بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناموں‌سے‌متعلق

اپنے‌نام‌کے‌ساتھ‌’’شاہ‘‘‌لکھنا‌یا‌کسی‌کو‌’’شاہ‌جی‘‘‌کہنا‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

ایک حدیث میں نے پڑھی تھی، کمی بیشی اللہ تعالیٰ معاف فرمائے، جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے نام کے ساتھ ’’شاہ‘‘ لکھے یا کہلوائے، جیسے ’’شاہ جی‘‘، ’’شاہ صاحب‘‘ وغیرہ تو وہ شخص گناہ گار ہوگا، کیونکہ یہ نام صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو ہی زیب دیتا ہے، کیا یہ بات صحیح ہے؟

جواب:۔

حدیث میں ’’شہنشاہ‘‘ کہلوانے کی ممانعت آئی ہے، جس کے معنی ہیں ’’بادشاہوں کا بادشاہ‘‘، یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے۔ ’’سیّد‘‘ وغیرہ کو جو ’’شاہ صاحب‘‘ کہتے ہیں، اس کی ممانعت نہیں۔(۱)

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ روایۃً قال: أخنع إسم عند اللہ وقال سفیان غیر مرّۃ أخنع الأسماء عند اللہ رجل تسمّٰی ملک الأملاک، قال سفیان یقول غیرہ تفسیرہ شاھان شاہ۔ (صحیح البخاری ج:۲ ص:۹۱۶، کتاب الأدب، بابٌ أبغض الأسماء إلی اللہ تبارک وتعالٰی)۔