ناموںسےمتعلق
کیاکسیشخصکو’’وکیل‘‘کہناغلطہے؟
سوال:۔
ایک صاحب فرماتے ہیں کہ: ’’پڑوسی ملک بھارت میں وکیل کو ’’بھاڑو‘‘ اور بیرسٹر کو ’’مہابھاڑو‘‘ کہا جاتا ہے، لہٰذا ہم تمہیں بھی یہی کہیں گے۔‘‘ عرض کیا کہ: ’’وہاں کی بات چھوڑیں، وہاں تو بت پرستی بھی ہوتی ہے، جو ہمارے مذہب میں ناجائز ہے، جو الفاظ نازیبا آپ استعمال فرما رہے ہیں وہ تو ہمارے ہاں بہت ہی بُرے معنی میں لئے جاتے ہیں، یعنی فاحشہ عورتوں کی ناجائز کمائی کھانے والے لوگ۔ ہمارے ہاں تو نکاح کے وقت دُولہا اور دُلہن کے بھی وکیل ہوتے ہیں، آیتِ قرآنی میں وکیل اس طرح آیا ہے: ﵟ حَسۡبُنَا ٱللَّهُ وَنِعۡمَ ٱلۡوَكِيلُ ﵞاور ہمیں اس کی پیروی کرتے ہوئے ایک بہتر مددگار بننے کی پوری کوشش کرنی چاہئے‘‘ تو وہ صاحب میرے بارے میں فرماتے ہیں: ’’تم کفر کے مرتکب ہو رہے ہو، جو صفت خدا نے اپنے لئے رکھی ہے اسے خود سے منسوب کرتے ہو‘‘ (واضح رہے کہ میرا ہرگز یہ مطلب نہیں، میرا مطلب خدا کی پیروی ہے)۔ صاحب! اگر خدا اور اس کے فرشتے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود بھیجیں اور ایمان والوں کو بھی اس کا حکم ہو اور ہم بھی دُرود بھیجیں تو وہ کام جو اللہ پاک نے کیا، وہی ہم نے بھی کیا مگر اِطاعتِ رَبی میں کیا، نہ کہ توبہ توبہ نعوذ باللہ کوئی اللہ میاں کی ہمسری میں؟ (اللہ معاف فرمائے) پھر اگر ﵟ حَسۡبُنَا ٱللَّهُ وَنِعۡمَ ٱلۡوَكِيلُ ﵞکی پیروی میں ہم بہتر وکیل اور بہتر مددگار بننے کی کوشش کریں تو پناہِ خدا! کیا واقعی ان حضرت کی رائے میرے لئے صحیح ہے؟ مجھے کس طرح توبہ کرنی چاہئے اور مجھے تو اپنی یہ بات غلط نہیں لگتی کہ جہاں اِلحاد، شرک اور بت پرستی ہوتی ہو، ہمیں وہاں کی بات نہیں ماننی چاہئے۔
جواب:۔
اللہ تعالیٰ کے پاک نام دو طرح کے ہیں، ایک وہ جن کا اطلاق کسی دُوسرے پر جائز نہیں۔(۱) اور دُوسرے وہ جن کا اطلاق کسی دُوسرے پر بھی جائز ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ کا نام ’’الرؤف‘‘ بھی ہے، ’’الرحیم‘‘ بھی ہے، حالانکہ قرآنِ کریم میں یہ صفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی ذکر کی گئی ہیں،(۲) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ایک نام ’’الوکیل‘‘ بھی ہے، اس کا استعمال دُوسروں کے لئے بھی جائز ہے، اگرچہ دونوں جگہ کے مفہوم میں وہی فرق ہے جو خالق اور مخلوق کے درمیان ہے، پس آپ کا موقف صحیح ہے اور ان صاحب کا موقف غلط ہے۔
- (۱) وھو مع ذالک إسم مختص باللہ تعالٰی لَا یسمّٰی بہ غیرہ۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۱ ص:۹، باب القول فی انھا من فاتحۃ الکتاب، طبع سھیل اکیڈمی)۔
- (۲) مثلاً: ﵟ لَقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُولٞ مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ عَزِيزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيصٌ عَلَيۡكُم بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ رَءُوفٞ رَّحِيمٞ ﵞ سورة التوبة ١٢٨۔

