بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناموں‌سے‌متعلق

’’سیّد‘‘‌کا‌مصداق‌کون‌ہے؟

سوال:۔

جنابِ عالی! میں آپ کا اسلامی صفحہ پابندی سے پڑھتا ہوں۔ مسائل اور ان کا حل پڑھ کر میری دِینی معلومات میں بڑا اضافہ ہوا۔ میرے ذہن میں بھی ایک سوال ہے، جس کا حل چاہتا ہوں۔ اُمید ہے کہ جناب تسلی بخش جواب سے تمام قارئین کی معلومات میں اضافہ فرمائیں گے۔ اسلام سے قبل ہندوستان میں بت پرست قوم آباد تھی، جو کہ اپنے عقائد کے اعتبار سے چار ذاتوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ۱-برہمن، ۲-چھتری، ۳-ویش، ۴-شودر۔ پھر ان میں بھی درجہ بندی تھی، کوئی اُونچا، کوئی نیچا، اس بنا پر برہمن کے نام کے ساتھ اس کی شناخت کا کوئی لفظ شامل ہوتا ہے، جیسے: ’’دوبے، تربیدی، چوبے‘‘ وغیرہ، جس وقت ہندوستان میں اسلام کا ظہور ہوا، اور لوگ انفرادی اور اجتماعی حیثیت سے مسلمان ہونے لگے، مگر اسلام قبول کرنے کے باوجود ان میں ہندوانہ ذہنیت باقی رہی جو کہ آج تک مسلمان کسی نہ کسی شکل میں ہندوؤں کے رسم و رواج کو اپنائے ہوئے ہیں۔ چنانچہ ہندوؤں کی طرح مسلمانوں نے بھی چار ذاتیں بنالیں۔ ’’برہمن‘‘ کے مقابلے میں ’’سیّد‘‘، ’’چھتری‘‘ کے مقابلے میں ’’پٹھان‘‘، اور بقیہ لوگ کوئی ’’شیخ‘‘ ہے، کوئی ’’مغل‘‘۔ ’’سیّد‘‘ کے دو طبقے ہیں، سنی سیّد، شیعہ سیّد۔ پھر ان میں مزید درجہ بندی ہے جو کہ ہر ’’سیّد‘‘ اپنے نام کے ساتھ شناخت کے لئے کوئی لفظ استعمال کرتا ہے۔ جیسے: ’’صدیقی، فاروقی، عثمانی، علوی، جعفری‘‘ وغیرہ۔ ایک صاحب نے مجھے بتایا کہ: ’’میرا تعلق ایک ایسے گروہ سے ہے جو ہندوستان میں شراب کی تجارت کرتا تھا، سب لوگ اجتماعی حیثیت سے مسلمان ہوگئے، بعد کو خیال آیا کہ ہم کون سے مسلمان ہیں؟ سب نے فیصلہ کیا کہ ہم لوگ صدقِ دِل سے مسلمان ہوئے ہیں، اس لئے ہم سب ’’صدیقی‘‘ مسلمان ہیں، اسی وجہ سے میں اپنے کو ’’صدیقی‘‘ لکھتا ہوں۔‘‘ اب میں اصل مدعا بیان کرتا ہوں، وہ یہ ہے کہ: ایک موقع پر لفظِ ’’سیّد‘‘ پر بات ہو رہی تھی تو میرے ایک دوست (جو کہ اسکول ماسٹر ہیں) نے کہا: ’’ایوب صاحب! آپ بھی سیّد ہیں‘‘ میں نے کہا: ’’میں تو سیّد نہیں ہوں‘‘ تو انہوں نے ایک موٹی سی کتاب لاکر مجھ کو دی اور کہا کہ اس کو پڑھئے۔ یہ کتاب کراچی کے ایک صاحب نے لکھی ہے اور غالباً وہ دو مرتبہ چھپ چکی ہے، اس میں لفظ ’’سیّد‘‘ پر بڑی تحقیق کی گئی ہے، اس میں بتایا ہے کہ لفظِ ’’سیّد‘‘ نہ تو خاندانی ہے اور نہ نسلی، یہ لفظ اسلام سے قبل عرب میں استعمال ہوتا تھا، ’’سیّد‘‘ کے معنی سردار کے ہیں، خاندان کے سربراہ کو ’’سیّد‘‘ کہتے تھے، یہود و نصاریٰ سب ہی اس لفظ کو استعمال کرتے تھے، ہر ایک زبان میں کوئی نہ کوئی لفظ عزّت و احترام کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ انگریزی میں ’’مسٹر‘‘ اور ہندی میں ’’شری مان‘‘، اُردو میں ’’جنابِ عالی‘‘ و ’’محترم‘‘۔ بطور ثبوت انہوں نے ایسے مضامین اور کتابیں دِکھائیں جہاں لفظِ ’’سیّد‘‘ استعمال ہوا ہے، کتابوں کے نام و مصنّفین کے ناموں کے ساتھ کہیں لفظِ ’’سیّد‘‘ استعمال ہوا ہے، کسی جگہ لفظِ ’’سیّد‘‘ احترام و بزرگی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ’’سیّد خاندان‘‘ اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ میں نے سنا ہے کہ لوگ اپنی لڑکیوں کی شادی نہیں کرتے ہیں کہ ان کو کوئی اصل ’’سیّد‘‘ لڑکا نہیں ملتا ہے۔ اب مندرجہ بالا وضاحت کے بعد میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ اسلامی اَحکامات کی روشنی میں:

