بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناموں‌سے‌متعلق

لقب‌اور‌تخلص‌رکھنا‌شرعاً‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

ایک حدیث نظر سے گزری جو حسب و نسب کے بارے میں کچھ اس طرح ہے جیسے کوئی شخص ’’شیخ‘‘ ’’صدیقی‘‘ نہیں، مگر اپنے آپ کو ’’صدیقی‘‘ لکھے، یا ’’قریشی‘‘ نہیں ہے، اپنے آپ کو ’’قریشی‘‘ کہے یا نسباً ’’انصاری‘‘ نہیں ہے اور اپنے آپ کو ’’انصاری‘‘ کہے، یا ’’سیّد‘‘ نہیں ہے، ’’سیّد‘‘ کہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص اپنے باپ کی نسبت چھوڑ کر کسی دُوسرے کی طرف اپنی نسبت کرے تو جنت اس پر حرام ہے۔ (مسلم، بخاری، ابوداؤد) مندرجہ بالا حدیث کی روشنی میں اگر شاعر، مصنف، آرٹسٹ، ادیب اور دُوسرے مختلف حضرات شوقیہ اپنا تخلص: پروانہ، ناز، آسی، ناشا وغیرہ رکھ لیتے ہیں کیا یہ بھی اسی زُمرے میں آتے ہیں؟

جواب:۔

یہ حدیث نسب تبدیل کرنے سے متعلق ہے، کسی لقب یا تخلص کے اختیار کرنے کی (بشرطیکہ وہ بذاتِ خود غلط نہ ہو) اس میں ممانعت نہیں۔