بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

داڑھی

داڑھی‌کا‌جھولا‌بنے‌ہوئے‌کارٹون‌سے‌شعائرِ‌اِسلامی‌کی‌توہین

سوال:۔

اس خط کے ساتھ بندہ ایک کارٹون کوپن بھیج رہا ہے جس میں دو آدمیوں کے پاؤں تک داڑھیاں بنائی گئی ہیں اور دُوسری جگہ اس کا جھولا بناکر ایک بچی اس پر جھول رہی ہے۔ یہ کارٹون عام کرنے کے لئے مشہور ٹافیوں کے کارخانے نے ٹافیوں میں لپیٹ دیا ہے، ایک عام مسلمان کے یہ دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ شعائرِ اِسلام کی یہ بے حرمتی اور بے عزّتی اور پھر ایسے ملک میں جہاں ’’اسلام، اسلام‘‘ کہتے تھکتے نہیں۔ بدقسمی سے پاکستانی قانون میں جو گندگی کے ڈھیر یعنی انگریزی قانون کا بدلا ہوا نام ہے، کوئی آرڈی نینس موجود نہیں جو شعائرِ اِسلام کو تحفظ دے سکے، ورنہ اس کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی۔ ہم افسوس کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرسکتے اور اپنا کام صرف لکھنے اور بولنے تک محدود رکھتے ہیں کہ یہ بھی ایمان کا دُوسرا درجہ ہے۔ لہٰذا میرے یہ جذبات قارئین تک پہنچائیں اور اگر کرسکیں تو اس کمپنی کے خلاف کارروائی کریں تاکہ پھر کوئی شعائرِ اِسلام کا اس طرح مذاق نہ اُڑائے۔

جواب:۔

یہ اسلامی شعائر کی صریح بے حرمتی ہے، تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ ایسے ناہنجار شریروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لئے ان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فرض ہے کہ ان کے خلاف انضباطی کارروائی کریں۔ شعائرِ اِسلام کی تضحیک کفر ہے۔(۱) اور ایک اسلامی ملک میں ایسے کفر کی کھلی چھٹی دینا غضبِ اِلٰہی کو دعوت دینا ہے۔

  1. (۱) من أھان الشریعۃ أو المسائل اللتی لَابُد منھا کفر۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۱۷۴ طبع قدیمی)۔ وفیہ أیضًا: من استخف بالقرآن أو بالمسجد أو بنحوھا مما یعظم فی الشرع، کفر۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۱۶۷)۔ یکفر إذا وصف اللہ تعالٰی بما لَا یلیق بہ أو سخر بإسم من أسمائہ أو بأمر من أوامرہ أو أنکر وعدہ ووعیدہ أو جعل لہ شریکًا أو ولدًا أو زوجۃ أو نسبہ إلی الجھل أو العجز أو النقص۔ (عالمگیریۃ ج:۲ ص:۲۵۸، الباب التاسع فی أحکام المرتدین)۔