اوّل:۔ جبکہ لفظِ ’’سیّد‘‘ نہ خاندانی ہے، نہ نسلی تو ہر مسلمان جو کہ اس کا مستحق ہے، اس کے نام کے ساتھ لفظِ ’’سیّد‘‘ استعمال ہوسکتا ہے یا نہیں؟ جبکہ ہر مسلمان ایک دُوسرے کا بھائی ہے اور اُونچ نیچ کی قرآن نے نفی کردی ہے۔

دوم:۔ جو لوگ اپنی تعریف خود کرتے ہیں، یعنی ’’سیّد‘‘ کہہ کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ میں سردار ہوں، عزّت دار ہوں اور قابلِ اِحترام ہوں، بزرگ ہوں، خواہ اس کا کردار کچھ ہی ہو، کیا یہ دُرست ہے؟ اس کے لئے کیا حکم ہے؟

سوم:۔ جو لوگ ’’سیّد‘‘ کا بہانہ کرکے لڑکیوں کی شادی نہیں کرتے، ایسے لوگوں کے لئے کیا حکم ہے؟

جواب:۔

آپ کے سوال میں چند اُمور قابلِ تحقیق ہیں۔

اوّل:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہر مسلمان کا جزوِ اِیمان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تمام اہلِ ایمان کے لئے سب سے بڑھ کر محبوب و محترم ہے، جیسا کہ ارشادِ ربانی:

ﵟ ٱلنَّبِيُّ أَوۡلَىٰ بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ مِنۡ أَنفُسِهِمۡۖ وَأَزۡوَٰجُهُۥٓ أُمَّهَٰتُهُمۡ ﵞالأحزاب:٦

اور حدیث:

’’لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ‘‘ (صحیح البخاری ج:۱ ص:۷، کتاب الْإیمان، مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۲، کتاب الْإیمان، الفصل الأوّل)

سے واضح ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا لازمی نتیجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلقین سے محبت ہے، جس درجے کا تعلق ہوگا، اسی درجے کی محبت بھی ہوگی۔

دوم:۔ ہر شخص کو طبعاً اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آل و اولاد سے محبت رکھنا بھی اہلِ ایمان کے لئے تقاضائے ایمان ہے، اور متعدّد نصوص میں اس کا حکم بھی ہے۔(۱)

