:۔ تیسری اور چوتھی حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ مونچھیں کٹوانا اور داڑھی رکھنا مسلمانوں کا شعار ہے، اس کے برعکس مونچھیں بڑھانا اور داڑھی منڈانا مجوسیوں اور مشرکوں کا شعار ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو مسلمانوں کا شعار اپنانے اور مجوسیوں کے شعار کی مخالفت کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ اسلامی شعار کو چھوڑ کر کسی گمراہ قوم کا شعار اختیار کرنا حرام ہے، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ۔‘‘(۳) (جامع صغیر ج:۲ ص:۸)

ترجمہ:۔ ’’جو شخص کسی قوم کی مشابہت کرے وہ انہی میں سے ہوگا۔‘‘

پس جو لوگ داڑھی منڈاتے ہیں وہ مسلمانوں کا شعار ترک کرکے اہلِ کفر کا شعار اپناتے ہیں، جس کی مخالفت کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا، اس لئے ان کو وَعیدِ نبوی سے ڈرنا چاہئے کہ ان کا حشر بھی قیامت کے دن انہی غیرقوموں میں نہ ہو۔ نعوذ باللہ!

۴:۔ پانچویں حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ مونچھیں نہیں کٹواتے وہ ہماری جماعت میں شامل نہیں، ظاہر ہے کہ یہی حکم داڑھی منڈانے کا ہے، پس یہ ان لوگوں کے لئے بہت ہی سخت وعید ہے جو محض نفسانی خواہش یا شیطانی اغوا کی وجہ سے داڑھی منڈاتے ہیں، اور اس کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے اپنی جماعت سے خارج ہونے کا اعلان فرما رہے ہیں، کیا کوئی مسلمان جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذرا بھی تعلق ہے، اس دھمکی کو برداشت کرسکتا ہے۔؟

اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو داڑھی منڈانے کے گناہ سے اس قدر نفرت تھی کہ جب شاہِ ایران کے قاصد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کی داڑھیاں منڈی ہوئی اور مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں:

’’فَکَرِہَ النَّظَرَ اِلَیْہِمَا، وَقَالَ: وَیْلَکُمَا! مَنْ اَمَرَکُمَا بِہٰذَا؟ قَالَا: اَمَرَنَا رَبُّنَا یَعْنِیَانِ کِسْرٰی، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: وَلٰـکِنْ رَبِّیْ اَمَرَنِیْ بِاِعْفَاءِ لِحْیَتِیْ وَقَصِّ شَارِبِیْ۔‘‘ (البدایہ والنہایہ ج:۴ ص:۲۷۰، حیاۃ الصحابہ ج:۱ ص:۱۱۵)

ترجمہ:۔ ’’پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف نظر کرنا بھی پسند نہ کیا اور فرمایا: تمہاری ہلاکت ہو! تمہیں یہ شکل بگاڑنے کا کس نے حکم دیا ہے؟ وہ بولے کہ: یہ ہمارے رَبّ یعنی شاہِ ایران کا حکم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن میرے رَبّ نے تو مجھے داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کٹوانے کا حکم فرمایا ہے۔‘‘

پس جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رَبّ کے حکم کی خلاف ورزی کرکے مجوسیوں کے خدا کے حکم کی پیروی کرتے ہیں، ان کو سو بار سوچنا چاہئے کہ وہ قیامت کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کیا منہ دِکھائیں گے؟ اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں کہ: تم اپنی شکل بگاڑنے کی وجہ سے ہماری جماعت سے خارج ہو، تو شفاعت کی اُمید کس سے رکھیں گے؟

۵:۔ اس پانچویں حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مونچھیں بڑھانا (اور اسی طرح داڑھی منڈانا اور کترانا) حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی گناہِ کبیرہ پر ہی ایسی وعید فرماسکتے ہیں کہ ایسا کرنے والا ہماری جماعت سے نہیں ہے۔

