بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناموں‌سے‌متعلق

’’عبدالمصطفیٰ‘‘‌اور‌’’غلام‌اللہ‘‘‌نام‌رکھنا

سوال:۔

’’عبدالمصطفیٰ‘‘ اور ’’غلام اللہ‘‘ نام رکھنا کیسا ہے؟ جبکہ ’’عبد‘‘ کے معنی بندے اور ’’غلام‘‘ کے معنی بیٹے کے ہیں؟

جواب:۔

’’عبدالمصطفیٰ‘‘ کے نام سے بعض اکابر نے منع فرمایا ہے کہ اس میں عبدیت کی نسبت غیراللہ کی طرف ہے۔(۱) ’’غلام اللہ‘‘ میں غلام کے معنی ’’عبد‘‘ کے ہیں۔ ’’غلام‘‘ کے معنی بیٹے کے نہ متبادر ہیں، نہ مراد ہیں، اس لئے یہ نام صحیح ہے،(۲) واﷲ اعلم!

  1. (۱) قال العلّامۃ ابن عابدین: ولَا یسمّیہ حکیمًا ولَا أبا الحکم ولَا أبا عیسٰی ولَا عبد فلان ۔۔۔ ویؤخذ من قولہ ولَا عبد فلان منع التسمیۃ بعبدالنبی، ونقل المناوی عن الدمیری انہ قیل بالجواز بقصد التشریف بالنسبۃ والأکثر علی المنع خشیۃ إعتقاد حقیقۃ العبودیۃ کما لَا یجوز عبدالدار۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۴۱۸، فصل فی البیع)۔
  2. (۲) ویلحق ۔۔۔ أی عبداللہ وعبدالرحمٰن ما کان مثلھما کعبدالرحیم وعبدالملک، وتفضیل التسمیۃ بھما محمول علٰی من أراد التسمّی بالعبودیۃ لأنھم کانوا یسمّون عبدشمس وعبدالدار۔ (شامی ج:۶ ص:۴۱۷)۔