سوم:۔ جس طرح بادشاہ کی اولاد شہزادے شہزادیاں کہلاتے ہیں، اسی طرح سیّدالرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کو ’’سیّد‘‘ کہا جاتا ہے، اور یہ لفظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سبطینِ کریمین رضی اللہ عنہما کے لئے خود استعمال فرمایا ہے۔ چنانچہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ’’ابنی ھٰذا سیّد‘‘،(۲) اور حضراتِ حسنین رضی اللہ عنہما کے حق میں فرمایا: ’’سَیِّدَا شَبَابِ اَہْلِ الْجَنَّۃِ‘‘۔ (۳) اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لفظ نہ بھی استعمال فرمایا ہوتا تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کو اپنا آقا اور سردار سمجھنا ہمارا فرض تھا کہ آقا کی اولاد بھی آقا کہلاتی ہے، یہی معنی ’’سیّد‘‘ کے ہیں۔

چہارم:۔ کسی شخص کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں پیدا ہونا ایک غیراختیاری فضیلت ہے، جو لائقِ شکر تو بلاشبہ ہے مگر لائقِ فخر نہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب اور نسبت کی ذمہ داریاں بھی بہت نازک ہیں، اولاد اپنے باپ کی جانشین اسی وقت کہلاتی ہے جبکہ اس کے نقشِ قدم پر ہو۔ جو شخص شہزادہ ہوکر چوہڑوں والے کام کرے، وہ چوہڑوں سے بدتر سمجھا جاتا ہے، بلکہ اس کے نسب میں بھی شبہ ہوجاتا ہے کہ اس کا نسب واقعتا بادشاہ سے ثابت بھی ہے یا نہیں؟ اسی طرح جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں پیدا ہوکر گندے عقائد، گندے اعمال اور گندے اخلاق میں مبتلا ہوتے ہیں ان کی حالت زیادہ خطرناک ہے، اور ان کے بارے میں اندیشہ ہے کہ پسرِ نوح کی طرح ان کے حق میں بھی ﵟ إِنَّهُۥ لَيۡسَ مِنۡ أَهۡلِكَۖ إِنَّهُۥ عَمَلٌ غَيۡرُ صَٰلِحٖ ﵞهود:٤٦نہ فرمادیا جائے، چنانچہ ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا:

’’وَاَنْتُمْ اَلَا تَسْمَعُوْنَ ﵟ إِنۡ أَوۡلِيَآؤُهُۥٓ إِلَّا ٱلۡمُتَّقُونَ ﵞالأنفال:٣٤فَاِنْ کُنْتُمْ اُولٰٓئِکَ فَذَاکَ وَاِلَّا فَانْظُرُوْا یَاْتِی النَّاسُ بِالْاَعْمَالِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَتَاْتُوْنَ بِالْاَثْقَالِ فَنُعْرِضُ عَنْکُمْ۔ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ فَقَالَ: یَا اَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ قُرَیْشًا اَہْلُ اَمَانَۃٍ فَمَنْ بَغَاہُمُ الْعَوَاثِرَ اَکَبَّہُ اللہُ بِمَنْخَرَیْہِ، قَالَھَا ثَلَاثًا۔‘‘ (مجمع الزوائد ج:۱۰ ص:۲۶)

ترجمہ:۔ ’’کیا تم یہ نہیں سن رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے دوست صرف متقی اور پرہیزگار لوگ ہیں، پس اگر تم بھی متقی اور پرہیزگار ہو تب تو ٹھیک ہے، ورنہ دیکھو! ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن دُوسرے لوگ تو اعمال لے کر آئیں اور تم بوجھ لادکر آؤ، جس کے نتیجے میں ہم تم سے منہ موڑ لیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اُٹھاکر فرمایا: لوگو! بے شک قریش اہلِ امانت ہیں، پس جو شخص ان سے خیانت کرے گا اور ان کی لغزشیں تلاش کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو نتھنوں کے بل اوندھا کردیں گے۔‘‘

پس سیّدوں کو اپنے عقائد، اعمال اور اخلاق و اَحوال کا جائزہ لے کر دیکھنا چاہئے کہ وہ اپنے جدِ اَمجد سیّد الکائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے کس قدر مناسبت رکھتے ہیں؟ نصاریٰ کی شکل و صورت اور وضع و قطع اپناکر اور بدکرداروں اور بدقماشوں کے اخلاق و اعمال اختیار کرکے ’’سیّد‘‘ کہلانا لائقِ شرم ہے۔