۶:۔ چھٹی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت کریں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت کریں۔ اس حدیث کی شرح میں مُلَّا علی قاریؒ صاحبِ مرقاۃ لکھتے ہیں کہ: ’’لَعَنَ اللہُ‘‘ کا فقرہ، جملہ بطور بددُعا بھی ہوسکتا ہے، یعنی ان لوگوں پر اللہ کی لعنت ہو، اور جملہ خبریہ بھی ہوسکتا ہے، یعنی ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ لعنت فرماتے ہیں۔(۴)

داڑھی منڈانے میں گزشتہ بالا قباحتوں کے علاوہ ایک قباحت عورتوں سے مشابہت کی بھی ہے، کیونکہ عورتوں اور مردوں کے درمیان اللہ تعالیٰ نے داڑھی کا امتیاز رکھا ہے، پس داڑھی منڈانے والا اس امتیاز کو مٹاکر عورتوں سے مشابہت کرتا ہے، جو خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت کا موجب ہے۔

ان تمام نصوص کے پیشِ نظر فقہائے اُمت اس پر متفق ہیں کہ داڑھی بڑھانا واجب ہے، اور یہ اسلام کا شعار ہے، اور اس کا منڈانا یا کترانا (جبکہ حدِ شرعی سے کم ہو) حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت وعیدیں فرمائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس فعلِ حرام سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔

جواب۲:۔

احادیثِ بالا میں داڑھی کے بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے اور ترمذی کتاب الادب (ج:۲ ص:۱۰۰) کی ایک روایت میں جو سند کے اعتبار سے کمزور ہے، یہ ذکر کیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ریش مبارک کے طول و عرض سے زائد بال کاٹ دیا کرتے تھے۔(۵) اس کی وضاحت صحیح بخاری کتاب اللباس (ج:۲ ص:۸۷۵) کی روایت سے ہوتی ہے کہ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما حج و عمرے سے فارغ ہونے کے موقع پر اِحرام کھولتے تو داڑھی کو مٹھی میں لے کر زائد حصہ کاٹ دیا کرتے تھے۔(۶) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مضمون کی روایت منقول ہے (نصب الرایہ ج:۲ ص:۴۵۸)۔(۷) اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ داڑھی کی شرعی مقدار کم از کم ایک مشت ہے(ہدایہ کتاب الصوم)۔(۸)

پس جس طرح داڑھی منڈانا حرام ہے، اسی طرح داڑھی ایک مشت سے کم کرنا بھی حرام ہے، در مختار میں ہے:

’’وَاَمَّا الْاَخْذُ مِنْہَا وَہِیَ دُوْنَ ذٰلِکَ کَمَا یَفْعَلُہٗ بَعْضُ الْمَغَارِبَۃِ وَمُخَنَّثَۃُ الرِّجَالِ فَلَمْ یُبِحْہُ اَحَدٌ، وَاَخْذُ کُلِّہَا فِعْلُ یَہُوْدِ الْہِنْدِ وَمَجُوْسِ الْاَعَاجِمِ۔‘‘ (شامی طبع جدید ج:۲ ص:۴۱۸)

ترجمہ:۔ ’’اور داڑھی کترانا جبکہ وہ ایک مشت سے کم ہو جیسا کہ بعض مغربی لوگ اور ہیجڑے قسم کے آدمی کرتے ہیں، پس اس کو کسی نے جائز نہیں کہا، اور پوری داڑھی صاف کردینا تو ہندوستان کے یہودیوں اور عجم کے مجوسیوں کا فعل تھا۔‘‘

یہی مضمون فتح القدیر (ج:۲ ص:۷۷) اور بحر الرائق (ج:۲ ص:۳۰۲) میں ہے، شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ ’’اشعۃ اللمعات‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’حلق کردن لحیہ حرام است وگزاشتن آں بقدر قبضہ واجب است۔‘‘ (ج:۱ ص:۲۲۸)

ترجمہ:۔ ’’داڑھی منڈانا حرام ہے، اور ایک مشت کی مقدار اس کا بڑھانا واجب ہے (پس اگر اس سے کم ہو تو کترانا بھی حرام ہے)۔‘‘

امداد الفتاویٰ میں ہے:(۹)

