داڑھی
’’مجھےداڑھیکےنامسےنفرتہے‘‘کہنےوالےکاشرعیحکم
سوال:۔
میں ایک تقریب میں گیا تھا، وہاں ایک لڑکی کے رشتے کی بابت باتیں ہو رہی تھیں، لڑکی کی والدہ نے فرمایا کہ: ’’یہ رشتہ مجھے منظور نہیں ہے، اس لئے کہ لڑکے کے داڑھی ہے۔‘‘ جب یہ کہا گیا کہ لڑکا آفیسر گریڈ کا ہے، تعلیم یافتہ ہے اور داڑھی تو اور بھی اچھی چیز ہے، اس زمانے میں راغب بہ اسلام ہے۔ تو فرمایا کہ: ’’مجھے داڑھی کے نام سے نفرت ہے‘‘ آپ فرمائیں کہ داڑھی کی یہ تضحیک کہاں تک دُرست ہے؟ کیا ایسا کہنے والا گناہگار نہیں ہوا؟ اور اگر ہوا تو اس کا کفارہ کیا ہے اور گناہ کا درجہ کیا ہے؟
جواب:۔
داڑھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے رکھنے کا حکم فرمایا۔(۱) داڑھی منڈے کے لئے ہلاکت کی بددُعا فرمائی اور اس کی شکل دیکھنا گوارا نہیں فرمایا۔(۲) اس لئے داڑھی رکھنا شرعاً واجب ہے اور اس کا منڈانا اور ایک مشت سے کم ہونے کی صورت میں اس کا کاٹنا تمام اَئمہ دِین کے نزدیک حرام ہے۔(۳)
جو مسلمان یہ کہے کہ: ’’مجھے فلاں شرعی حکم سے نفرت ہے‘‘ وہ مسلمان نہیں رہا، کافر مرتد بن جاتا ہے۔(۴) جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل سے نفرت کرے وہ مسلمان کیسے رہ سکتا ہے۔؟ یہ خاتون کسی داڑھی والے کو اپنی لڑکی دے یا نہ دے، مگر اس پر کفر سے توبہ کرنا اور اِیمان کی اور نکاح کی تجدید کرنا لازم ہے۔(۵)
- (۱) عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ أمر بإحفاء الشوارب وإعفاء اللحیۃ، وفی روایۃ: خالفوا المشرکین، أحفوا الشوارب واعفوا اللحٰی۔ (مسلم ج:۱ ص:۱۲۹، بخاری ج:۲ ص:۸۷۵، ترمذی ج:۲ ص:۱۰۵)۔
- (۲) فکرہ النظر إلیھما وقال: ویلکما! من أمرکما بھٰذا؟ قال: أمرنا ربنا، یعنیان کسریٰ۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۴ ص:۲۷۰، حیاۃ الصحابۃ ج:۱ ص:۱۱۵)۔
- (۳) قال ابن عابدین: وأخذ أطراف اللحیۃ والسُّنَّۃ فیھا القبضۃ ۔۔۔ ولذا یحرم علی الرجل قطع لحیۃ۔ (شامی ج:۶ ص:۴۰۷)۔ أیضًا: أو تطویل اللحیۃ إذا کانت بقدر المسنون وھو القبضۃ ۔۔۔ وأما الأخذ منھا وھی دون ذالک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد۔ (شامی ج:۲ ص:۴۱۷، عالمگیریۃ ج:۵ ص:۳۵۸)۔
- (۴) کفر الحنفیۃ بألفاظ کثیرۃ وأفعال تصدر من المتھتکین لدلَالتھا علی الْإستخفاف بالدِّین ۔۔۔ بل بالمواظبۃ علٰی ترک سُنّۃ إستخفافًا بھا بسبب انھا انما فعلھا النبی صلی اللہ علیہ وسلم زیادۃ أو إستقباحھا ۔۔۔إلخ۔ (المسایرۃ مع شرحھا المسامرۃ ص:۳۲۷)۔
- (۵) وفی شرح الوھبانیۃ للشرنبلالی: ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح، وأولَادہ أولَاد الزنا، وما فیہ خلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ (أی تجدید الْإسلام) وتجدید النکاح۔ (فتاویٰ شامی ج:۴ ص:۲۴۷، مطلب جملۃ من لَا یقتل إذا ارتد)۔

