بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

داڑھی

’’داڑھی‌تو‌شیطان‌کی‌بھی‌ہے‘‘‌کہنے‌والا‌کیا‌مسلمان‌رہتا‌ہے؟

سوال:۔

ہماری مسجد میں مستقل پانچ نمازوں کے لئے اِمام صاحب ضعیف العمر ہونے کی وجہ سے نہیں آسکتے، یعنی فجر اور عشاء میں غیرحاضر ہوتے ہیں۔ ان نمازوں میں انتظامیہ کے صدر صاحب اپنی مرضی سے کسی بھی شخص کو نماز پڑھانے کی دعوت دیتے ہیں، خاص کر فجر میں۔ جبکہ وہ خود بھی بغیر داڑھی کے ہیں اور کبھی خود پڑھاتے ہیں، اَذان و اِقامت بھی خود کرتے ہیں، اکثر و بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ جن حضرات کو وہ نماز پڑھانے کی دعوت دیتے ہیں یا تو وہ بغیر داڑھی کے ہوتے ہیں یا پھر داڑھی کتروانے والے صاحب ہوتے ہیں۔ جس پر میں نے اعتراض کیا کہ داڑھی کترنے، یعنی مشت سے کم یا بغیر داڑھے والے دونوں کے پیچھے نمازنہ پڑھی جائے جبکہ باشرع سنت کے مطابق داڑھی والے موجود ہیں اور دِین کا علم بھی ہے تو پھر کوئی گنجائش نہیں۔ جن صاحب کو نماز پڑھانے سے منع کیا تھا کہ آپ کی داڑھی کتری ہوئی ہے، نماز پڑھتے وقت آپ کے ٹخنے بھی ننگے نہیں ہوتے، آپ نماز پڑھانے کے اہل نہیں تو ان صاحب نے جتنی داڑھی تھی وہ بھی یہ کہتے ہوئے کٹوادی کہ مجھے پہلے سے ہی داڑھی والوں سے نفرت ہے اور اعلاناً داڑھی کٹوائی، صاف کردی۔ اس شخص کے لئے اسلام میں کیا مقام ہے؟ اور یہ کہنا کہ داڑھی شیطان کی بھی ہے اور تم بھی شیطان ہو، یعنی داڑھی والے شخص سے کہنا، ایسے شخص کے بارے میں شریعت کیا حکم دیتی ہے؟ اور اسی تنازع کی وجہ سے جماعت ہورہی ہوتی ہے اور کچھ لوگ صف میں کھڑے ہوکر جب اِمام تکبیر کہتا ہے الگ ہوجاتے ہیں، آیا ان کا الگ نماز پڑھنا دُرست ہے؟ نماز ہوجاتی ہے؟

جواب:۔

اس سوال کے جواب میں چند اُمور عرض کرتا ہوں۔

اوّل:۔ داڑھی منڈانا اور کترانا (جبکہ ایک مشت سے کم ہو) تمام فقہاء کے نزدیک حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، اور داڑھی منڈانے اور کترانے والا فاسق اور گناہگار ہے۔(۱)

دوم:۔ فاسق کی اَذان و اِقامت اور اِمامت مکروہِ تحریمی ہے، یہ مسئلہ فقہِ حنفی کی تقریباً تمام کتابوں میں درج ہے۔(۲)

سوم:۔ ان صاحب کا ضد میں آکر داڑھی صاف کرادینا اور یہ کہنا کہ: ’’مجھے پہلے ہی داڑھی والوں سے نفرت ہے‘‘ یا یہ کہ: ’’داڑھی تو شیطان کی بھی ہے‘‘ نہایت المناک بات ہے۔ یہ شیطان کی طرف سے چوکا ہے، شیطان کسی مسلمان کے صرف گناہگار رہنے پر راضی نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ مسلمان اپنے کئے پر ندامت کے آنسو بہاکر سارے گناہ معاف کرالیتا ہے، اس لئے وہ کوشش کرتا ہے کہ اسے گناہ کی سطح سے کھینچ کر کفر کی حد میں داخل کردے، وہ گناہگار کو چوکا دے کر اُبھارتا ہے اور اس کے منہ سے کلمۂ کفر نکلواتا ہے۔(۳)

ذرا غور کیجئے! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمت کو ایک حکم فرماتے ہیں کہ داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں صاف کراؤ۔(۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم سن کر اگر کوئی شخص کہے کہ: ’’مجھے تو داڑھی والوں سے نفرت ہے‘‘ یا یہ کہے کہ: ’’داڑھی تو شیطان کی بھی ہے‘‘ کیا ایسا کہنے والا مسلمان ہے؟ یا کوئی مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا جواب دے سکتا ہے؟ داڑھی والوں میں تو ایک لاکھ بیس ہزار (کم و بیش) انبیاء علیہم السلام بھی شامل ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور اولیائے عظامؒ بھی ان میں شامل ہیں، کیا ان سب سے نفرت رکھنے والا مسلمان ہی رہے گا؟