’’داڑھی رکھنا واجب ہے، اور قبضے سے زائد کٹوانا حرام ہے۔ لِقَوْلِہٖ عَلَیْہِ السَّلَامُ: خَالِفُوا الْمُشْرِکِیْنَ اَوْفِرُوا اللِّحٰی۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔ فِی الدُّرِّ الْمُخْتَارِ: یَحْرُمُ عَلَی الرَّجُلِ قَطْعُ لِحْیَتِہٖ وَفِیْہِ السُّنَّۃُ فِیْہَا الْقَبْضَۃُ۔‘‘

ترجمہ:۔ ’’کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی بڑھاؤ۔ (بخاری و مسلم) اور درمختار میں ہے کہ: مرد کے لئے داڑھی کا کاٹنا حرام ہے اور اس کی مقدارِ مسنون ایک مشت ہے۔‘‘

جواب۳:۔

جو حافظ داڑھی منڈاتے یا کتراتے ہوں وہ گناہِ کبیرہ کے مرتکب اور فاسق ہیں۔ تراویح میں بھی ان کی اِمامت جائز نہیں، اور ان کی اِقتدا میں نماز مکروہِ تحریمی (یعنی عملاً حرام) ہے۔(۱۰) اور جو حافظ صرف رمضان المبارک میں داڑھی رکھ لیتے ہیں اور بعد میں صاف کرادیتے ہیں ان کا بھی یہی حکم ہے۔ ایسے شخص کو فرض نماز اور تراویح میں اِمام بنانے والے بھی فاسق اور گنہگار ہیں۔(۱۱)

جواب۴:۔

اس سوال کا جواب سمجھنے کے لئے یہ اُصول ذہن نشین کرلینا ضروری ہے کہ اسلام کے کسی شعار کا مذاق اُڑانا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سنت کی تحقیر کرنا کفر ہے، جس سے آدمی ایمان سے خارج ہوجاتا ہے، اور یہ اُوپر معلوم ہوچکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی کو اسلام کا شعار اور انبیائے کرام علیہم السلام کی متفقہ سنت فرمایا ہے، پس جو لوگ مسخِ فطرت کی بنا پر داڑھی سے نفرت کرتے ہیں، اسے حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، ان کے اعزّہ میں سے اگر کوئی داڑھی رکھنا چاہے تو اسے روکتے ہیں یا اس پر طعنہ زنی کرتے ہیں، اور جو لوگ دُولہا کے داڑھی منڈائے بغیر اسے رشتہ دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے، ایسے لوگوں کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے، ان کو لازم ہے کہ توبہ کریں اور اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کریں۔(۱۲) حکیم الاُمت مولانا اشرف علی تھانویؒ ’’اصلاح الرسوم‘‘ ص:۱۵ پر لکھتے ہیں:

’’من جملہ ان رُسوم کے داڑھی منڈانا یا کٹانا، اس طرح ہے کہ ایک مشت سے کم رہ جائے، یا مونچھیں بڑھانا، جو اس زمانے میں اکثر نوجوانوں کے خیال میں خوش وضعی سمجھی جاتی ہے، حدیث میں ہے کہ: ’’بڑھاؤ داڑھی کو اور کتراؤ مونچھوں کو‘‘ روایت کیا ہے اس کو بخاری و مسلم نے۔(۱۳)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صیغۂ اَمر سے دونوں حکم فرمائے ہیں، اور اَمر حقیقتاً وجوب کے لئے ہوتا ہے، پس معلوم ہوا کہ یہ دونوں حکم واجب ہیں اور واجب کا ترک کرنا حرام ہے، پس داڑھی کا کٹانا اور مونچھیں بڑھانا دونوں فعل حرام ہیں، اس سے زیادہ دُوسری حدیث میں مذکور ہے۔ ارشاد فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ’’جو شخص اپنی لبیں نہ لے وہ ہمارے گروہ سے نہیں۔‘‘ روایت کیا اس کو احمد اور ترمذی اور نسائی نے۔(۱۴)

