بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناموں‌سے‌متعلق

اپنے‌نام‌کے‌ساتھ‌’’صدیقی‘‘‌یا‌’’عثمانی‘‘‌بطور‌تخلص‌رکھنا

سوال:۔

اگر کوئی شخص اپنے نام کے ساتھ تخلص ’’صدیقی‘‘ یا ’’فاروقی‘‘، ’’عثمانی‘‘ یا ’’علوی‘‘ شجرۂ نسب کے حساب سے نہیں، عقیدت و محبت کی وجہ سے ملاتا ہے، مثلاً ’’غلام سروَر صدیقی‘‘ نام کے ساتھ ملانا جائز ہے یا نہیں؟ عقیدت و محبت کی وجہ سے۔

جواب:۔

عقیدت و محبت کے اظہار کے لئے کسی بزرگ کی طرف نسبت کرنے کا تو مضائقہ نہیں، لیکن ’’صدیقی‘‘ یا ’’فاروقی‘‘ وغیرہ کہلانے میں تلبیس و تدلیس پائی جاتی ہے، سننے والے یہی سمجھیں گے کہ حضرت کو ان بزرگوں سے نسبی تعلق ہے اور غلط نسب جتانا حرام ہے، اس لئے یہ بھی دُرست نہ ہوگا۔(۱)

  1. (۱) الکبیرۃ الثانیۃ والثالثۃ والتسعون بعد المأئتین، تبرؤ الْإنسان من نسبہ أو من والدہ وانتسابہ إلٰی غیر أبیہ مع علمہ ببطلان ذالک، أخرج الشیخان وأبوداوٗد عن سعد بن أبی وقاص رضی اللہ عنہ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من ادعٰی إلٰی غیر أبیہ وھو یعلم أنہ غیر أبیہ فالجنّۃ علیہ حرام۔ (الزواجر عن اقتراف الکبائر ج:۲ ص:۶۲، طبع دار المعرفۃ، بیروت، بخاری ج:۲ ص:۶۱۹، باب غزوۃ الطائف، مسلم ج:۱ ص:۵۷، باب بیان حال إیمان من رغب ۔۔۔إلخ)۔