بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناموں‌سے‌متعلق

’’محمد‘‘‌نام‌پر‌’’‌ؐ‘‘‌کا‌نشان‌لگانا

سوال:۔

کیا ’’محمد‘‘ کے نام کے ساتھ ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ یا ’ ’ ؐ‘‘ لکھنا ضروری ہے؟ میں نے اکثر ’’محمد‘‘ کے نام کے ساتھ ’’ ؐ‘‘ لکھا ہوا دیکھا ہے، اگر لکھنا ضروری ہے تو کیا اس طرح بھی کہ روزنامہ ’’جنگ‘‘ اخبار کے فلمی صفحے کی اشاعت میں فلم ’’محمد بن قاسم‘‘ کے ’’محمد‘‘ کے اُوپر بھی ’’ ؐ‘‘ لگا تھا۔ نعوذ باللہ اس کا مفہوم دُوسرا نکلتا ہے، یہ کیوں؟

جواب:۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نامِ نامی سن کر دُرود پڑھنا ضروری ہے،(۱) اور قلم سے لکھنا بہت اچھی بات ہے۔(۲) مگر جب یہ اسمِ مبارک کسی اور شخص کے نام کا جز ہو، اس وقت اس پر ’’ ؐ‘‘ کا نشان نہیں لگانا چاہئے، کیونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہیں ہوتا۔(۳)

  1. (۱) والآیۃ تدل علٰی وجوب الصلٰوۃ والسلام فی الجملۃ ولو فی العمر مرۃ وبہ قال أبوحنیفۃ ۔۔۔إلخ۔ (تفسیر مظھری ج:۷ ص:۳۷۴، طبع مکتبہ اشاعت العلوم، دھلی)۔
  2. (۲) مسئلۃ: قد استحب أھل الکتابۃ أن یکرر الکاتب الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم کلما کتبہ ۔۔۔إلخ۔ (ابن کثیر ج:۵ ص:۲۲۷ طبع رشیدیہ، سورۃ الأحزاب)۔ أیضًا: وقال بعض أھل الحدیث: کان لی جار فمات فرؤی فی المنام فقیل لہ: ما فعل اللہ بک؟ قال: غفر لی! قیل: بم ذاک؟ قال: کنت إذا کتبتُ ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الحدیث کتبت ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘۔ (جلاء الأفھام فی الصلٰوۃ والسلام علی خیر الأنام ص:۲۳۰)۔
  3. (۳) قال الجمھور من العلماء: لَا یجوز أفراد غیر الأنبیاء بالصلاۃ لأن ھٰذا قد صار شعارًا للأنبیاء إذا ذکروا ۔۔۔إلخ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۵ ص:۲۲۸ سورۃ الأحزاب، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