جب اس کا گناہ ہونا ثابت ہوگیا تو جو لوگ اس پر اِصرار کرتے ہیں اور اس کو پسند کرتے ہیں، اور داڑھی بڑھانے کو عیب جانتے ہیں، بلکہ داڑھی پر ہنستے ہیں اور ان کی ہجو کرتے ہیں، ان سب مجموعہ اُمور سے اِیمان کا سالم رہنا اَزبس دُشوار ہے۔ ان لوگوں کو واجب ہے کہ اپنی اس حرکت سے توبہ کریں اور اِیمان اور نکاح کی تجدید کریں اور اپنی صورت موافق حکم اللہ اور رسول کے بناویں۔‘‘

جواب۵:۔

جو حضرات سفرِ حج کے دوران یا حج سے واپس آکر داڑھی منڈاتے ہیں یا کتراتے ہیں، ان کی حالت عام لوگوں سے زیادہ قابلِ رحم ہے، اس لئے کہ وہ خدا کے گھر میں بھی کبیرہ گناہ سے باز نہیں آتے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہی حج مقبول ہوتا ہے جو گناہوں سے پاک ہو۔ اور بعض اکابر نے حجِ مقبول کی علامت یہ لکھی ہے کہ حج سے آدمی کی زندگی میں دِینی انقلاب آجائے یعنی وہ حج کے بعد طاعات کی پابندی اور گناہوں سے بچنے کا اہتمام کرنے لگے۔

جس شخص کی زندگی میں حج سے کوئی تغیر نہیں آیا، اگر پہلے فرائض کا تارک تھا تو اَب بھی ہے، اور اگر پہلے کبیرہ گناہوں میں مبتلا تھا تو حج کے بعد بھی بدستور گناہوں میں ملوّث ہے، ایسے شخص کا حج درحقیقت حج نہیں محض سیر و تفریح اور چلت پھرت ہے، گو فقہی طور پر اس کا فرض ادا ہوجائے گا، لیکن حج کے ثواب اور برکات اور ثمرات سے وہ محروم رہے گا۔ کتنی حسرت و افسوس کا مقام ہے کہ آدمی ہزاروں روپے کے مصارف بھی اُٹھائے اور سفر کی مشقتیں بھی برداشت کرے، اس کے باوجود اسے گناہوں سے توبہ کی توفیق نہ ہو، اور جیسا گیا تھا ویسا ہی خالی ہاتھ واپس آجائے۔ اگر کوئی شخص سفرِ حج کے دوران زنا اور چوری کا ارتکاب کرے اور اسے اپنے اس فعل پر ندامت بھی نہ ہو اور نہ اس سے توبہ کرے تو ہر شخص سوچ سکتا ہے کہ اس کا حج کیسا ہوگا؟ داڑھی منڈانے کا کبیرہ گناہ ایک اعتبار سے چوری اور بدکاری سے بھی بدتر ہے کہ وہ وقتی گناہ ہیں، لیکن داڑھی منڈانے کا گناہ چوبیس گھنٹے کا گناہ ہے، آدمی داڑھی منڈاکر نماز پڑھتا ہے، روزہ رکھتا ہے، حج کا اِحرام باندھے ہوئے ہے، لیکن اس کی منڈی ہوئی داڑھی عین نماز، روزہ اور حج کے دوران بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس پر لعنت بھیج رہی ہے، اور وہ عین عبادت کے دوران بھی حرام کا مرتکب ہے۔ حضرت شیخ قطب العالم مولانا محمد زکریا کاندہلوی ثم مدنی نوّر اللہ مرقدہٗ اپنے رسالے ’’داڑھی کا وجوب‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:

’’مجھے ایسے لوگوں کو (جو داڑھی منڈاتے ہیں) دیکھ کر یہ خیال ہوتا تھا کہ موت کا کوئی وقت مقرّر نہیں، اور اس حالت میں (جب داڑھی منڈی ہوئی ہو) اگر موت واقع ہوئی تو قبر میں سب سے پہلے سیّد الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ انور کی زیارت ہوگی تو کس منہ سے چہرۂ انور کا سامنا کریں گے؟

اس کے ساتھ ہی بار بار یہ خیال آتا تھا کہ گناہِ کبیرہ: زنا، لواطت، شراب نوشی، سود خوری وغیرہ تو بہت ہیں، مگر وہ سب وقتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’لَا یَزْنِی الزَّانِیْ وَہُوَ مُؤْمِنٌ ۔۔۔ اِلٰخ‘‘ یعنی جب زناکار زنا کرتا ہے تو وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا۔