پنجم:۔ یہ گفتگو تو ان حضرات کے بارے میں ہے جو صحیح النسب ’’سیّد‘‘ ہیں، لیکن اس دور میں بہت سے جعلی سیّد بنے ہوئے ہیں۔ امیرِ شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے ایک ایسے ہی سیّد کے بارے میں مزاحاً فرمایا تھا: ’’بھئی! ہم تو قدیم سے سیّد چلے آتے ہیں، ہمارے سیّد ہونے میں تو شبہ ہوسکتا ہے کہ خدا جانے سیّد ہیں بھی یا نہیں، مگر فلاں صاحب کے سیّد ہونے میں کوئی شبہ نہیں، کیونکہ وہ تو میری آنکھوں کے سامنے سیّد بنا ہے۔‘‘

یہ جعلی سیّد کئی جرائم کے مرتکب ہیں، اوّل: اپنے نسب کا تبدیل کرنا، جس پر دوزخ کی وعید ہے،(۴) حدیث میں ہے:

’’مَنْ ادَّعٰی اِلٰی غَیْرِ اَبِیْہِ ۔۔۔ فَعَلَیْہِ لَعْنَةُ اللہِ وَالْمَلٰٓئِکَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ، لَا یُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ وَّلَا عَدْلٌ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۲۳۹)

ترجمہ:۔ ’’جس نے اپنا نسب تبدیل کیا ۔۔۔ اس پر اللہ کی لعنت، فرشتوں کی لعنت اور تمام انسانوں کی لعنت، اس کا نہ فرض قبول ہوگا نہ نفل۔‘‘

ان لوگوں کا دُوسرا جرم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف محض جھوٹی نسبت کرنا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی نسبت کرنا بدترین گناہ اور ذلیل ترین حرکت ہے۔ تیسرے ان لوگوں کا مقصد محض جھوٹا فخر ہے اور فخر و تعلّی، خالق و مخلوق دونوں کی نظر میں رذالت اور کمینگی کی علامت ہے۔ چوتھے یہ لوگ اپنے رذیل اخلاق و اعمال کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذُرّیتِ طیبہ کے لئے ننگ و عار اور بدنامی کا باعث بنتے ہیں اور لوگ ان کو دیکھ کر یوں سمجھتے ہیں کہ سیّد (نعوذ باللہ) ایسے ہی ہوتے ہیں۔

ششم:۔ مگر ان نقلی اور جعلی سیّدوں کی وجہ سے ہمارے لئے یہ جائز نہیں ہوگا کہ ہم اولادِ رسول کی توہین و گستاخی کریں۔ ایک بزرگ کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک بار ان سے کسی صاحب نے اپنی کوئی ضرورت و حاجت مندی ذکر کی اور کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سے ہوں، مجھ سے تعاون فرمائیے۔ ان (بزرگ) کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا کہ اس کی کیا دلیل ہے کہ تم اولادِ رسول ہو؟ وہ صاحب اس کا کیا جواب دیتے؟ خاموش رہ گئے۔ رات کو وہ بزرگ خواب دیکھتے ہیں کہ میدانِ محشر قائم ہے اور لوگ شفاعت کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ عالی میں حاضر ہو رہے ہیں، یہ بزرگ بھی حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کا اُمتی ہوں، میری بھی شفاعت فرمائیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: تمہارے اُمتی ہونے کی کیا دلیل ہے؟ اگر میری اولاد کا اولاد ہونا بغیر دلیل کے قابلِ تسلیم نہیں تو تمہارا اُمتی ہونا بغیر دلیل کے کیسے تسلیم کیا جائے؟ اس بزرگ کو اپنی غلطی پر تنبیہ ہوئی، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کی۔

