ناموںسےمتعلق
لفظِ’’محمد‘‘کواپنےنامکاجزبنانا
سوال:۔
شرعی اعتبار سے کیا ’’محمد‘‘ کا لفظ اپنے نام کے ساتھ لگانا دُرست ہے یا نہیں؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ نام زمین پر لکھا ہوا گر جائے تو کیا اس کی بے ادبی نہیں ہوتی؟ اور کیا اس کو اپنے نام کے ساتھ نہ لگایا جائے تو بہتر ہوگا؟
جواب:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ گرامی اپنے نام کے ساتھ ملانا دُرست ہے،(۱) بلکہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نامِ نامی پر بچے کا نام ’’محمد‘‘ رکھا جائے تو اس کی فضیلت حدیث میں آئی ہے۔(۲) اس پاک نام کا زمین پر گرانا بے ادبی ہے، کہیں مل جائے تو ادب و احترام کے ساتھ اُٹھاکر کسی ایسی جگہ رکھ دیا جائے جہاں بے ادبی کا اندیشہ نہ ہو۔
- (۱) عن أنس رضی اللہ عنہ قال ۔۔۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تسموا بإسمی ولَا تکتنوا بکنیتی۔ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۰۶ کتاب الأدب)۔ أیضًا: ان إسم محمد وأحمد أحب إلی اللہ تعالٰی من جمیع الأسماء فإنہ لم یختر لنبیّہ إلّا ما ھو أحب إلیہ۔ (فتاویٰ شامی ج:۶ ص:۴۱۷، فصل فی البیع)۔
- (۲) وورد من ولد لہ مولود فسماہ محمدًا کان ھو ومولودہ فی الجنّۃ، رواہ ابن عساکر عن أمامۃ رفعہ۔ (فتاویٰ شامی ج:۶ ص:۴۱۷، فصل فی البیع)۔