مطلب اس حدیث کا مشائخ نے یہ لکھا ہے کہ زنا کے وقت ایمان کا نور اس سے جدا ہوجاتا ہے، لیکن زنا کے بعد وہ نورِ اِیمانی مسلمان کے پاس واپس آجاتا ہے۔ مگر قطعِ لحیہ (داڑھی منڈانا اور کترانا) ایسا گناہ ہے جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے، نماز پڑھتا ہے تو بھی یہ گناہ ساتھ ہے، روزے کی حالت میں، حج کی حالت میں، غرض ہر عبادت کے وقت یہ گناہ اس کے ساتھ لگا رہتا ہے۔‘‘ (داڑھی کا وجوب ص:۲)

پس جو حضرات حج و زیارت کے لئے تشریف لے جاتے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بارگاہ میں حاضر ہونے سے پہلے اپنی مسخ شدہ شکل کو دُرست کریں اور اس گناہ سے سچی توبہ کریں، اور آئندہ ہمیشہ کے لئے اس فعلِ حرام سے بچنے کا عزم کریں، ورنہ خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ شیخ سعدیؒ کے اس شعر کے مصداق بن جائیں:

خرِ عیسیٰ اگر بہ مکہ رود

چو بیاید ہنوز خر باشد

ترجمہ:۔ ’’عیسیٰ کا گدھا اگر مکے بھی چلا جائے، جب واپس آئے گا تب بھی گدھا ہی رہے گا۔‘‘

انہیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ وہ روضۂ اطہر پر سلام پیش کرنے کے لئے کس منہ سے حاضر ہوں گے؟ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی بگڑی ہوئی شکل دیکھ کر کتنی اذیت ہوتی ہوگی۔؟

جواب۶:۔

ان حضرات کا جذبہ بظاہر بہت اچھا ہے اور اس کا منشا داڑھی کی حرمت و عظمت ہے۔ لیکن اگر ذرا غور و تأمل سے کام لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ خیال بھی شیطان کی ایک چال ہے، جس کے ذریعے شیطان نے بہت سے لوگوں کو دھوکا دے کر اس فعلِ حرام میں مبتلا کردیا ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھئے۔ ایک مسلمان دُوسروں سے دغا فریب کرتا ہے، جس کی وجہ سے پوری اسلامی برادری بدنام ہوتی ہے، اب اگر شیطان اسے یہ پٹی پڑھائے کہ: ’’تمہاری وجہ سے اسلام اور مسلمان بدنام ہورہے ہیں، اسلام کی حرمت کا تقاضا یہ ہے کہ تم ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔ اسلام کو چھوڑ کر سکھ بن جاؤ‘‘ تو کیا اس وسوسے کی وجہ سے اس کو اسلام چھوڑ دینا چاہئے؟ نہیں! بلکہ اگر اس کے دِل میں اسلام کی واقعی حرمت و عظمت ہے تو وہ اسلام کو نہیں چھوڑے گا بلکہ ان بُرائیوں سے کنارہ کشی کرے گا جو اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی کا موجب ہیں۔ ٹھیک اسی طرح اگر شیطان یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ: ’’اگر تم داڑھی رکھ کر بُرے کام کروگے تو داڑھی والے بدنام ہوں گے اور یہ چیز داڑھی کی حرمت کے خلاف ہے‘‘ تو اس کی وجہ سے داڑھی کو خیرباد نہیں کہا جائے گا، بلکہ ہمت سے کام لے کر خود ان بُرے افعال سے بچنے کی کوشش کی جائے گی جو داڑھی کی حرمت کے منافی ہیں اور جن سے داڑھی والوں کی بدنامی ہوتی ہے۔