بہت سے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج و احباب (رضی اللہ عنہم) کے حق میں گستاخیاں کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں اب بعض لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آل و اولاد کی بے ادبی کرنے لگے ہیں۔ جن صاحب کی موٹی سی کتاب کا آپ نے حوالہ دیا ہے، مجھے ان صاحب کے بارے میں معلوم ہے کہ اس کا تعلق بھی اسی گروہ سے ہے، اور یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آل و اولاد کے خلاف نفرت و بغض کا اظہار کرنے کے لئے وقتاً فوقتاً مختلف شوشے چھوڑتے رہتے ہیں، جن کا عقل و ایمان سے دُور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا۔ میں آپ سے مؤدّبانہ ومخلصانہ التماس کروں گاکہ آپ اس گرداب میں مبتلا نہ ہوں۔ ’’سیّد‘‘ اگر سردار کو کہتے ہیں تو خود ہی سوچئے کہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد ہماری سردار نہیں تو کیا ہے؟ پس اگر ان کو اِصطلاحِ عرفی کے طور پر ’’سیّد‘‘ کہا جائے تو ناگواری کی وجہ کیا ہے؟ کیا ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد ہمارے لئے لائقِ اِحترام نہیں؟ اگر ہم ان کو احتراماً ’’سیّد‘‘ کہتے ہیں تو آخر یہ کس دلیلِ عقلی یا شرعی سے ممنوع ہے؟

ہفتم:۔ اللہ تعالیٰ نے برادریاں، خاندان، قومیں، ذاتیں خود بنائی ہیں، جیسا کہ خود فرمایا ہے: ﵟ وَجَعَلۡنَٰكُمۡ شُعُوبٗا وَقَبَآئِلَ ﵞالحجرات:١٣اور اس میں بہت سی مصلحتیں رکھی ہیں جن کی طرف ﵟ لِتَعَارَفُوٓاْ ﵞکے لفظ سے اشارہ فرمایا ہے، اور اس میں شک نہیں کہ صفات و اخلاق اور ملکات بیشتر ’’أَبًا عنْ جَدٍّ‘‘ منتقل ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بعض خاندان اپنی خاندانی روایات اور اخلاق و صفات کی بنا پر ممتاز سمجھے جاتے ہیں اور دُوسرے بعض خاندان اس اخلاقی معیار کو قائم کرنے سے قاصر رہتے ہیں، یہ بات روزمرّہ مشاہدے کی ہے، جس پر کسی استدلال کی ضرورت نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعض خاندانوں کے تفوّق کو برقرار رکھا ہے، چنانچہ مشہور ارشاد ہے: ’’انسانوں کی بھی کانیں ہیں، جس طرح سونے چاندی کی کانیں ہوتی ہیں، جو لوگ جاہلیت میں شریف و معزَّز تھے وہ اسلام میں بھی بہتر و معزَّز ہوں گے، جبکہ دِین کا فہم حاصل کرلیں(۵)۔‘‘ اس ارشاد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاندانوں کو سونے چاندی کی کانوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ بعض کانیں اعلیٰ اور عمدہ ہوتی ہیں اور بعض ناقص اور گھٹیا۔ علاوہ ازیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاندانِ قریش کے فضائل بیان فرمائے ہیں، جو حدیث کے ہر طالبِ علم کو معلوم ہیں۔(۶)

ہشتم:۔ بعض خاندانوں کا بعض سے اعلیٰ و اشرف ہونا تو عقلاً و شرعاً مُسلَّم ہے، لیکن اس مسئلے میں دو سنگین غلطیاں کی جاتی ہیں، اوّل یہ کہ بعض لوگ خاندانوں کو غرور اور فخر کا ذریعہ سمجھتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزّت و کرامت کی چیز خاندان نہیں، بلکہ آدمی کا ذاتی نامۂ عمل ہے، جیسا کہ: ﵟ إِنَّ أَكۡرَمَكُمۡ عِندَ ٱللَّهِ أَتۡقَىٰكُمۡ ﵞالحجرات:١٣میں صراحتاً بیان فرمایا ہے، پس ذاتی اعمال سے قطعِ نظر کرکے کسی شخص کا سیّد، قریشی، ہاشمی، صدیقی، فاروقی ہونے پر فخر کرنا اور ان نسبتوں کو فخر کے طور پر اپنے نام کے ساتھ چسپاں کرنا، اس کی حماقت اور مردودیت کی علامت ہے، احادیث شریفہ میں نسب پر فخر کرنے کی شدید مذمت آئی ہے۔(۷)

