بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناموں‌سے‌متعلق

لڑکی‌کا‌نام‌’’صنم‘‘‌رکھنا‌اچھا‌نہیں،‌تبدیل‌کردیں

سوال:۔

ہمارے ایک بھائی نے اپنی بیٹی کا نام ’’صنم‘‘ رکھا ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے رشتہ دار مولانا صاحب نے پسند کیا ہے، ہوا یہ کہ جب میں نے ان کو عدیلہ، زینت، فرحت اور صنم وغیرہ ناموں میں سے کوئی ایک تجویز کرنے کا کہا تو انہوں نے صنم پسند کیا، اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اگرچہ صنم کے معنی بت کے ہیں، لیکن بت (مجسمہ اور ذات) تو ہر شے کا ہوتا ہے، اور اس کے بغیر تو کوئی چیز ممکن الوجود ہی نہیں ہے۔ میں نے ان صاحب سے کہا کہ صنم چونکہ بت کو ہی کہا جاتا ہے اور بت وہی ہوتا ہے عرف میں جس کی اَزراہِ شرک عبادت اور پرستش ہوتی ہے، اور دوم یہ کہ صنم ایک بازاری لفظ ہے جس کو بدکردار اوباش اور ہوس پرست لوگ اپنی محبوباؤں کے لئے بکثرت اِستعمال کرتے ہیں، اس لئے آپ کوئی دُوسرا مناسب نام رکھیں تو بہتر ہوگا۔ مگر وہ تو ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں اور ان کا اِصرار ہے کہ صنم اچھا اور عمدہ نام ہے جو مختصر بھی ہے اور ایک عالمِ دِین کا پسندکردہ بھی۔ اب آپ سے درخواست ہے کہ اس نام کی شرعی خوبی بدی، اور حیثیت واضح فرماکر شکریہ کا موقع دیں۔

جواب:۔

’’صنم‘‘ اچھا نام نہیں، وجوہات آپ نے صحیح ذِکر کی ہیں، بہتر ہے کہ اس نام کو بدل لیں، کوئی اچھا نام رکھیں،(۱) واللہ اعلم!

  1. (۱) التسمیۃ بإسم لم یذکرہ اللہ تعالٰی فی عبادہ ولَا ذکرہ رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم ولَا یستعملہ المسلمون تکلموا فیہ، والأولٰی أن لَا یفعل۔ (فتاویٰ شامی ج:۶ ص:۴۱۷، فصل فی البیع)۔