ان حضرات نے آخر یہ کیوں فرض کرلیا ہے کہ ہم داڑھی رکھ کر اپنے بُرے اعمال نہیں چھوڑیں گے؟ اگر ان کے دِل میں واقعی اس شعارِ اِسلام کی حرمت ہے تو عقل اور دِین کا تقاضا یہ ہے کہ وہ داڑھی رکھیں، اور یہ عزم کریں کہ اِن شاء اللہ اس کے بعد کوئی کبیرہ گناہ ان سے سرزد نہیں ہوگا، اور دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس شعارِ اِسلام کی حرمت کی لاج رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ بہرحال اس موہوم اندیشے کی بنا پر کہ کہیں ہم داڑھی رکھ کر اس کی حرمت کے قائم رکھنے میں کامیاب نہ ہوں، اس عظیم الشان شعارِ اِسلام سے محروم ہوجانا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے، اس لئے تمام مسلمانوں کو لازم ہے کہ شعارِ اِسلام کو خود بھی اپنائیں اور معاشرے میں اس کو زندہ کرنے کی پوری کوشش کریں تاکہ قیامت کے دن مسلمانوں کی شکل و صورت میں ان کا حشر ہو، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور حق تعالیٰ شانہ‘ کی رحمت کا مورد بن سکیں۔

’’عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُـوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: کُلُّ اُمَّتِیْ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ اَبٰی، قَالُوْا: وَمَنْ یَّأْبٰی؟ قَالَ: مَنْ اَطَاعَنِیْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ اَبٰی۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۱۰۸۱)

ترجمہ:۔ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت کے سارے لوگ جنت میں جائیں گے، مگر جس نے انکار کردیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا کہ: انکار کون کرتا ہے؟ فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جس نے میری حکم عدولی کی، اس نے انکار کردیا۔‘‘

