ناموںسےمتعلق
ناموںمیںتخفیفکرنا
سوال:۔
میرا پورا نام ’’عبدالقادر‘‘ ہے، مگر تعلیمی اسناد میں مجھے ’’قادر‘‘ لکھا گیا ہے جو کہ میرے لئے ایک پریشان کن مسئلہ ہے، اور ’’قادر‘‘ سے ’’عبدالقادر‘‘ کروانا بہت ہی پیچیدہ طریقۂ کار ہے، اس لئے میں اپنا نام ’’قادر‘‘ ہی رکھنا چاہتا ہوں۔ عام طور پر لوگ بھی مجھے ’’قادر‘‘ ہی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں جبکہ یہ نام خدا کی صفت ہے، اس نام کے کیا اوصاف ہیں؟ کیا میں یہ نام رکھ سکتا ہوں؟
جواب:۔
’’القادر‘‘ اللہ تعالیٰ کا پاک نام ہے، اور ’’عبدالقادر‘‘ کے معنی ہیں: ’’قادر کا بندہ‘‘، اور جب ’’عبدالقادر‘‘ کی جگہ صرف ’’قادر‘‘ کہنے لگے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ بندے کا نام اللہ تعالیٰ کے نام پر رکھ دیا گیا اور اس کا گناہ ہونا بالکل واضح ہے۔(۱)
حضرت مفتی محمد شفیعؒ ’’معارف القرآن‘‘ جلد:۴ صفحہ: ۱۳۲ میں لکھتے ہیں:
’’افسوس ہے کہ آج کل عام مسلمان اس غلطی میں مبتلا ہیں، کچھ لوگ تو وہ ہیں جنھوں نے اسلامی نام ہی رکھنا چھوڑ دئیے، ان کی صورت و سیرت سے تو پہلے بھی مسلمان سمجھنا ان کا مشکل تھا، نام سے پتا چل جاتا تھا، اب نئے نام انگریزی طرز کے رکھے جانے لگے، لڑکیوں کے نام خواتینِ اسلام کے طرز کے خلاف خدیجہ، عائشہ، فاطمہ کے بجائے نسیم، شمیم، شہناز، نجمہ، پروین ہونے لگے۔ اس سے زیادہ افسوسناک یہ ہے کہ جن لوگوں کے اسلامی نام ہیں: عبدالرحمن، عبدالخالق، عبدالرزّاق، عبدالغفار، عبدالقدوس وغیرہ ان میں تخفیف کا یہ غلط طریقہ اختیار کرلیا گیا کہ صرف آخری لفظ ان کے نام کی جگہ پکارا جاتا ہے، رحمن، خالق، رزّاق، غفار کا خطاب انسانوں کو دیا جارہا ہے۔ اور اس سے زیادہ غضب کی بات یہ ہے کہ ’’قدرت اللہ‘‘ کو ’’اللہ صاحب‘‘ اور ’’قدرت خدا‘‘ کو ’’خدا صاحب‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ سب ناجائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، جتنی مرتبہ یہ لفظ پکارا جاتا ہے اتنی ہی مرتبہ گناہِ کبیرہ کا ارتکاب ہوتا ہے اور سننے والا بھی گناہ سے خالی نہیں رہتا۔
یہ گناہِ بے لذّت اور بے فائدہ ایسا ہے جس کو ہمارے ہزاروں بھائی اپنے شب و روز کا مشغلہ بنائے ہوئے ہیں اور کوئی فکر نہیں کرتے کہ اس ذرا سی حرکت کا انجام کتنا خطرناک ہے۔‘‘
- (۱) ومن قال لمخلوق: یا قدوس، أو القیوم أو الرحمٰن أو قال أسماء من أسماء اللہ الخالق کفر، انتھٰی۔ وھو یفید أنہ من لمخلوق یا عزیز ونحوھم، یکفر أیضًا، إلّا إن أراد بھما المعنی اللغوی، والأحوط أن یقول: یا عبدالقدیر، یا عبدالرحمٰن۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۲۳۸، طبع مجتبائی، دھلی)۔

