بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناموں‌سے‌متعلق

’’عبدالرحمن،‌عبدالرزّاق‘‘‌کو‌’’رحمن‘‘‌اور‌’’رزّاق‘‘‌سے‌پکارنا

سوال:۔

’’عبدالرحمن، عبدالخالق، عبدالرزّاق‘‘ ہمارے ہاں عام رواج یہ ہے کہ ’’عبد‘‘ کو چھوڑ کر صرف ’’رحمن، خالق اور رزّاق‘‘ وغیرہ کہہ کر پکارتے ہیں، اس طرح کے نام تو اللہ تعالیٰ کے ہیں، کیا یہ ناموں کی بے ادبی نہیں ہے؟

جواب:۔

’’عبد‘‘ کا لفظ ہٹاکر اللہ تعالیٰ کے ناموں کے ساتھ بندے کو پکارنا نہایت قبیح ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نام دو قسم کے ہیں، ایک قسم ان اسمائے مبارکہ کی ہے جن کا استعمال دُوسرے کے لئے ہو ہی نہیں سکتا، جیسے: ’’اللہ، رحمن، خالق، رزّاق‘‘ وغیرہ۔ ان کا غیراللہ کے لئے استعمال کرنا قطعی حرام اور گستاخی ہے، جیسے کسی کا نام ’’عبداللہ‘‘ ہو اور ’’عبد‘‘ کو ہٹاکر اس شخص کو ’’اللہ صاحب‘‘ کہا جائے، یا ’’عبدالرحمن‘‘ کو ’’رحمن صاحب‘‘ کہا جائے، یا ’’عبدالخالق‘‘ کو ’’خالق صاحب‘‘ کہا جائے، یہ صریح گناہ اور حرام ہے۔(۱) اور دُوسری قسم ان ناموں کی ہے جن کا استعمال غیراللہ کے لئے بھی آیا ہے، جیسے قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’رؤف رحیم‘‘ فرمایا گیا ہے، ایسے ناموں کے دُوسرے کے لئے بولنے کی کسی حد تک گنجائش ہوسکتی ہے، لیکن ’’عبد‘‘ کے لفظ کو ہٹاکر اللہ تعالیٰ کا نام بندے کے لئے استعمال کرنا ہرگز جائز نہیں۔ بہت سے لوگ اس گناہ میں مبتلا ہیں اور یہ محض غفلت اور بے پروائی کا کرشمہ ہے۔(۲)

  1. (۱) قال أبو اللیث: لَا أحب للعجم أن یسمّوا عبدالرحمٰن وعبدالرحیم، لأنھم لَا یعرفون تفسیرہ ویسمّونہ بالتصغیر۔ تتارخانیۃ۔ وھٰذا مشتھر فی زماننا، حیث ینادون من اسمہ عبدالرحیم وعبدالکریم أو عبدالعزیز مثلًا فیقولون: رحیم وکریم وعزیز ۔۔۔ ومن إسمہ عبدالقادر قویدر وھٰذا مع قصدہ کفر۔ (شامی ج:۶ ص:۴۱۷، فصل فی البیع)۔ أیضًا: ومن قال لمخلوق: یا قدوس، أو القیوم، أو الرحمٰن، أو قال اسمًا من أسماء اللہ الخالق، کفر۔ انتھٰی۔ وھو یفید أنہ من قال لمخلوق: یا عزیز ونحوھم یکفر أیضًا، إلّا إن أراد بھما المعنی اللغوی، والأحوط أن یقول: یا عبدالقدیر یا عبدالرحمٰن۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۱۹۳ طبع قدیمی)۔
  2. (۲) والتسمیۃ بإسم یوجد فی کتاب اللہ کالعلی والکبیر والرشید والبدیع جائزۃ، لأنہ من الأسماء المشترکۃ ویراد فی حق العباد غیر ما یراد فی حق اللہ تعالٰی، کذا فی السراجیۃ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۵ ص:۳۶۲ کتاب الکراھیۃ)۔