  1. (۱) قولہ تعالٰی: ﵟ وَإِن يَدۡعُونَ إِلَّا شَيۡطَٰنٗا مَّرِيدٗا ﵞﵟ لَّعَنَهُ ٱللَّهُۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنۡ عِبَادِكَ نَصِيبٗا مَّفۡرُوضٗا ﵞﵟ وَلَأُضِلَّنَّهُمۡ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمۡ وَلَأٓمُرَنَّهُمۡ فَلَيُبَتِّكُنَّ ءَاذَانَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ وَلَأٓمُرَنَّهُمۡ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلۡقَ ٱللَّهِ ﵞﵟ يَعِدُهُمۡ وَيُمَنِّيهِمۡۖ وَمَا يَعِدُهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ إِلَّا غُرُورًا ﵞ سورة النساء ١١٧ و ١٢٠
  2. (۲) قال النووی: وأما الفطرۃ، فقد اختلف فی المراد بھا ھٰھنا ۔۔۔ قالوا: ومعناہ: أنھا من سُنن الأنبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیھم۔ (شرح مسلم للنووی ج:۱ ص:۱۲۸)۔ وفی المرقاۃ: الفطرۃ أی فطرۃ الْإسلام خمس، قال القاضی وغیرہ فسرت الفطرۃ بالسُّنَّۃ القدیمۃ التی اختارھا الأنبیاء واتفقت الشرائع وکأنھا أمر جبلی فطروا علیہ، قال السیوطی: وھٰذا أحسن ما قیل فی تفسیرھا وأجمعہ۔ (مرقاۃ شرح مشکٰوۃ ج:۴ ص:۴۵۵ باب الترجل، طبع بمبئی)۔
  3. (۳) من شبہ نفسہ بالکفار فی اللباس وغیرہ أو بالفساق أو الفجار أو بأھل التصوف والصلحاء الأبرار فھو منھم، أی فی الْإثم والخیر، قال الطیبی: ھٰذا عام فی الخَلق والخُلق والشعار، ولما کان الشعار أظھر فی الشبہ، وذکر فی ھٰذا الباب، قلت: بل الشعار ھو المدار لَا غیر۔ (مرقاۃ شرح مشکٰوۃ ج:۸ ص:۱۵۵ کتاب اللباس)۔
  4. (۴) (وعنہ) أی ابن عباس (قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لعن اللہ) یحتمل الْإخبار والدعاء۔ (مرقاۃ شرح مشکٰوۃ لمُلّا علی القاریٔ ج:۴ ص:۴۶۰، باب الترجل، طبع أصح المطابع بمبئی)۔
  5. (۵) أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یأخذ من لحیتہ من عرضھا وطولھا ھٰذا حدیث غریب۔ (ترمذی ج:۲ ص:۱۰۵)۔
  6. (۶) وکان ابن عمر إذا حجّ أو اعتمر قبض علٰی لحیتہ فما فضل أخذہ۔ (بخاری ج:۲ ص:۸۷۵، باب تقلیم الأظفار)۔
  7. (۷) وأما حدیث أبی ھریرۃ فرواہ ابن أبی شیبۃ أیضًا حدثنا أبو أسامۃ عن شعبۃ عن عمرو ابن أیوب، من ولد جرید عن أبی زرعۃ، قال: کان أبو ھریرۃ یقبض علٰی لحیتہ، فیأخذ ما فضل عن القبضۃ، انتھٰی۔ (نصب الرایۃ ج:۲ ص:۴۵۸)۔
  8. (۸) ولَا یفعل لتطویل اللحیۃ إذا کانت بقدر المسنون وھو القبضۃ، قال فی ھامشہ فی المحیط: إختلف فی إعفاء اللحیۃ قال بعضھم بترکھا حتّٰی تکثر أو القصر سُنّۃ فما زاد علٰی قبضتہ قطعھا۔ (ھدایۃ، کتاب الصوم ج:۱ ص: ۲۲۱)۔
  9. (۹) إمداد الفتاویٰ ج:۴ ص:۲۲۰، طبع دارالعلوم کراچی۔
  10. (۱۰) ویکرہ إمامۃ عبد وأعرابی وفاسق وأعمٰی۔ (قولہ: فاسق) من الفسق وھو الخروج عن الْإستقامۃ، ولعل المراد بہ من یرتکب الکبائر کشارب الخمر، والزانی، وآکل الربا ونحو ذالک ۔۔۔ وأما الفاسق فقد عللوا کراھۃ تقدیمہ بأنہ لَا یھتم لأمر دینہ، وبأن فی تقدیمہ للإمامۃ تعظیمہ، وقد وجب علیھم إھانتہ شرعًا ۔۔۔ بل مشی فی شرح المنیۃ علٰی أن کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم۔ (رد المحتار ج:۱ ص:۵۵۹، ۵۶۰، باب الْإمامۃ)۔
  11. (۱۱) قال تعالٰی: ﵟ وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِ ﵞ یأمر اللہ تعالٰی عبادہ المؤمنین بالمعاونۃ علٰی فعل الخیرات وھو البر، وترک المنکرات وھو التقویٰ، وینھاھم عن التناصر علی الباطل والتعاون علی المآثم والمحارم ۔۔۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الدال علی الخیر کفاعلہ ۔۔۔ ومن دعا إلٰی ضلالۃ کان علیہ من الْإثم مثل آثام من اتبعہ إلٰی یوم القیامۃ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۱۰ طبع دار السلام)۔
  12. (۱۲) من استخف بالقرآن أو بالمسجد أو بنحوہ مما یعظم فی الشرع، کفر۔ (شرح الفقہ الأکبر ص:۱۶۷ فصل فی القرائۃ والصلاۃ)۔ وفی شرح الوھبانیۃ للشرنبلالی: ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح ۔۔۔ وما فیہ خلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (رد المحتار ج:۴ ص:۲۴۷، باب المرتد)۔
  13. (۱۳) عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: خالفوا المشرکین أوفروا اللّحٰی واحفوا الشوارب۔ وفی روایۃ: انھکوا الشوارب واعفوا اللّحٰی۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۳۸۰، باب الترجل، صحیح بخاری ج:۲ ص:۸۷۵، باب تقلیم الأظفار، صحیح مسلم ج:۱ ص:۱۲۹، باب خصال الفطرۃ)۔
  14. (۱۴) عن زید بن أرقم رضی اللہ عنہ أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من لم یأخذ من شاربہ فلیس منّا۔ رواہ أحمد والترمذی والنسائی۔ (مشکوٰۃ ص:۳۸۱، باب الترجل، الفصل الثانی، طبع قدیمی)۔