ناموںسےمتعلق
بچوںکےنامرکھنےکاطریقہ
سوال:۔
مسلمان بچے کا نام تجویز کرتے وقت قرآن شریف سے نام کے حروف نکالنا اور بچے کے نام کے حروف کے اعداد اور تاریخِ پیدائش کے اعداد کو آپس میں ملاکر نام رکھنے کا طریقہ کس حد تک دُرست ہے؟ بچے کا نام تجویز کرنے کا صحیح اسلامی طریقہ کیا ہے؟ قرآن و سنت کی رُو سے بتائیں۔
جواب:۔
قرآن و سنت میں علم الاعداد پر اعتماد کرنے کی اجازت نہیں، لہٰذا یہ طریقہ غلط ہے۔(۱) نام رکھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے حسنیٰ کی طرف نسبت کرکے نام رکھے جائیں، اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اپنے بزرگوں کے ناموں پر نام رکھے جائیں۔(۲)
- (۱) ولَا اتّباع قول من ادّعی علم الحروف المتھجیات لأنہ فی معنی الکاھن انتھٰی۔ ومن جملۃ علم الحروف قال المصحف حیث یفتحونہ وینظرون فی أول الصفحۃ أی حرف وافقہ وکذا فی سابع الورقۃ السابعۃ فإن جاء حرف من الحروف المرکبۃ من تخشلاکم حکموا بأنہ غیر مستحسن وفی سائر الحروف بخلاف ذالک۔ وقد صرّح ابن العجمی فی منسکہ وقال: لَا یأخذ الفال من المصحف ۔۔۔إلخ۔ (شرح الفقہ الأکبر ص:۱۸۳، لَا یأخذ الفال من المصحف، طبع مجتبائی دھلی)۔
- (۲) عن ابن عمر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن أحب أسمائکم إلی اللہ عبداللہ وعبدالرحمٰن۔ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۰۶، کتاب الآداب، باب النھی عن التکنی بأبی القاسم وبیان ما یستحب من الأسماء)۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: سمّوا بأسماء الأنبیاء ولَا تسمّوا بأسماء الملائکۃ۔ (فیض القدیر شرح جامع الصغیر ج:۷ ص:۳۵۵۳ طبع بیرورت)۔ أیضًا: عن أبی وھب الجشمی وکانت لہ صحبۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: تسموا بأسماء الأنبیاء، أحب الأسماء إلی اللہ عبداللہ وعبدالرحمٰن ۔۔۔إلخ۔ (سنن أبی داوٗد، ج:۲ ص:۳۲۰، کتاب الأدب، باب فی تغییر الأسماء)۔