دُوسری غلطی اس کے برعکس یہ کی جاتی ہے کہ معزّز خاندانوں کی توہین و تنقیص کی جاتی ہے اور دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ اسلام میں نسب اور خاندان کوئی چیز ہی نہیں، یہ بات اس حد تک تو صحیح ہے کہ قرب عنداللہ میں خاندان کو کوئی دخل نہیں بلکہ اس کا مدار اعمالِ صالحہ کی بدولت ولایت کے اعلیٰ ترین مقامات طے کرسکتا ہے اور دُوسرا شخص اعلیٰ ترین خاندان میں پیدا ہوکر اپنی بدعملی و بدکرداری کی وجہ سے جہنم کا کندہ بن سکتا ہے۔ شیخ سعدیؒ لکھتے ہیں کہ: ’’ایک اعرابی اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہا تھا کہ بیٹا! عمل کر، قیامت کے دن یہ پوچھا جائے گا کہ تو کیا کماکر لایا؟ یہ نہیں پوچھیں گے کہ تیرا نسب نامہ کیا تھا؟‘‘ الغرض کسی فرد کی فضیلت و بزرگی کا مدار خاندان پر نہیں بلکہ علم و عمل اور زُہد و تقویٰ پر ہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے دُنیوی مصالح کے لئے خاندان اور شعوب و قبائل بنائے ہیں،(۸) اور ان پر کفو وغیرہ کے بعض مسائل بھی جاری ہوتے ہیں، مثلاً: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے لئے زکوٰۃ حلال نہیں۔(۹) اس لئے خاندانوں کا انکار کرنا اور شریف خاندانوں کی فضیلت کو پامال کرنا غلط ہے، درحقیقت اس کا منشا بھی کبر ہے۔

نہم:۔ خاندانوں پر فخر اور غرور کا ایک شعبہ یہ ہے کہ سیّد خاندان کی لڑکی کا غیرسیّد لڑکے سے نکاح جائز نہیں سمجھا جاتا، حالانکہ والدین کی رضامندی سے سیّد لڑکی کا نکاح کسی بھی مسلمان سے ہوسکتا ہے، البتہ والدین کی رضامندی کے بغیر چونکہ بہت سی خاندانی اُلجھنیں پیدا ہوجاتی ہیں، اس لئے غیرکفو میں لڑکی کا والدین کی رضامندی کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا۔ تاریخ کی کتابوں میں ہے کہ سادات کے جدِ اَمجد حضرت علی بن حسین (رضی اللہ عنہما) نے جو ’’زین العابدین‘‘ کے لقب سے مشہور ہیں، اپنے غلام کو آزاد کرکے اپنی ہمشیرہ کا نکاح اس کے ساتھ کردیا، اور اپنی باندی کو آزاد کرکے اپنا نکاح اس سے کرلیا۔ اُموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے ان کو پیغام بھیجا کہ: ’’آپ نے خاندانِ قریش کی ناک کاٹ دی، آپ کی ہمشیرہ کے لئے اعلیٰ خاندان میں رشتے مل سکتے ہیں، مگر آپ نے اسے ایک غلام کے حبالۂ عقد میں دے دیا، اور آپ کو اپنے لئے اُونچے سے اُونچا رشتہ مل سکتا تھا مگر آپ نے ایک باندی کو آزاد کرکے بیوی بنالیا۔‘‘

جواب میں حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا: ’’تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔ (یہ قرآنِ کریم کی آیت کا ایک ٹکڑا ہے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ کو آزاد کرکے اپنی (پھوپھی زاد) بہن (حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا) کا عقد ان سے کردیا، اور حضرت صفیہ (رضی اللہ عنہا) کو آزاد کرکے ان سے اپنا عقد کرلیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو زندہ کیا ہے۔‘‘(۱۰)

مجھے اُمید ہے کہ آپ کے سوال نامے کے جواب میں یہ مختصر اِشارات کافی ہوں گے، وَ للّٰہِ الْحَمْدُ اَوَّلًا وَّآخِرًا!

