ناموںسےمتعلق
شرعاًکونسےنامرکھنامنعہیں؟
سوال:۔
خدمتِ اقدس میں عرض یہ ہے کہ میرا گھر مسجد کے پڑوس میں ہے، اور مسجد کے اِمام صاحب کے وعظ ونصیحت اور درس کی آواز بآسانی پہنچتی ہے، میں بہت پابندی سے سنتی ہوں۔ ایک دِن درس میں انہوں نے چند نام شمار کرائے جن کا رکھنا شرعاً جائز فرمایا، جن میں سے ایک نام ’’فرحان‘‘ مجھے یاد ہے۔ آنجناب سے اِستدعا ہے کہ وہ تمام اسماء جن کے رکھنے کی حدیث میں ممانعت آئی ہے، یا شرعاً ناجائز ہیں، برائے مہربانی انہیں تحریر فرمادیں تاکہ ان ناموں کے رکھنے سے بچ سکیں۔
جواب:۔
بہتر صورت تو یہ ہے کہ کوئی بھی نام رکھنے سے قبل کسی مستند عالم سے رُجوع کرلیا جائے، کیونکہ آج کل عوام جہالت کی وجہ سے غلط اور بازاری نام رکھ لیتے ہیں، مثلاً: زنار، انیل، وغیرہ۔ البتہ احادیث میں چند ناموں سے منع کیا گیا ہے: یسار، رباح، نجیح، افلح، برکت، برہ، عاصیہ، حرب، مزّہ، اَصرم، یعلی، ملک الاملاک (شہنشاہ)۔ (۱) البتہ بعد میں: افلح، یسار، برکت، نافع، یعلی نام رکھنے سے منع کرنا ترک فرمادیا تھا۔(۲)
- (۱) عن سمرۃ بن جندب قال: نھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان نسمی رقیقنا بأربعۃ أسماء: أفلح ورباح ویسار ونافع ۔۔۔ وفی روایۃ ۔۔۔ ولَا نجیحًا ۔۔۔ وفی روایۃ جابر ۔۔۔ بیعلٰی وببرکۃ، وفی روایۃ ابن عمر ۔۔۔ غیر اسم عاصیۃ وقال انت جمیلۃ وفی روایۃ ۔۔۔ برہ ۔۔۔ وفی روایۃ ملک الأملاک ۔۔۔إلخ۔ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۰۷، ۲۰۸، کتاب الآداب، باب استحباب تغییر الْإسم القبیح إلٰی حسن، طبع میر محمد کتب خانہ)۔
- (۲) قال: أخبرنی أبو زبیر انہ سمع جابر بن عبداللہ یقول: أراد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان ینھی عن أن یسمی بیعلی وببرکۃ وبأفلح وبیسار وبنافع وبنحو ذالک ثم رأیتہ سکت بعد عنھا فلم یقل شیئًا ثم قبض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولم ینہ عن ذالک ثم أراد عمر أن ینھی عن ذالک ثم ترکہ۔ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۰۷، باب کراھۃ التسمیۃ بالأسماء القبیحۃ وبنافع ونحوہ، طبع قدیمی کتب خانہ)۔

