ناموںسےمتعلق
’’ابوالقاسم‘‘کنیترکھنا
سوال:۔
ہمارے شہر میاں چنوں میں ایک شخص ہے جس کا نام صوفی محمد بشیر ہے، وہ عطریات کا کام کرتا ہے، اس نے ایک مدرسہ بھی بنایا ہوا ہے، اس نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام ’’اسرارِ اِبراہیمیہ‘‘ ہے، اس کتاب پر انہوں نے اپنی کنیت ’’ابوالقاسم‘‘ لکھی ہے، یعنی بمعہ نام کے یوں لکھا ہے: ’’ابو القاسم صوفی محمد بشیر‘‘۔ ان کے مدرسہ کی جانب سے جو اِشتہار نکلتا ہے اس پر کنیت ’’ابو القاسم‘‘ لکھا ہوتا ہے، اور میں نے سنا ہے کہ ’’ابو القاسم‘‘ کنیت صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے، کوئی اپنی کنیت ’’ابو القاسم‘‘ نہیں رکھ سکتا۔ برائے مہربانی احادیث سے ثابت کریں کہ ’’ابو القاسم‘‘ کنیت صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے یا نہیں؟ حضور کے علاوہ اور کوئی بھی اپنی کنیت ’’ابو القاسم‘‘ رکھ سکتا ہے؟
جواب:۔
مشکوٰۃ شریف میں ص:۴۰۷ کے حاشیہ میں ’’مرقاۃ‘‘ سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت پر ’’ابو القاسم‘‘ کی کنیت رکھنے کی ممانعت جمہور سلف اور فقہائے امصار کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات تک محدود تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس کی اجازت ہے۔(۱) البتہ اِمام شافعیؒ اور اہلِ ظاہر اب بھی ممانعت کے قائل ہیں۔(۲)
- (۱) وثانیھما أن ھٰذا الحکم کان فی بدء الأمر ثم نسخ فیباح التکنّی الیوم بأبی القاسم لکل أحد سواء فیہ من إسمہ محمد أو غیرہ وعلتہ التباس خطابہ بخطاب غیرہ ۔۔۔ وھی الْإشتباہ وھو متعیّن فی حال حیاتہ صلی اللہ علیہ وسلم قال وھٰذا مذھب مالک وبہ قال جمھور السلف وفقھاء الأمصار۔ (مشکٰوۃ ج:۲ ص:۴۰۷ حاشیۃ۵۔ أیضًا فی مرقاۃ المفاتیح شرح مشکٰوۃ المصابیح، باب الأسامی ج:۴ ص:۵۹۷، طبع بمبئی)۔
- (۲) أحدھا أنہ لَا یحل التکنّی بأبی القاسم أصلًا سواء کان إسمہ محمدًا أو أحمد أو لم یکن لہ إسم وھو مذھب الشافعی وأھل الظاھر۔ (ایضًا)۔

