بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناموں‌سے‌متعلق

’’نائلہ‘‘‌نام‌رکھنا

سوال:۔

’’نائلہ‘‘ کیا عربی لفظ ہے؟ اس کے کیا معنی ہیں؟ میں نے سنا ہے کہ یہ عزیٰ، لات اور نائلہ وغیرہ بتوں کے نام ہیں، جن کی کسی زمانے میں پوجا کی جاتی تھی، لیکن آج کل ’’نائلہ‘‘ نام لڑکیوں کا بڑے شوق سے رکھا جارہا ہے، کیا شرعاً ’’نائلہ‘‘ نام رکھنا جائز ہے؟

جواب:۔

جی ہاں! نائلہ عربی لفظ ہے، جس کے معنی ہیں: ’’عطیہ، سخی، حاصل کرنے والی‘‘۔ یہ بعض صحابیات کا بھی نام تھا ۔۔۔اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ کا بھی۔۔۔ اگر یہ ناجائز ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کو تبدیل کرنے کا حکم فرماتے۔(۱)

  1. (۱) مثلًا: نائلۃ بنت الربیع بن قیس بن عامر ۔۔۔ الأنصاریۃ أخت عبداللہ بن الربیع البدری ۔۔۔ فأسلمت وبایعت، نائلۃ بنت سلامۃ بن وقش ۔۔۔ ذکرھا ابن سعد وقال: أسلمت وبایعت۔ نائلۃ بنت عبید بن الحر بن عمرو بن الجعد ۔۔۔ الأنصاریۃ من بنی ساعدۃ ذکرھا ابن حبیب فی المبایعات ۔۔۔إلخ۔ (الْإصابۃ فی تمییز الصحابۃ ج:۴ ص:۴۱۶، ۴۱۷، حرف النون القسم الأول، طبع دار صادر، بیروت)۔