داڑھی
اکابرینِاُمتنےداڑھیمنڈانےکوگناہِکبیرہشمارکیاہے
سوال:۔
اکابرینِ اُمت میں مولانا اشرف علی تھانویؒ اور مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے اپنی اپنی کتابوں میں داڑھی منڈوانے کو گناہِ کبیرہ کی فہرست میں شامل کیوں نہیں کیا؟
جواب:۔
حضرت تھانویؒ ’’امداد الفتاویٰ‘‘ (ج:۴ ص: ۲۲۳) میں لکھتے ہیں:
’’داڑھی رکھنا واجب اور قبضے سے زائد کٹانا حرام ہے۔‘‘
نوٹ:۔ یہاں ’’قبضے سے زائد کٹانے‘‘ سے مراد یہ ہے کہ جس کی داڑھی قبضے سے زائد ہو اس کو قبضے سے زائد حصے کا کٹانا تو جائز ہے، اور اتنا کٹانا کہ جس کی وجہ سے داڑھی قبضے سے کم رہ جائے، یہ حرام ہے۔
اور صفحہ:۲۲۱ پر لکھتے ہیں:
’’ایک تو داڑھی کا منڈانا یا کٹانا معصیت ہے ہی، مگر اُوپر سے اِصرار کرنا اور مانعین سے معارضہ کرنا، یہ اس سے زیادہ سخت معصیت ہے۔‘‘
اور صفحہ:۲۲۲ پر لکھتے ہیں:
’’حدیث میں جن افعال کو تغیر خلق اللہ، موجبِ لعن فرمایا ہے، داڑھی منڈوانا یا کٹانا بالمشاہدہ اس سے زیادہ تغیر کا اتباع شیطان ہونا اور اتباع شیطان کا موجبِ لعنت و موجبِ خسران و موجبِ وقوع فی الغرور، موجبِ جہنم ہونا منصوص ہے، اب مذمتِ شدیدہ میں کیا شک رہا ہے؟‘‘
ان عبارتوں میں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ داڑھی منڈانے اور کٹانے کو حرام، معصیت، موجبِ لعنت، موجبِ خسران اور موجبِ جہنم فرما رہے ہیں، کیا اس کے بعد بھی آپ کا یہ کہنا دُرست ہے کہ حضرت تھانویؒ نے اس گناہ کو کبیرہ گناہوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا۔؟
مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ آیتِ کریمہ: ﵟ لَا تَبۡدِيلَ لِخَلۡقِ ٱللَّهِ ﵞکی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑا کریں گے، اور یہ اعمالِ فسق میں سے ہے، جیسے داڑھی منڈانا، بدن گدوانا وغیرہ۔‘‘ (معارف القرآن ج:۲ ص:۵۹)
مفتی صاحب کے بقول جب داڑھی منڈانا اعمالِ فسق میں سے ہے، اور داڑھی منڈانے والا فاسق ہے، تو کسی سے پوچھ لیجئے کہ جس گناہ سے آدمی فاسق ہوجائے وہ صغیرہ ہوتا ہے یا کبیرہ۔؟