میں جانتا ہوں کہ ان صاحب کا مقصد نہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو رَدّ کرنا ہوگا نہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام، صحابہ کرامؓ اور اولیائے کرامؒ سے نفرت کا اظہار کرنا ہوگا، بلکہ یہ ایک ایسا لفظ ہے جو غصّے میں اس کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا، یا زیادہ صحیح لفظوں میں، شیطان نے اشتعال دِلاکر اس کے منہ سے نکلوادیا، لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ الفاظ کتنے سنگین ہیں اور ان کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ اس لئے میں ان صاحب سے گزارش کروں گا کہ وہ ان الفاظ سے توبہ کریں اور چونکہ ان الفاظ سے اندیشۂ کفر ہے، اس لئے ان صاحب کو چاہئے کہ اپنے ایمان اور نکاح کی بھی احتیاطاً تجدید کرلیں، فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

’’جن الفاظ کے کفر ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہو ان کے قائل کو بطورِ اِحتیاط تجدیدِ نکاح اور توبہ کا اور اپنے الفاظ واپس لینے کا حکم کیا جائے گا۔‘‘(۵)

چہارم:۔ آپ کا یہ مسئلہ بتانا تو صحیح تھا، لیکن آپ نے مسئلہ بتاتے ہوئے انداز ایسا اختیار کیا کہ ان صاحب نے غصّے اور اشتعال میں آکر کلمۂ کفر منہ سے نکال دیا، گویا آپ نے اس کو گناہ سے کفر کی طرف دھکیل دیا، یہ دعوت، حکمت کے خلاف تھی، اس لئے آپ کو بھی اس پر اِستغفار کرنا چاہئے اور اپنے مسلمان بھائی کی اصلاح کے لئے دُعا کرنی چاہئے، اس کو اِشتعال دِلاکر اس کے مقابلے پر شیطان کی مدد نہیں کرنی چاہئے۔

  1. (۱) قال ابن عابدین: نقلًا عن الصحیحین عن ابن عمر عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’أحفوا الشوارب وأعفوا اللحیۃ‘‘ قال لأنہ صح عن ابن عمر راوی ھٰذا الحدیث أنہ کان یأخذ الفاضل عن القبضۃ ۔۔۔ وعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم یحمل الْإعفار علٰی إعفائھا عن أن یأخذ غالبھا أو کلھا کما ھو فعل مجوس الأعاجم من حلق لحاھم۔ ویؤیدہ ما فی مسلم عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم: جزوا الشوارب وأعفوا اللحٰی خالفوا المجوس۔ (شامی ج:۲ ص:۴۱۸، کتاب الحظر والْإباحۃ)۔ أیضًا: تطویل اللحیۃ إذا کانت بقدر المسنون وھو القبضۃ ۔۔۔ وأما الأخذ منھا وھی دون ذالک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۴۱۷، کتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی البیع)۔
  2. (۲) وأما الفاسق فقد عللوا کراھۃ تقدیمہ بأنہ لَا یھتم لأمر دینہ، وبأن فی تقدیمہ للإمامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم إھانتہ شرعًا۔ (فتاویٰ شامی ج:۱ ص:۵۶۰ باب الْإمامۃ، طبع سعید)۔
  3. (۳) رجل قال لآخر: إحلق رأسک، وقلم أظفارک فإن ھٰذہ سُنَّۃ، فقال: لَا أفعل وإن کان سُنَّۃ، فھٰذا کفر، لأنہ قال علٰی سبیل الْإنکار والرد، وکذا فی سائر السُّنن خصوصًا فی سُنَّۃ ھی معروفۃ وثبوتھا بالتواتر۔ مجمع الأنھر ج:۱ ص:۶۹۲ کتاب السیر، باب المرتد، طبع إحیاء التراث العربی، أیضًا: شرح فقہ الأکبر ص:۱۷۴)۔
  4. (۴) عن ابن عمر رضی اللہ عنہما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: احفوا الشوارب واعفوا اللحی۔ وفی روایۃ: أنہ أمر بإحفاء الشوارب وإعفاء اللحیۃ۔ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۱۲۹)۔ وعن ابن عمر رضی اللہ عنھما قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: خالفوا المشرکین، أوفروا اللحٰی واحفوا الشوارب۔ (مشکٰوۃ ص:۳۸۰)۔ عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: جزّوا الشوارب وارخوا اللّحٰی خالفوا المجوس۔ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۱۲۹)۔ عن زید بن أرقم رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من لم یأخذ من شاربہ فلیس منّا۔ (مشکٰوۃ ص:۳۸۱)۔
  5. (۵) قال ابن عابدین: نعم سیذکر الشارح أن ما یکون کفرًا إتفاقًا یبطل العمل والنکاح، وما فیہ خلاف یؤمر بالْإستغفار والتوبۃ وتجدید النکاح۔ (شامی ج:۴ ص:۲۳۰، أیضًا: الفتاوی البزازیۃ علٰی ھامش فتاوی العالمگیریۃ ج:۶ ص:۳۲۱)۔