ناموںسےمتعلق
غلطنامسےپکارنا
سوال:۔
اکثر لوگوں کے نام عبدالصمد، عبدالحمید، عبدالقہار، عبدالرحیم، عبدالرحمن وغیرہ رکھے جاتے ہیں جبکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ لوگ ان کو صرف صمد، حمید، قہار اور رحیم وغیرہ کہہ کر پکارتے ہیں، پورا نام نہیں لیتے، حالانکہ یہ انتہائی سخت گناہ ہے، کیونکہ یہ تمام نام اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں، کوئی انسان (نعوذ باللہ) صمد یعنی بے نیاز، حمید یعنی جس کی حمد کی جائے، اور قہار، رحمن، غفار کیونکر ہوسکتا ہے؟ ان ناموں کی متحمل تو صرف اور صرف اللہ کی ذاتِ عالی ہے۔ مہربانی فرماکر اس سلسلے میں کچھ روشنی ڈالیں کہ مسلمانوں کو اس قسم کے نام رکھنے چاہئیں یا نہیں؟
جواب:۔
نام تو بہت اچھے ہیں اور ضرور رکھنا چاہئیں، مگر جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ غلط نام سے پکارنا دُرست نہیں بلکہ گناہ ہے، اس لئے پورا نام لینا چاہئے۔(۱)
- (۱) قال تعالٰی: ﵟ وَلَا تَلۡمِزُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ وَلَا تَنَابَزُواْ بِٱلۡأَلۡقَٰبِۖ بِئۡسَ ٱلِٱسۡمُ ٱلۡفُسُوقُ بَعۡدَ ٱلۡإِيمَٰنِۚ وَمَن لَّمۡ يَتُبۡ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ﵞ سورة الحجرات ١١۔ قال العلامۃ ابن عابدین: حیث ینادون من إسمہ عبدالرحیم، عبدالکریم أو عبدالعزیز مثلًا فیقولون: رحیم، کریم وعزیز بتشدید یاء التصغیر، ومن إسمہ عبدالقادر قویدر وھٰذا مع قصدہ کفر۔ (ردالمحتار ج:۶ ص:۴۱۷، کتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی البیع)۔