  1. (۱) عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أحبوا اللہ لما یغذوکم من نعمہ وأحبّونی بحبّ اللہ وأحبّوا أھل بیتی بحُبّی۔ (ترمذی ج:۲ ص:۲۱۹، مناقب أھل بیت)۔
  2. (۲) عن الحسن (البصری) أنہ سمع أبا بکرۃ سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی المنبر والحسن إلٰی جانبہ ینظر إلی الناس مرّۃً وإلیہ مرّۃً، ویقول: ابنی ھٰذا سیّدٌ ولعلّ اللہ أن یصلح بہ بین فئتین من المسلمین۔ (صحیح البخاری ج:۱ ص:۵۳۰، مناقب الحسن والحسین)۔
  3. (۳) جامع الترمذی ج:۲ ص:۲۱۷، باب مناقب أبو محمد الحسن بن علی بن أبی طالب والحسین ۔۔۔إلخ۔
  4. (۴) وروی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: من ادعی إلٰی غیر أبیہ وھو یعلم انہ غیر أبیہ فالجنّۃ علیہ حرام۔ (أحکام القرآن للجصاص ج:۳ ص:۳۵۴، زیر آیت: ادعوھم لِاٰبائھم، طبع سھیل اکیڈمی)۔
  5. (۵) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الناس معادن کمعادن الذھب والفضۃ خیارھم فی الجاھلیۃ خیارھم فی الْإسلام إذا فقھوا، رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۳۲، کتاب العلم، الفصل الأوّل)۔
  6. (۶) عن جابر بن سمرۃ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: لَا یزال الْإسلام عزیزًا إلی اثنی عشر خلیفۃ کلھم من قریش، وفی روایۃ لَا یزال أمر الناس ماضیًا ما ولھم اثنا عشر رجلًا کلھم من قریش۔ (مشکٰوۃ ج:۲ ص:۵۵۰، باب مناقب قریش وذکر القبائل)۔
  7. (۷) عن أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لینتھیّن أقوام یفتخرون بآبائھم الذین ماتوا إنما ھم فحمٌ من جھنّم أو لیکوننّ أھون علی اللہ من الجُعل الذی یدھدہ الخراء بأنفہ إن اللہ قد أذھب عنکم غبیۃ الجاھلیۃ وفخرھا بالآباء إنما ھو مؤمن تقیّ أو فاجر شقی الناس کلھم بنو آدم وآدم من تراب۔ رواہ الترمذی وأبوداوٗد۔ (مشکٰوۃ ج:۲ ص:۴۱۷، باب المفاخرۃ والعصبیۃ، طبع قدیمی کتب خانہ)۔
  8. (۸) ﵟ وَجَعَلۡنَٰكُمۡ شُعُوبٗا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓاْ ﵞ سورة الحجرات ١٣
  9. (۹) قال (ای محمد بن زیاد) سمعت أبا ھریرۃ قال: أخذ الحسن بن علی تمرۃ من تمرۃ الصدقۃ فجعلھا فی فیہ فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: کخٍ کخٍ لیطرحھا ثم قال أما شعرت إنّا لَا نأکل الصدقۃ۔ (بخاری ج:۱ ص:۲۰۲، کتاب الزکٰوۃ، باب ما یذکر فی الصدقۃ للنبی صلی اللہ علیہ وسلم وآلہ، طبع نور محمد)۔
  10. (۱۰) أخبرنا علیّ بن محمد عن عثمان بن عثمان قال: زوج علیّ بن حسین ابنۃ من مولَاۃ وأعتق جاریۃ لہ وتزوّجھا، فکتب إلیہ عبدالملک بن مروان یعیّرہ بذٰلک فکتب إلیہ علیّ: قد کان لکم فی رسول اللہ أُسوۃ حسنۃ، قد أعتق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیۃ بنت حُیّی وتزوجھا وأعتق زید بن حارثۃ وزوجّہ ابنۃ عمّتہ زینب بنت جحش۔ (طبقات ابن سعد ج:۵ ص:۲۱۴)۔