ناموںسےمتعلق
’’سیّد‘‘کیتعریف
سوال:۔
سیّد کون ہے؟ کیا یہ کوئی اِعزاز ہے؟ یا خونی رِشتے کی وجہ سے ہوتا ہے؟ اگر خونی رِشتے سے ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرینہ اولاد نہ تھی، اور مسلمانوں کے ہاں نسب والد کی طرف سے ثابت ہوتا ہے۔ اور اگر بیٹی حضرت فاطمہؓ کی اولاد سیّد ہے تو دُوسری بیٹیوں کی اولاد سیّد کیوں نہیں ٹھہرائی گئی؟ کیا حضرت علیؓ سے شادی کی وجہ سے ایسا ہے؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﵟ إِنَّ أَكۡرَمَكُمۡ عِندَ ٱللَّهِ أَتۡقَىٰكُمۡ ﵞاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’کُلُّ تَقِیٍّ وَّنَقِیٍّ فَہُوَ اٰلِیْ‘‘ دُوسری طرف یہ دیکھا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسنؓ کو ایک کھجور کھانے سے منع فرمایا کہ وہ صدقہ ہے آیا ہوا ہے، فرمایا کہ صدقہ ہمارے لئے جائز نہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنی اولاد سمجھتے تھے (خونی رِشتے کے اِعتبار سے)۔ اسی لئے غالباً لوگ کہتے ہیں کہ صدقہ، زکوٰۃ وغیرہ سادات کے لئے ناجائز ہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ درحقیقت سیّد کون ہے؟ جبکہ شیعہ حضرات خود کو سیّد سمجھتے ہیں، کیا یہ رِشتہ داری کی وجہ سے یا مسلک کی وجہ سے؟
جواب:۔
’’سیّد‘‘ کے لغوی معنی: رئیس، سردار، مخدوم اور آقا کے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اولادِ اَمجاد کا ہمارے لئے مخدوم اور سردار ہونا ایک ایسی بدیہی بات ہے کہ میرے خیال میں کوئی مسلمان اس کی دلیل کا محتاج نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سبطِ اکبر سیّدنا حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمانا: ’’اِنَّ ابْنِیْ ھٰذَا سَیِّدٌ ۔۔۔ اِلٰخ‘‘ دونوں دعووں کی دلیل ہے۔ ایک اولادِ فاطمہؓ کو اپنا بیٹا فرمانا، دُوسرے ان کو ’’سیّد‘‘ فرمانا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذُرّیتِ طیبہ اور اولادِ اَطہار کا سلسلہ بجائے صاحبزادوں کے صاحبزادی سے چلنا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے۔ چنانچہ حافظ سیوطیؒ نے ’’خصائص کبریٰ‘‘ میں ایک مستقل باب اس پر قائم کیا ہے: ’’بَابُ اخْتِصَاصِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، اِنَّ اَوْلَادَ بَنَاتِہٖ یُنْسَبُ اِلَیْہِ ۔۔۔ اِلٰخ‘‘آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر بناتِ طاہراتؓ سے اولاد کا سلسلہ نہیں چلا، ورنہ ان کے سیّد ہونے میں بھی کوئی شبہ نہ تھا۔
بے شک عنداللہ مقبولیت کا مدار اِیمان وتقویٰ پر ہے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اولادِ اَطہار کا ہمارے لئے واجب الاحترام ہونا بوجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلقِ نسبی کے امرِ آخر ہے، ان سے محبت فرع ہے محبتِ نبوی کی، اور ان کی تعظیم فرع ہے تعظیمِ نبوی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولادِ اَمجاد کے لئے صدقے کا حرام ہونا بھی اسی عظمت ومحبت کی ایک شاخ ہے۔ کیونکہ صدقہ میل وکچیل ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے خاندان کو، لوگوں کے میل وکچیل سے پاک رکھا گیا ہے۔ ہدیہ چونکہ علامت ہے خلوص ومحبت کا، اس لئے ہدیہ ان کے لئے حلال اور طیب ہے۔
’’سیّد‘‘ کون ہوتا ہے؟ یہ تو اُوپر عرض کرچکا۔ جو لوگ حضرات ابوبکر اور عمر وعثمان رضی اللہ عنہم سے کینہ رکھتے ہیں، وہ سیّد نہیں، ایسے لوگوں کا اپنے آپ کو سیّد کہنا بدترین جرم ہے، جن کا سلسلۂ نسب تک مشتبہ ہے۔

